ججوں کونظر بندکرنیوالے کیلئے ”نظربندی“ کی ڈھال

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کی ججز گرفتاری کیس میں ضمانت قبل از گرفتار منسوخ کردی ہے۔ اصولاً تو یہ چاہئے تھا کہ سابق صدر اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرتے اورخود کو گرفتاری کیلئے پیش کردیتے لیکن جنرل پرویز مشرف کیلئے ان کی گرفتاری کایہ فیصلہ غالباً ان کی توقع کے برعکس تھا اور وہ یہ سوچ لے کر عدالت میں پیش ہوئے تھے کہ وہ اس ملک کے صدر اور چیف آف آرمی سٹاف رہے ہیں لہذا کوئی عدالت ان کی گرفتاری کاحکم نہیں دے سکتی اور کوئی مائی دا لعل انہیں گرفتار نہیں کرسکتا۔ جنرل پرویز مشرف کاالمیہ یہ ہے کہ وہ اس ملک کے کبھی بھی منتخب صدر نہیں رہے۔ انہیں 12اکتوبر1999کو اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے آئینی اختیارات کے تحت ان کے منصب سے الگ کیاتھا لیکن انہوں نے غلطی یہ کی تھی کہ پاکستان آرمی کے حاضر سروس جرنیلوں کی سنیارٹی کونظر انداز کرکے لیفٹیننٹ جنرل خواجہ ضیاءالدین کو ان کاجانشین مقرر کردیاتھا۔ ان کے اس فیصلے کو پاک فوج کے کور کمانڈروں نے قبول نہیں کیا اور ان کے باہمی مشورے سے سرکاری طورپر سری لنکا کے دورے پرگئے ہوئے جنرل پرویزمشرف کے سروس سے معطل کئے جانے پر ملک کے کور کمانڈروںنے ملک کے وزیرراعظم کوان کے منصب سے ہٹادیا۔جنرل پرویز مشرف واپس پاکستان آئے تو انہیں وہ معطل چیف آف آرمی چیف کی بجائے چیف آف آرمی سٹاف کا پروٹوکول ملا اور جنرل خواجہ جنہیں چند گھنٹے پہلے فورسٹار جنرل کے طورپرترقی ملی تھی۔ انہیں چیف آف آرمی سٹاف کاعہدہ سنبھالنے سے پہلے ہی نظر بندی سے دو چار ہونا پڑا۔ 13اکتوبر کی صبح4بجے تک یہ فیصلہ نہیں ہوسکا کہ میاں نوازشریف کی جگہ کو ن ملک کا چیف ایگزیکٹو ہوگا اور پھر جنرل مشرف نے ”میرے پیارے ہم وطنو!“کہہ کر قوم کے سامنے اعلان کیا کہ وہ ملک کے چیف آف آرمی سٹاف کے ساتھ ساتھ چیف ایگزیکٹو بھی بن گئے ہیں اور اس طرح انہوں نے ملک میں مارشل لاءکے نفاذ کاااعلان کئے بغیر ملک کا اقتدار سنبھال لیا۔ جنرل مشرف کے اس اقدام کو اس وقت کی سپریم کورٹ نے قانونی تحفظ دیا اوراس طرح ملک ایک طویل مدت کے لئے فوجی آمریت کے حوالے ہوگیا۔ الیکشن 2002ءاور اس کے نتیجے میں بننے والی پارلیمنٹ میں مسلم لیگ ق ‘ پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین اور متحدہ مجلس عمل نے دوتہائی اکثریت سے جنرل مشرف کے 12اکتوبر اور اس کے بعد کے اقدمات کوآئینی تحفظ فراہم کردیا۔ وہ دسمبر 2004میں چیف آف آرمی سٹاف کی وردی اتارنے کے پابند تھے۔ لیکن انہوں نے متحدہ مجلس عمل سے پارلیمنٹ کی دوتہائی اکثریت حاصل کرنے کے لئے جو وعدہ کیاتھا اس پرعمل کرنے سے انکار کرتے رہے اور چیف آف آرمی سٹاف کی وردی سمیت ایوان صدر میںبیٹھے رہنے پراصرار کیا۔ وردی سمیت ایوان صدر میں بیٹھے رہنے کی خواہش کےلئے سپریم کورٹ سے قانونی تحفظ حاصل کرنے کی خواہش میں جنرل پرویز مشرف نے 9مارچ 2007ءکو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو آرمی ہاﺅس بلاکر ان سے وردی سمیت الیکشن لڑنے کیلئے سپریم کورٹ کے فیصلے کی پیشگی یقین دہانی چاہی اور یہ یقین دہانی نہ ملنے پر ان کو چیف جسٹس کے طورپر کام کرنے سے روک کر گھر بھجوا دیا۔ جنرل مشرف کے اس اقدام کے نتیجے میں ان کا ڈاﺅن فال شروع ہوگیا۔ یہ وکلاءکے احتجاج کاکرشمہ تھا کہ چیف جسٹس کامعاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کی بجائے سپریم کورٹ کے 13رکنی فل بنچ میں زیر سماعت آگیا اور فیصلہ جسٹس افتخار محمدچوہدری کے حق میں ہوا‘ وہ اپنے منصب پر بحال ہوگئے۔جنرل مشرف کو اس کے بعد ملک اعلیٰ عدلیہ سے محاذ آرائی بند کردینی چاہئے تھی ۔ وہ سپریم کورٹ سے چیف آف آرمی سٹاف کی وردی میں صدارتی الیکشن لڑنا چاہتے تھے اور چونکہ چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوتے ہوئے ایسا ممکن نہیں تھا لہذا انہوں نے 3نومبر2007ءکو ملک میں ایمرجنسی اور پی سی او کانفاذ کرکے ملک کی اعلیٰ عدالتوں کی بساط لپیٹ دی۔ یہ اقدام انہوں نے صدر مملکت کی حےثیت سے نہیں چیف آف آرمی سٹاف کی حیثیت سے اٹھایا تھا اور گویا انہوں نے ایک مرتبہ پھر ملک میں مارشل لاءنافذ کردیاتھا اور چونکہ انہیں معلوم تھا کہ ان کے اس اقدام کو ملک کے وکلاءسول سوسائٹی اور عوام کی اکثریت قبول نہیںکرے گی لہذا انہوں نے پی سی او کے تحت ‘ سپریم کورٹ کے سنیارٹی میں چوتھے نمبر کے جج عبدالمحید ڈوگر کو ملک کاچیف جسٹس اور چند دوسرے ایسے ججوں کو نئی سنیارٹی دے کرسپریم کورٹ قائم کرلی اور مختلف ہائی کورٹ کے ریٹائرہوکر گھروں میں بیٹھے افراد کو پی سی او کے تحت نئی تقرریاں دے کر ایسی سپریم کورٹ تشکیل دے دی جس نے ایک طرف انہیں چیف آف آرمی سٹاف کی وردی میں صدارتی الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی اور دوسری طرف پیپلزپارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے ساتھ امریکہ کے ذریعے طے پانے والے باہمی مفاہمت کے معاہدے کو این آر او کے نام سے قانونی شکل دے دی۔ چونکہ وہ خود آئندہ پانچ برسوں تک کے لئے 6اکتوبر کو ملک کے صدر منتخب ہوگئے تھے۔ انہیں اس صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کی اہلیت ‘ پی سی او چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے وسط نومبر2007میں ملی تھی۔وہ صدر پہلے منتخب ہوگئے تھے اورانہوںنے چیف آف آرمی سٹاف کی وردی اتاری تھی اس لئے انہوں نے سویلین صدر بنتے ہی جنوری2008میں ملک میں عام انتخابات کااعلان کردیا۔ بینظیر بھٹو جو 18اکتوبر 2007ءکو ان کی مرضی کے خلاف ملک میں واپس آگئی تھیں۔ وہ 27دسمبر 2007کو اپنی انتخابی مہم کے دوران لیاقت باغ راولپنڈی سے نکلتے ہوئے قتل ہوگئیں اور انتخابات 18فروری 2008ءتک ملتوی ہوگئے اور ان انتخابات کے نتیجے میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومت بن گئی اور اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کویقینی سمجھ کر انہوں نے صدارت کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا اور ملک سے چلے گئے۔ انتخابات کے بعد وزیراعظم کے انتخاب تک سپریم کورٹ کے معطل یا غیر فعال ججوں کو ان کے گھروں میں نظر بند رکھاگیا۔ ان کے گھر کوجانے والے راستوں پر خاردار تار یں بچھی رہیں۔ یہ سب مارچ 2008میں ختم کرنے کاحکم ہوا جب سید یوسف رضا گیلانی کو ملک کاوزیراعظم منتخب کرلیاگیا ۔جنرل مشرف کی جگہ آصف علی زرداری ملک کے نئے صدر بن گئے لیکن زرداری اور ان کی پارٹی نے چیف جسٹس سمیت اعلیٰ عدلتوں کے ججوںکو بحال نہیں کیا۔ مسلم لیگ ن حکومت سے الگ ہوگئی۔ پنجاب میںمسلم لیگ ن کی حکومت کو معطل کرکے گورنر راج نافذ کیاگیالیکن عوامی دباﺅ پر 16مارچ 2009کو اعلیٰ عدالتیں بحالی ہوگئیں۔ چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری کو دوبارہ اپنا منصب 22مارچ کو سنبھالنا پڑا کہ جسٹس ڈوگر 20مارچ کو ریٹائر ہورہے تھے۔ انہیں باعزت ریٹائر ہونے کاموقع دیاگیا۔ جنرل پرویزمشرف اب الیکشن 2013میں شامل ہونے کے لئے ملک میں واپس آئے تو وکلاءکی طرف سے ان کے خلاف ججز نظر بندی کیس اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر ہوگیا۔ انہیں ابتداءمیں اس کیس میں عبوری ضمانت دے دی گئی تھی۔ 18اپریل کو ضمانت کوکنفرم یامسترد کیاجاناتھا اورگزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی گرفتاری کاحکم دے دیا لیکن وہ چک شہزاد میں واقع اپنی رہائش گاہ میں جا کر بیٹھ گئے ہیں۔ موجودہ حکومت ان کے متعلق عدالتوں کے فیصلوں کااحترام کرنے کاکہہ چکی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کافیصلہ ان کے لئے ”زحمت کی بجائے اس لحاظ سے رحمت“ ہے کہ زیر حراست ہوں گے تو بم دھماکوں اور عوامی نفرت سے محفوظ ہیں۔ پرویز مشرف کو مسلم لیگ(ن) کے پرویزرشید نے ملزم سے مجرم اور عدالت سے فرار ہو جانے پر فرار مجرم قرار دیا ہے۔ پوری قوم بھی پرویزمشرف کے ان کے دور میں اٹھائے گئے آمرانہ اقدام کے خلاف سراپا احتجاج ہے لہٰذا آزاد عدلیہ کے جراتمندانہ اقدام پر پوری قوم آج بھی عدلیہ کی پشت پر کھڑی ہے۔ایک دلیر آدمی جاوید ہاشمی نے بھی درست کہا ہے کہ جب مشرف نے ہمیں جیلوں میں بند رکھا اور جھوٹے کیس بنائے تو پھر اس آمر کو قانون کے ذریعے چک شہزاد سے اڈیالہ جیل کیوں نہیں لے جایا جا سکتا۔