امن کی آشا والوں کی جرنلزم (صحافت)

اجمل شبیر...........
امن کی آشا والوں کی صحافت کی وجہ سے اندرونی اور بیرونی طور پر پاکستان عدم استحکام اور انتشار کا شکار نظر آ رہا ہے۔ امن کی آشا والوں نے پاکستان میں صحافت کا چہرہ داغ دار کر دیا ہے۔ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا کر پیش کرنے میں امن کی آشا والوں کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ بعض سینئر صحافی، دانشور، ادیب، مفکرین اس صحافت کو پاکستان میں جرنلزم کی ترقی تصور کرتے ہیں لیکن میں ان کے اس خیال سے مکمل طور پر اختلاف کرتا ہوں۔ امن کی آشا والوں کے صحافی یا تو نادان اور بے وقوف ہیں یا منصوبہ بندی سے متعصب، جانبدار اور ملک دشمن صحافت کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں پاکستان میں مہنگائی، بیروزگاری مس مینجمنٹ کرپشن، لوٹ کھسوٹ، آئین شکنی عروج پر ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ ان Issues پر امن کی آشا والے خطرناک پروپیگنڈہ کر کے انتشار پیدا کر رہے ہیں۔ میرا ایمان ہے کہ ان کے اس انتشار پسند رویے کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ ملوث ہیں۔ خودکو جمہوریت پسند صحافی سمجھنے والے جمہوریت کے خلاف ہونے والی سازش کے اہم کھلاڑی ہیں۔ ایک انتہائی معتبر صحافی کے مطابق آف دی ریکارڈ ایک بار امن کی آشا والوں کے میڈیا مالک نے کہا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب میں اپنی مرضی سے پاکستان کا وزیراعظم یا صدر کو ان کے عہدوں سے فارغ کر دوں گا۔ یہ ہے ان جمہوریت دشمن میڈیا والوں کی گھناو¿نی اور خوفناک سوچ جو اس ملک کو بدترین انتشار کی طرف بڑھا رہی ہے۔ امن کی آشا والے Planted Journalist اقتدار کی غلام گردش میں Monoplay Create کر کے بہت بڑا Share چاہتے ہیں۔ خوش قسمتی سے یہ Share انہیں نہیں مل رہا اسی وجہ سے سنسنی خیزی پھیلا کر جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ اب تو عام عوام بھی یہ سمجھنے لگے ہیں کہ امن کی آشا والے نام نہاد محب وطن صحافت کی آڑ میں ملک دشمن صحافت کر رہے ہیں۔ اب امن کی آشا والوں کی مکار صحافت کی حقیقت کھل کر سامنے آنا شروع ہو گئی ہے۔ بلیک میلر اور Planted صحافی نام نہاد ایمانداری اور خطرناک دانشوری کے نام پر عوام کو بے وقوف بنا کر ان کے اندر سے ایمان، نظریہ پاکستان کو Confuse کر رہے ہیں۔ امن کی آشا والوں کا پرنٹ میڈیا صحافتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے Biased کالم شائع کروا رہا ہے ایسے صحافی شہرت اور دولت کی خاطر سنسنی خیزی پھیلانا چاہتے ہیں لیکن یاد رکھیں ایسی Journalisin کا انجام خطرناک ہو گا۔ امن کی آشا والے عدلیہ کی بحالی کو اپنا بہت بڑا کارنامہ سمجھتے ہیں اب عدلیہ کی بحالی کے بعد یہ زرد صحافت کے پیروکار عدلیہ کا جمہوری اداروں سے تصادم کرانے جا رہے ہیں۔ اداروں کے درمیان اس تصادم کے پیچھے غیر ملکی ہاتھ امن کی آشا والوں کی مدد کر رہے ہیں۔ عدلیہ کی بحالی میں سول سوسائٹی، وکلائ، سیاسی جماعتوں، عوام اور محبت وطن میڈیا نے اہم رول ادا کیا تھا لیکن امن کی آشا والے عدلیہ کی بحالی کو اپنا کارنامہ سمجھتے ہیں۔ عدلیہ کو ان کی Conspiracy Theones سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے امن کی آشا والوں کا میڈیا ڈالروں اور غیر ملکی فنڈز کی وجہ سے متعصب، کوتاہ فہم، شہرت پسند اور ملک دشمن بن چکا ہے۔ ان کو لگا دینے کے لئے حکمرانوں، سیاسی قائدین کو زبان کھولنی ہو گی۔ عزت صرف ان صحافی حلقوں کی ہوتی ہے جو باضمیر ہوتے ہیں اور ظالم حاکم کے سامنے کلمہ حق بھی کسی اصول اور قاعدے کی بنیاد پر کرتے ہیں جو ملک کی عزت، سلامتی اور بنیادی نظریات کی قلم اور کیمرے کے ذریعے حفاظت کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا امن کی آشا والے یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ (جاری ہے)