خاموش تماشائی

کالم نگار  |  خالد محمود ہاشمی

 عوام نے ہر گزرے دور کو اچھے الفاظ سے صرف اس لئے یاد کیا کہ ہر دورِ حاضر ان پر گراں گزرتا ہے مشرف دور میں لوڈشیڈنگ زرداری دور کے مقابلے میں بہت کم تھی اور نگران آئے تو جیسے اندھیرے چھا گئے اسمبلی ہوتی تو اللہ کا کوئی بندہ ضرور بولتا کہ قوم کے ساتھ اتنا ظلم کیوں کر رہے ہو۔ اس وقت منتخب ایوان نہیں ہر ایک گھنٹے کے بعد دو گھنٹے بجلی کا جانا معمول بن گیا ہے۔ ایسے میں ملک کا پہیہ کس رفتار سے چلے گا۔ بجلی کی طلب 14000 میگا واٹ جبکہ پیداوار 9000 میگا واٹ سے بھی کم ہے لوگ تو ہر طرح کی باتیں سوچتے ہیں کہ زرداری صاحب بے بس ہیں یا کھوسو صاحب بیچارے ہیں ۔بجلی کی پیداوار کیلئے تیل اورگیس چاہئے اور اس کیلئے بھاری رقم درکار ہے یہ رقم دینے کا اختیار کس کے پاس ہے اور وہ کیوں نہیں دے رہا؟ حکمرانوں کو یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہئے کہ اللہ ادل بدل کرتا رہتا ہے کسی ایک حالت میںکسی کو نہیں رکھتا قوم کو اندھیروں میں دھکیلنے والے خود اندھیروں میں چلے جائیں گے3ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے پلانٹ کیوں بند پڑے ہیں؟ سٹیل مل پیداواری گنجائش کے مطابق کیوں نہیں چل رہی؟ پی آئی اے کے جہاز تیزی سے گراونڈ کیوں کیے جارہے ہیں؟ ریلوے کی بوگیاں اور انجن واپڈا کے بیکار ٹرانسفارمروں کی طرح کیوں پڑے ہیں؟
سیاسی جماعتوںکے منشور کس کام کے انہیں کون پڑھتا ہے۔ اخبارات میں ہر روز اتنا کچھ لکھاجاتا ہے حکمران اس کا اثر کس حد تک قبول کرتے ہیں منصوبہ بندی کمشن کے ڈپٹی چیئر مین ڈاکٹر ندیم الحق نے سچ کہا ہے کہ پلاننگ کمشن کو ہی ختم کردیناچاہئے ۔اسی طرح وزارت اطلاعات کا عوام کو کیا فائدہ ہے۔ وزارت اطلاعات کا فائدہ تو اسکے سیکرٹ فنڈ کے 200 فیض یافتگان کو ہی ہوتا ہے۔ سیکرٹ فنڈزاورSubsidies نے اکانومی کو بدحال ضرور کیا ہے انتخابی منشور پیسوں کے بغیر بے کار ہیں توانائی کا بحران دور کرنے پر توجہ دینے کی بجائے صاحبان اختیار نے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے میں پانچ سال ضائع کردئیے اب بھی بلیم گیم کی اشتہاری مہم جاری ہے۔ بجلی چوروںاور نادہندگان کے سامنے قانون بے بس کیوں دکھائی دیتا ہے نیب اور ایف آئی اے کس مقصد کیلئے کام کر رہے ہیں؟ پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو ایک سال مشرف کو ملامت کرتی رہی پھر ایک دو سال تیل کی عالمی قیمتوں کا رونا رونے میں گزار دئیے پانچ سال پہلے بجلی کے نادہندگان کے ذمے 40یا50ارب تھے اب یہ رقم دس گنا ہوچکی ہے PPP کے دور میں بجلی بحران کے حوالے سے ایک نئی اصطلاح سامنے آئی ” سرکلر ڈیٹ“ کوہلو کے بیل کی طرح قرضہ گردش کر رہا ہے خزانہ کے دفتر میں کوئی سیکرٹری جم کر نہیں بیٹھتانگرانوں نے ہی چار سیکرٹری بدل دئیے PPP نے اپنے دور میں چار وزیر خزانہ دیکھے کسی ایک کو بھی جم کر نہ بیٹھنے دیا۔ نگران اب تک وزیر خزانہ نہ بنا سکے ۔خزانہ میں مہارت کے حوالے سے ایک بڑا نام بزرگ استاد خواجہ امجد سعید کا ہے اس ملک کے نامور چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹس ان کے شاگرد ہیں خود نواز شریف گورنر غلام جیلانی خان کی کابینہ میں پنجاب کے وزیر خزانہ تھے تو خواجہ صاحب سے امور خزانہ سمجھتے تھے۔
اس وقت تو سب سے بڑا ایشو لوڈشیڈنگ ہے ۔انتخابات نعروں وعدوں منشوروں سے ووٹروں اور عوام کو کوئی دلچسپی نہیں توانائی بحران کے ہر اجلاس میں ایک ہی بات ہوتی ہے لوڈشیڈنگ کیسے دور ہوگی۔ جواب آتا ہے کہ وزیراعظم سیکرٹری خزانہ سے کہتے ہیں پیسے دیں سیکرٹری کا جواب ہوتا ہے سر ،خزانہ تو خالی ہے ۔وزیراعظم ایسے میں اپنی جیب سے تو پیسہ دینے سے رہے ۔یہ اس ملک کی گورننس کا حال ہے۔ آئی ایم ایف کے دربار میں حاضری کیلئے ایک وفد واشنگٹن جاچکا ہے۔ کشکول خالی بھی واپس آسکتا ہے حکومت کے پاس زرمبادلہ صرف 7ارب ڈالر ہے 84 کروڑ ڈالر کی ادائیگی تو 30جون سے پہلے اور اگلے دو سال میں 5.3 ارب ڈالر آئی ایم ایف کو واپس کرنے ہیں اگر کشکول میں کچھ آتا ہے تو وہ واپس چلا جائے گا۔ آئندہ حکومت کے نصیب میں بیرونی قرضوں کے حوالے سے ڈیفالٹ لکھا دکھائی دیتا ہے ۔سیاسی طورپر مضبوط حکومت ہی خطروں اوردباﺅ کا مقابلہ کرسکتی ہے ۔اس وقت کوئی مالیاتی پالیسی نہیںمنی کی سپلائی پرکوئی کنٹرول نہیں۔ مانیٹری پالیسی بھی مفاد پرستوں کو خوش کرتی اور افراط زر کا عفریت عوام پر مسلط کرتی ہے ۔کرنسی چھاپ چھاپ کر گزارا ہورہا ہے۔ سٹیٹ بینک کی سہ ماہی رپورٹوں میں الفاظ کا ردوبدل ہوتا ہے جیسے سیاستدانوں کی تقریروں میں نئی بات کوئی نہیں ہوتی ،جو اخبار کی شہ سرخی بن سکے۔ اس وقت ہر کوئی خاموش تماشائی کا کردارادا کر رہا ہے کوئی اجلِ رشید سامنے کیوں نہیں آرہا ۔ایٹمی قوت رکھنے والی 18کروڑ عوام کی قوم کو لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں نڈھال کیوں کیاجارہا ہے؟ ہماری اکانومی کیلئے لوڈشیڈنگ دہشت گردی سے کم نہیں عام دہشت گردی سے تو روزانہ درجنوں لوگ جاں بحق ہوتے ہیں20گھنٹے کی یومیہ لوڈشیڈنگ ہمیں روز مارتی روز زندہ کرتی ہے۔ ہماری نئی نسل کو مایوسی کے غاروں میں دھکیلتی جا رہی ہے اس دردناک المیہ کا کوئی نوٹس لے گا؟