جسٹس خلیل الرحمن رمدے کا قابلِ تقلید جذبہ

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے سپریم کورٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد اب دوبارہ سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا ہے لیکن حلف اٹھانے کے فوری بعد ان کا یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کی تنخواہ اور مراعات نہیں لیں گے۔ گویا وہ صرف پنشن پر کام کریں گے۔ سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج کے طور پر فرائض ادا کرنے کی تنخواہ اور دیگر مراعات لینا کسی بھی جج کا حق بنتا ہے لیکن جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کرکے نہ صرف عدلیہ کی تاریخ میں ایک روشن اور نئی مثال قائم کی ہے بلکہ عدلیہ کے علاوہ دیگر سرکاری اداروں میں ریٹائر ہو کر ازسر نو تقرر ہونے والے افسروں کے لئے بھی یہ ایک
قابل تقلید جذبہ ہے۔ ہمارے ملک میں بااثر اعلیٰ سرکاری افسر ریٹائر ہونے کے بعد بھی انتہائی مراعات یافتہ مناصب پر فائز کر دئیے جاتے ہیں۔ یہ عہدے انہیں اقربا نوازی اور سیاسی رشوت کے تحت دئیے جاتے ہیں اور بہت سارے افسر کام نہ لینے کی تنخواہ لیتے ہیں اور تنخواہ اور تنخواہ بھی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ آدمی سن کر حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ بعض اداروں کے سربراہوں کی تنخواہوں اور مراعات کا یہ عالم ہے کہ اس کی تفصیلات جان کر غریب آدمی بے ہوش ہو سکتا ہے اور پھر ان تنخواہوں کے مقابلے میں کارکردگی جب صفر ہوتی ہے تو یہ قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی قوم کے ساتھ ایک اور ظلم ہے۔ اس تاریک ماحول میں جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے تنخواہ نہ لینے کا اعلان کرکے ایک قندیل روشن کر دی ہے۔ اگر جسٹس رمدے کے اس جذبہ کی تقلید کی جائے تو ہمارے ملک کا سارا منظرنامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔ میں نظریہ پاکستان کانفرنس میں شرکت کے لئے لاہور گیا تو وہاں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں محبوب احمد سے ملاقات ہوئی اور ان کے خیالات سننے کا موقع بھی مجھے ملا۔ وہ بتا رہے تھے کہ اصولی اختلافات کی بنیاد پر میں نے ریٹائر ہونے سے بہت پہلے اپنا منصب چھوڑ دیا تھا اور اپنا منصب چھوڑنے کے بعد مجھے وکالت کے لئے کبھی اپنی لاءفرم بنانے کا خیال نہیں آیا جبکہ فیس کی صورت میں میں لاکھوں اور کروڑوں روپے کما سکتا تھا۔ جسٹس محبوب کا کہنا تھا کہ ریٹائر ہونے کے بعد ہمیں اپنے ملک اور قوم سے کچھ لینا نہیں چاہئے بلکہ ہم سے جو کچھ بھی ممکن ہو علم، تجربہ اور سرمایہ وہ قوم کے لئے وقف کر دینا چاہئے۔ جسٹس خلیل الرحمن رمدے کا فیصلہ بھی یہ ہے کہ وہ تنخواہ اور مراعات لینے کے لئے دوبارہ سپریم کورٹ کے جج نہیں بنے بلکہ ان کے پیش نظر صرف انصاف کی فراہمی کا فرض ہے جس کی ادائیگی کے لئے انہوں نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک جج کا عہدہ قبول کیا ہے۔ ایک اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے اب سپریم کورٹ میں سب سے جونیئر جج ہوں گے۔ میرا خیال ہے سینئر اور جونیئر کا مسئلہ تنخواہ اور مراعات کے پیچھے بھاگنے والوں کے لئے ہوتا ہے۔ جسٹس خلیل الرحمن نے تو تنخواہ اور مراعات نہ لینے کا اعلان کرکے خود کو اتنے بلند مقام پر فائز کر لیا ہے کہ سارے سینئر ان سے جونیئر ہو گئے ہیں۔ اب اگر کوئی اور جج یا کسی دیگر ادارے کا سربراہ کبھی ایسا مبارک فیصلہ کر سکا کہ وہ اپنی خدمات کی تنخواہ نہیں لے گا یہ جسٹس خلیل الرحمن رمدے ہی کی تقلید ہو گی۔ تاریخ میں یہ فضیلت ہمیشہ جسٹس رمدے ہی سے منسوب رہے گی کہ وہ پہلے عہد ساز جج ہیں جنہوں نے سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج کی تنخواہ لینے سے انکار کر دیا۔ یہ بڑے نصیب اور حوصلے کی بات ہے کہ کوئی عظیم شخص ایسی مثال قائم کرے ورنہ ہمارے ملک میں ایسی ”ممتاز“ شخصیات کی کمی نہیں جو دو اداروں سے پنشن لے کر بھی تیسری تنخواہ کی تلاش میں رہتے ہیں۔