کیا آج بھی بھٹو زندہ ہے؟

کالم نگار  |  مطلوب وڑائچ

 محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد2008ءمیں ہونیوالے گذشتہ الیکشن کے نتائج آنے کے صرف دو دن بعد ہی پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل کا مشترکہ اجلاس بلوایا گیا جس میں نئے منتخب ایم این ایز حضرت بھی مدعو تھے۔اجلاس کی کاروائی شروع ہونے کے بعد مجھے افتتاحی تقریر کرنے کا موقع ملا چونکہ بی بی کی شہادت کے بعد یہ میرا پہلا اجلاس تھااس لیے میں نے شریک چیئرمین اور اراکین کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کی ہمیں اقتدار سے زیادہ بی بی کے قتل کا معمہ حل کرنا چاہیے۔ اگر ہم نے اقتدار لے لیا لیکن بی بی کے قاتل نہ پکڑ سکے تو پھر چند سالوں کے اقتدار کے مزے تو لوٹ لیں گے مگر پیپلزپارٹی ہمیشہ کیلئے تاریخ کے اوراق تک محدود ہو جائیگی اور اس اجلاس کی کاروائی کے ”منٹس “اس بات کے گواہ ہیں کہ میں نے شریک چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جناب ہوش کے ناخن لیجئے کہ عوام تو یہ تک بھی کہتے ہیں کہ بی بی کے خون کے چھینٹے زرداری ہاﺅس کی دیواروں پر بھی پڑے نظر آتے ہیں۔ میری تقریر کے بعد ملک مشتاق اعوان نے اسی موضوع کو جاری رکھنا چاہا لیکن اسے زبردستی چپ کرا کر بٹھا دیا گیا اور بعد میں جتنی تقریریں ہوئیں وہ نئے بادشاہ سلامت کی تعریف و ثنا اور خوشامد پر مشتمل تھیں۔اس دن کے بعد نئے بادشاہ سلامت کے حواریوں نے یہ طے کر لیا تھا کہ مطلوب وڑائچ کو اقتدار کی چاردیواری سے ہی نہیں بلکہ پاکستان سے بھی دور کرنا بہت ضروری ہے لیکن میں مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ میں کسی بھی دستیاب پلیٹ فارم سے بی بی کے خون کی قسم اس معاملے کو دبنے نہ دوں گا اور پھر جناب مردِ صحافت ڈاکٹر مجید نظامی صاحب نے میری قوتِ اظہار کی تشنگی کو جِلا بخشی اور مجھے نوائے کے پلیٹ فارم سے اپنے دل کا غبار الفاظ کی شکل میں کہنے اور لکھنے کے مواقعے مسلسل پچھلے پانچ سال سے فراہم کیے۔
ان پانچ سالوں میں پاکستان پیپلزپارٹی کی تقریباً ساری قیادت نہ صرف کرپشن کی دلدل میں پھنس چکی ہے بلکہ نااہل بھی قرار پا کر جگ ہنسائی کا موجب بنی ہے۔ پارٹی کے نامزد کردہ دونوں وزرائے اعظم کرپشن کی دلدل میں اپنے خاندانوں سمیت اس بُری طرح پھنس گئے ہیں کہ آج پیپلزپارٹی کے پاس قیادت کا فقدان ہی نہیں بلکہ قیادت میسر نہیں ہے اور پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے چیئرمین مخدوم امین فہیم صاحب بھی کرپشن کے کیسوں کی وجہ سے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں اور نیب کی لٹکتی تلوار ان پر بھی مسلط ہے۔ صدر مملکت جنہوں پانچ سال تک ایوان صدر کو پیپلزپارٹی کا مرکزی سیکریٹریٹ بنائے رکھا اب حالتِ مجبوری ان کو پارٹی عہدہ چھوڑنا پڑا ہے جبکہ بلاول زرداری بھٹو عمر پوری نہ ہونے کی وجہ سے خود الیکشن نہیں لڑ سکتے ۔ اس طرح پارٹی کے پاس کوئی آپشن ہی موجود نہیں کہ آئندہ انتخابات میں کون پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت کرے گا۔ مشہور کہاوت ہے کہ ”لومڑی کو شیر کی کھال پہنا دینے سے لومڑی شیر نہیں بن جاتی“ اسی طرح کوئی اپنا نام ازراہِ تخلص تو ”بھٹو “ رکھ سکتا ہے مگر بھٹو ہونا جان جوکھوں کا کام ہے اور بھٹو ہونے کیلئے بھٹو خاندان میں پیدا ہونا ضروری ہے۔ جس طرح بے نظیر، صنم، مرتضیٰ، شاہ نواز یہ سب بھٹو کی اولاد ہیںاور ذوالفقار جونیئر و فاطمہ بھٹو بھی اسی خاندان کی نسل ہیں۔ بھٹو کے اصل وارث اس کے پوتے، پوتیاں ہیں۔
مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے جب آج میں ٹی وی پر یہ سنتا اور دیکھتا ہوں کہ کل بھی بھٹو زندہ تھا اور آج بھی بھٹو زندہ ہے اور جس کو ہمارے سامنے بھٹو بنا کر پیش کیا جاتا ہے ہم اس کو کیسے بھٹو مان لیں ۔ ہم اس کو پارٹی کا چیئرمین ماننے کو تو تیار ہیں مگر بھٹو ماننے کو تیار نہیں۔
ذوالفقار علی بھٹو نے تو عوام کو روٹی ،کپڑا اور مکان دیا ،پاکستان کو ٹیکسلا ہیوی کمپلیکس دیا، سٹیل مل، 90ہزار فوجی قیدیوں کی رہائی اور سارے پاکستانیوں کو پہلی دفعہ پاسپورٹ کا حق اور پہلا متفقہ آئین دیا۔اور دنیا کے نقشے پہ موجودہ پاکستان کو پہلا ایٹمی ملک بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔اس ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات گنوانے گنوانے اور اسکے احسانات کو یاد کرتے کرتے تو یہ عمر بیت جائے گی مگر اس کے جعلی وارثوں (عوام کے مطابق)نے اسکے نام پر اس حد تک اودھم مچائی کہ آج ڈالر 62 سے 100روپے ،کھاد کی پوری 900سے 4500روپے کی،پٹرول 54سے 103 روپے جبکہ چینی 20روپے سے 60 روپے، اسی طرح سبزیاں ،دالیں اورگھی کی قیمتیں بھی پانچ سو گنابڑھ چکی ہیں۔ بجلی اور گیس میسر ہی نہیں بلکہ ان کی قیمتیں پانچ سو گناہ بڑھا دی گئی ہیں۔روشنیوں میں جگمگاتا یہ پاکستان گذشتہ پانچ سالوں میں اندھیروں میں ڈوب گیا ہے۔ ملک کی سلامتی داﺅ پر لگا دی گئی ہے اور ملک کی خارجہ پالیسی ایک نوعمر لڑکی کے ہاتھ میں دے کر آج صورتحال یہ ہے کہ ڈرون حملے بڑے تواتر سے ہو رہے ہیں۔بلوچستان میں شرانگیزیاں جاری ہیں۔ خیبرپختوا عام انسان تو کیا وی آئی پیز کا بھی باہر نکلنا محال ہے۔ پاکستان کی عسکری قوت کو پچھلے پانچ سالوں میں انتہائی کمزور و لاغر بنا دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج عسکری قیادت اس پاکستان کو خدانخواستہ ٹوٹتے ہوئے دیکھ رہی ہے مگر کچھ کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہی۔ رینٹل پاور اور دوسرے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ملک کو کنگال بنا دیا گیا اور کتنی بے شرمی سے اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا پہ یہ اشتہار چلائے جا رہے ہیں کہ سٹاک ایکسچینج آج 18000انڈیکس کی حدوں کو چھو رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے زرمبادلہ کے ذخائر 18سے کم ہو کر صرف 6ارب ڈالر رہ گئے ہیں جبکہ قومی ایئر لائن کسی بھی وقت زمین بوس اور دیوالیہ ہونے کیلئے تیار کھڑی ہے۔
نگران حکومت کے جانے ہی کی دیر ہے کہ ہمارے پاس سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کیلئے بھی رقم دستیاب نہ ہوگی۔کسی دانشور نے کیا خوب کہا ہے ”کہ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے مگر ہماری کرتوتیں دیکھ کر واپس نہیں آتا اور مغرب میں غروب ہو جاتا ہے“اس لئے میں نہیں سارا پاکستان کہہ رہا ہے کہ اگر آج ”بھٹوز“ زندہ بھی ہوتے تو اپنے جعلی وارثوں (عوام کے مطابق) کی کرتوتیں دیکھ کر ان کو منہ چھپانے کے لیے بھی کوئی جگہ نہ ملتی اوروہ شہادت کی بجائے خودکشی کر لیتے۔ ان سب حالات و واقعات کی موجودگی میں ہمیں پھر بھی شرم نہیں آتی اور ہم نعرے لگاتے ہیں کہ ”کل بھی بھٹو زندہ تھا اور آج بھی بھٹو زندہ ہے۔“
ہماری پارٹی کی قیادت نے پارٹی ورکروں کو یکسر نظرانداز کرکے صرف اور صرف آصف علی زرداری صاحب کے کیسوں کے وکیلوں کو مراعات دیں۔سردار لطیف کھوسہ،بابر اعوان،فاروق ایچ نائیک، کے کے آغاان سب میں سیاسی اور سرکاری عہدے بے دردی سے بانٹے گئے جس سے یقینا شہید بھٹوز کی روح تڑپتی ہو گی ۔
(کالم نگار پیپلز پارٹی کے جیالے ہیں)