بسنت تہوار یا جشنِ خونچکاں

امجد علی...........
ہم مانتے ہیں کہ بسنت برصغیر کا قدیم تہوار ہے۔ لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں میں بسنت موسم کی تبدیلی پر منایا جاتا تھا جس میں ہر سال جوش و خروش پیدا ہوتا تھا۔ مختلف تقریبات کا اہتمام ہوتا اور لاہور شہر خوبصورت رنگوں میں رنگ جاتا تھا اسی دوران کچھ انسان دشمن عناصر نے اس میں خون کا رنگ شامل کر دیا اور جشن بہاراں کو جشن خونچکاں بنا دیا۔ چند سالوں میں درجنوں بے گناہ جانوں کا ضیاع ہوا۔ کئی مائیں بے اولاد اور کئی بچے یتیم ہوئے۔ ایک طرف تو جشن منائے جا رہے تھے اور دوسری جانب مزدوری پر اور سکولوں کو جانے والے ہسپتالوں کی زینت بنے۔ ایک طرف تو رنگ رلیاں منائی جاتی رہیں اور ان رنگ رلیوں کی وجہ سے راہ چلتے مسافر اپنے گلے کٹواتے رہے اور ان کے گھروں میں اٹھنے والی آہ و بکا کو چند روپوں کے عوض دبا دیا گیا۔ اس پتنگ بازی کے باعث قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع، ٹریفک حادثات کروڑوں روپے کی برقی آلات کی تباہی، دھاتی تاروں کے استعمال سے بجلی کی بار بار ٹرپنگ اور بہت سے نقصانات وقوع پذیر ہوئے۔
ان حالات کے پیش نظر 2009ءمیں حکومت پنجاب نے بسنت کی اجازت نہ دی اور بسنت منانے والوں کو جرمانہ کرنے کا اعلان کیا لیکن بدقسمتی سے گورنر راج نافذ ہوا اور بسنت منانے کی اجازت دے دی گئی جس کی وجہ سے کئی معصوم جانیں گئیں ۔
ایک بار پھر اس خونیں کھیل کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا گیا ہے۔ ایک بار پھر کسی غریب کو ماتم کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ایک بار پھر کسی کے چمن کو اجاڑنے کی ٹھان لی گئی ہے۔ ایک بار پھر کسی ماں، باپ کو بے اولاد کسی کے پھول کو لاوارث اور کسی کے سر کے تاج کی قربانی مانگی جا رہی ہے۔ ہماری آزاد عدلیہ کے فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا گیا اور بسنت منانے کا اعلان کیا گیا ہے جس فیصلے کو پی پی پی کے موثر و معزز رہنما بھی ماننے کو تیار نہیں۔ پی پی پی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر بدر کا بیان دیکھئے کہ بسنت منانے کے لئے گورنر پنجاب کی بجائے عدالتی فیصلے کا احترام کروں گا۔ شہری باآواز بلند کہہ رہے ہیں کہ قانون کا احترام کریں اور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل کریں ہمیں نہیں منانی بسنت! اب ہم بسنت کے ڈر سے اپنے بچوں کو سکولوں میں نہ بھیجیں؟ بسنت کے ڈر سے مزدوری نہ کریں؟
ذرا سوچئے کہ اگر ہمارے رہنما بھی عدلیہ کے احکامات نہیں مانیں گے تو عوام میں انارکی اور بے راہ روی پھیلے گی۔ کیا قانون صرف غربا کے لئے ہے؟ کام وہی کئے جاتے ہیں جن کو عوام پسند کرتی ہے کہتے ہیں کہ یہ عوامی حکومت ہے تو پھر عوام اس بسنت کے منانے کے حق میں نہیں ہے تو حاکم وقت رائے عامہ کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں۔
بسنت کے مٹھی بھر حامی معاشرے کو بلیک میل اور عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے۔ کوئی مہذب معاشرہ اس قسم کے طوفان بدتمیزی کا متحمل نہیں ہو سکتا جو بسنت کی آڑ میں کیا جاتا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے اس سال بھی پنجاب حکومت کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے پتنگ بازی پر پابندی برقرار رکھنے کے احکامات صادر فرمائے ہیں اور ہمیں بلاامتیاز اپنے مرتبہ و حیثیت کے ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرنا چاہئے۔