پاکستان کیوں کیسے اور کس لئے؟ .... (آخری قسط)

کالم نگار  |  ڈاکٹر حبیب الرحمان

اسلامی تعلیمات کا یہی حسن ہے جو اس کو عالمگیر، آفاقی اور ابدی بناتا ہے۔ یقیناً وہ معاشرتی اقدار جو لادینیت، شرک، نفس اور انسان پرستی پر مبنی ہوں وہ کسی طور پر مسلم معاشرے کا حصہ نہیں بن سکتیں۔ میڈیا اسلامی اور مشرقی تہذیب کو ختم کرنے میں اپنا پورا زور صرف کر رہا ہے۔ امن کی آشا جیسے پروجیکٹس کے ذریعے مسلمان خواتین کو برہنہ اور مردوں کو بے غیرت و بے حیاءبنایا جا رہا ہے۔ بجائے اس کے ٹی وی چینلز پر برہنہ آنے والی خواتین کو کہا جائے کہ کم از کم وہ اپنے سینے، سر، بازو، کمر اور رانوں کو ہی چھپالیں ان کے سانے اس پر بات کی جاتی ہے کہ چہرے کا پردہ ہے یا نہیں؟ امن کی آشا کی آڑ میں مشرکانہ گانوں، فلموں، ڈراموں اور اشتہارات کے ذریعے پاکستانی تہذیب و تمدن کو تباہ کرنا، ہندوانہ مشرکانہ رسوم کی ترویج کرنا ور غلیظ مغربی تہذیب کو عام کرنا یہ ہمارے میڈیا کا وطیرہ بن چکا ہے، ہاتھ میں ریموٹ لے کر آپ تمام ٹی وی چینلز ایک کے بعد ایک تبدیل کرتے چلے جائیں آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان کی تہذیب و ثقافت کو کس طرح مغربی اور بھارتی مشرکانہ و ملحدانہ تہذیب سے بدلہ جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ غیر ملکی تہواروں جیسے پادری ویلینٹائن کا عرس، ہولی، کرسمس وغیرہ کو بھی تیزی کے ساتھ عام کیا جا رہا ہے جن کے نتائج سے ہم بخوبی واقف ہیں۔
اسلام سے تنفر پیدا کرنا
اسلامی جمہوریہ پاکستان کا میڈیا ہونے کے ناطے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستان میں اسلامی نظام زندگی کے لئے راہ کو ہموار کیا جاتا، افاد کی ذہن سازی اور اصلاح احوال میں وقت صرف کیا جاتا۔ مگر ہمارے میڈیا میں اول تو اسلامی موضوعات پر بحث ہی نہیں کی جاتی اور اگر اسلامی موضوعات زیر بحث آبھی جائیں تو اس کے ذریعے عوام کے ایمان میں شک پیدا کیا جاتا ہے اور اسلامی تعلیمات سے تنفر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چہرے کا پردہ، مرتد کی سزا، توہین رسالت کی سزا، قادیانیوں کا کافر ہونا، ہم جنس پرستی اور زنا کا جائز یا ناجائز ہونا، مذہب و ریاست کا علیحدہ ہونا یا نہ ہونا جیسے موضوعات اور متفق علیہ مسائل پر بحث کی جاتی ہے اور بغیر حق بیان کئے پروگرام ختم کردیا جاتا ہے تاکہ دین کے علم سے عاری مسلمان مزید شکوک و شبہات میں مبتلا ہو جائیں۔
نظریاتی تخریب کاری
پاکستانی میڈیا کا ظلم عظیم میڈیا کے ذریعے قوم کی نظریاتی تخریب کاری کرنا ہے۔ اگر کسی قوم کو اس کی تاریخ سے غافل کردیا جائے اور نئی نسل کو اسلاف اور تاریخ کا مسخ چہرہ دکھایا جائے تو یقیناً اس قوم کو بغیر روایتی جنگ کے اپنا غلام بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جسے بانیان پاکستان نے اس لئے حاصل کیا تاکہ یہاں مسلمان قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔ پاکستانی میڈیا میں اس بات کو مخفی رکھا جاتا ہے۔ بانیان پاکستان کی تقاریر و تحریر کے وہ حصے جن میں انہوں نے مقصد پاکستان، اسلامی ریاست، قرآن و سنت، اللہ و رسولﷺ کی بات کی ہے ان حصوں کو میڈیا سے یکسر غائب کردیا گیا ہے۔ نئی نسل کو بار بار بتایا جاتا ہے کہ پاکستان اسلام کے لئے نہیں بلکہ صرف مسلمانوں کے دنیاوی اور معاشی حقوق کی حفاظت کے لئے بنایا گیا۔ علامہ اقبال کا پاکستان بنانے میں کوئی کردار نہ تھا۔ قائداعظم سیکولر و لادین تھے۔ تمام بانیان پاکستان اسلام کو ریاست سے علیحدہ رکھنا چاہتے تھے۔ پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ، اس مقدس نعرے کو اب اس نعرے سے تبدیل کیا جارہا ہے:
پڑھنے لکھنے کے سوا
پاکستان کا مطلب کیا؟
پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ نعرہ طیبہ تحریک پاکستان کا نعرہ نہیں رہا اور پڑھنے لکھنے کے لئے مدد USAID نے کرنی ہے۔ یہ اس قدر سنگین جرم ہے جو ناقابل تلافی ہے۔ یہ تحریک پاکستان کے لاکھوں شہداءکی روحوں کے ساتھ مذاق ہے جنہیں صرف اس جرم میں ذبح کردیا گیا کہ وہ اسلام کے ماننے والے تھے۔ یہ بدترین نظریاتی جرم ان پاکباز بہنوں کی توہین ہے جن کے جسم کو آفتاب کی کرنوں نے بھی نہ دیکھا تھا اور ان کے برہنہ جلوس بازاروں میں صرف اس لئے نکالے گئے کہ وہ محمد رسول کا کلمہ پڑھنے والی تھیں۔ اس جھوٹ اور دھوکے کی باقاعدہ منظم انداز سے تشہیر کی جاتی ہے اور پاکستان کا رشتہ اسلام اور قائداعظم، محمدرسول سے توڑنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔ جبکہ پاکستانی قوم دنیا میں سب سے زیادہ رسول سے محبت کرنے والی قوم ہے۔
ہمیں قائداعظم، محمد رسول کا اسلام اور پاکستان چاہئے
جب پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے تو لوگوں کے ذہن میں جان بوجھ کر یہ بات بٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے ”اس سے مراد پاپائیت یا ملائیت ہے۔ اگر اسلامی نظام کا دفاع کیا گیا تو جگہ جگہ لوگوں کو کوڑے لگ رہے ہوں گے، کوئی پھانسی پر لٹکا ہوا ہوگا، کسی کا ہاتھ کاٹا جارہا ہوگا، عورتوں کو گھر میں قید کردیا جائے گا۔ انسانی حقوق پامال کئے جائیں گے۔ غیر مسلموں کو قتل کردیا جائے گا۔ اس لئے ہمیں قائداعظم محمد علی جناح کا پاکستان چاہئے جو ایک سیکولر انسان تھے اور ایک سیکولر ریاست کا قیام چاہئتے تھے۔“
یاد رہے کہ اسلام کی تشریخ Conservatismکے تناظر میں اس طرح کرنا کے دور جدید میں اس کا قبول کرنا ناممکن ہو جائے یا Modernismکے نقطئہ نظر سے مغرب کی ناراضگی کے ڈر سے اسلام کی ایسی تشریح کرنا جو اسلام کی اصل روح کو مجروح اور چہرے کو مسخ کردے ہمیں ان دونوں سے اجتناب کرتے ہوئے Dynamic Orthodoxy اختیار کرنی ہے یعنی اپنے عقائد و اصول پر مصالحت کئے بغیر ہر اس نئی بات کو قبول کرلینا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف نہ ہو۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ہمیں کون سا پاکستان چاہئے؟ تو بلا لیت و لعل پاکستانی عوام اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہمیں محبوب رب العالمین محمد رسول کا آزاد پاکستان چاہئے۔