حذر اے چیرا دستاں....!

کالم نگار  |  اسرا ر بخاری

پچھلے ادوار کی تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو چشم فلک نے عبرت کا سامان بننے والے مناظر بار بار دیکھے جب خاک کے پتلے اور ناپاک قطرے سے تخلیق کا جامہ بننے والا انسان چند روزہ اقتدار کے نشہ سے بدمست اور رعونت کے رتھ پر سوار ہو کر خود خالقِ ازل سے الجھنے لگتا ہے لیکن انجام کار عبرت کا نشان بنتا ہے۔ ہر ڈکٹیٹر کی طرح اگر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دماغ میں بھی یہ خناس بھر گیا تھا کہ اب وہ قضا و قدر کا واحد مالک ہے تو کچھ تعجب نہ ہوناچاہئے۔ اگر خانہ خدا کو گولیوں سے چھلنی کرکے حکومتی رٹ قائم کرنے کے تکبر کا مظاہرہ کیا، اگر اکبر بگتی کو ایسی جگہ سے ہٹ کرنے کی شوخی دکھائی کہ پتہ بھی نہیں چلے گا، اگر کراچی کی سڑکوں پر خاک و خون میں تڑپتی انسانی لاشوں کو مکے لہرا لہرا کر اپنی عوامی قوت کا مظاہرہ قرار دیا تو اقتدار کی خرمستی ایسا ہی کچھ کروایا کرتی ہے۔ کیا اس خرمستی کا تعلق بی بی سی کے اس تبصرے سے ہے کہ ”پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت میں اناپرستی کی تاریخی جنگ کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے تو خواہ کوئی فوجی سربراہ کتنا بھی ناپسندیدہ کیوں نہ ہوجائے اسکا ہر لحاظ سے تحفظ ہوتا ہے“ بی بی سی کے اس تبصرے سے مکمل طور پر اتفاق نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس سے فوج کیخلاف منفی تاثر ابھرتا ہے کیونکہ جب کوئی طالع آزما جرنیل سیاسی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرتا ہے تو اس میں ساری فوج ملوث نہیں ہوتی۔ میرا خیال ہے بلکہ یقین ہے کہ بلوچستان کے دوردراز سنگ زاروں میں، اندرون سندھ کی وادیوں میں ، خیبر پختونخواہ کی سنگلاخ وادیوں میں اور پنجاب کے میدانوں میں، ملکی سرحدوں اور سیاچن کے برف زاروں میں دفاع وطن کا فریضہ انجام دینے والے فوجیوں کو بھی اس عملِ نامسعود کی خبرعام لوگوں کی طرح بعد میں ہوتی ہے۔ اس کی مکمل طور پر ذمہ دار فوج کی اعلیٰ وردیوں میں ملبوس چند افراد ہوتے ہیں اسلئے ایسے کسی عمل پر نہ فوج کو مطعون کیا جاسکتا ہے نہ ایسے فعلِ قبیح کے مرتکب افراد یا فرد فوج کی انا کا مسئلہ بن سکتے ہیں۔ کیا جنرل کیانی اور کور کمانڈرز اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ پرویز مشرف 18 کروڑ عوام کیلئے نفرت کا استعارہ بن چکا ہے۔ فوج کی جانب سے اسکی حمایت پاکستانی عوام کے جذبات مجروح کرنے کا باعث بنے گی۔ فوج اگر ایک مجرم شخص کے تحفظ کیلئے اس حقیقت کو نظرانداز کریگی تو یہ فوج اور کروڑوں پاکستانی عوام کے مابین ذہنی فاصلوں کی بھاری قیمت ہوگی۔ فوج بلاشبہ یہ طاقت رکھتی ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں کی ہی نہیں عدالت کی بھی دھجیاں بکھیر دے لیکن اکتوبر 1999ءمیں جنرل پرویز مشرف نے جو بغاوت کی اس میں صرف فوج کی چند جیپوں اور ٹرکوں میں سوار وردی پوش ہی ملوث تھے بلکہ اتنے ہی ذمہ دار وہ سیاستدان اور اس وقت کی اعلیٰ عدلیہ کے ججز بھی اتنے ہی ”قصور وار“ ہیں جنہوں نے مفادپرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشرف آمریت کو سول اور عدالتی حمایت کا سہارا فراہم کیا۔
 جنرل پرویز مشرف آج جس عبرتناک صورتحال سے دوچار ہے کیا لاتعداد ذہنوں میں کلبلانے والے اس سوال کا جواب ہے کہ ”خانہ خدا کو گولیوں سے چھلنی کروانے والے مشرف کا کیا بگڑ گیا“ لیکن انکے اذہان اس حقیقت کی روشنی سے منور کیوں نہ ہوئے کہ خانہ خدا پر فوج کشی کرنیوالے کا انجام ابراہیہ جیسا ہوا کرتا ہے۔ بغداد کی مساجد کو تباہ کرنیوالے ہلاکو خان سمیت اس ناقابل معافی جرم کے مرتکبین نفرت کے استعارے ہیں، انکے نام سے کسی کو منسوب کرنا گالی کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ گولیوں سے زخم زخم لال مسجد کے گنبد اور دردیوار کی اس خدائے قادر و مقتدّر کیلئے خوشودی کا باعث بنے ہوں گے۔ منتقم و متکبر جس کی بجا صفاتِ عالیہ ہیں، کیا یہ حکومتی رٹ کے تکبر میں خدا کی رٹ کو چیلنج کیا گیا؟ اسکے باوجود کہ غازی عبدالرشید نے دوردراز اپنے آبائی علاقے راجن پور جانے کی اجازت کے بدلے لال مسجد محاصرہ کرنیوالوں کے سپرد کرنے کی پیشکش کردی تھی لیکن یہ محاصرہ کروانیوالا بھول گیا تھا کہ اس کے گھر پر کوئی پتھر پھینک دے تو خود اسکا ردعمل کیا ہوگا؟ صرف اس پر ہی ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرلیا جائے تو خودبخود بہت کچھ سمجھ میں آجائیگا۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ غفور و رحیم بھی ہے اور جنرل پرویز مشرف سمیت لال مسجد پر حملہ کرنیوالوں کیلئے اگر درِ توبہ بند نہیں ہوا ہے تو معافی قبول بھی ہوسکتی ہے لیکن اگر فرعونیت شمار کی جائے اور اس پر اصرار کیا جائے تو یہ تاریخ کا زندہ باب ہے کہ فرعون تنہا غرقِ دریا نہیں ہوا یاد رکھنا چاہئے....!
حذر اے چیرا دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں