انتخابی امیدواروںکا تحفظ نگراں حکومت کی ذمہ داری

کالم نگار  |  ادیب جاودانی

ملک میں دہشت گردی تو کئی سال سے جاری ہے مگر اب اس کا رخ بڑی تیزی سے سیاستدانوں کی طرف ہوگیا ہے پشاور میں سابق وفاقی وزیر اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر غلام احمد بلور کے جلسے پر خود کش حملہ اور بلوچستان کے ضلع چاغی میں مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر نواب ثناءاللہ زہری کے قافلے پر ریمو ٹ کنٹرول بم حملہ اور چار سدہ میں اے این پی کے رہنما اسفند یار ولی کے حلقہ سر ڈھیری میں اے این پی کے رہنما فاروق خان کی گاڑی پر حملہ ہوا جس میں نو افراد زخمی ہوئے فاروق خان محفوظ رہے۔
خیبرپختونخواہ کے علاقوں شبقدر اور سوات میں دو قوم پرست جماعتوں کے رہنما¶ں جن میں ایک سابق صوبائی مشیر بھی شامل ہے کو بم دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجہ میں ایک رہنما جاں بحق جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔ تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ نے نامعلوم مقام سے ٹیلی فون پر بتایا کہ سوات اور چار سدہ کے علاقے شبقدر میں ہونے والے دونوں واقعات کی ہم بخوشی ذمہ داری قبول کرتے ہیں انہوںنے خبردار کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی‘ متحدہ قومی موومنٹ اور پیپلزپارٹی کے خلاف ان کی جنگ جاری رہے گی۔ دریں اثناءعوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ اگر اب خدا نہ کرے میری پارٹی کا کوئی بھی کارکن جاں سے گیا تو میں تو چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن پر دعویٰ کروں گا۔ ان کے کئی رہنما¶ں پر حملے ہوئے جن میں وہ بچ گئے مگر ان کی حفاظت کے حوالے سے ان کے خدشات کو الیکشن کمیشن مدنظر نہیں رکھ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ وہ اس سب کو ’پری پول رگنگ‘ یا انتخابات سے پہلے دھاندلی ہی سمجھتے ہیں۔ یہ لوگ ایک خاص ذہنیت کے خلاف چل رہے ہیں اور ایک خاص ذہنیت کے لوگوں کو یہ انتخابات سے باہر رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ میں اتنا کہہ دوں کہ جس ذہنیت کو یہ لوگ لانا چاہتے ہیں وہ اس ملک کیلئے ہی نہیں بلکہ خطے کیلئے تباہی ہوگی۔ سوات اور شبقدر کے واقعات میں یہ مماثلت ضرور ہے کہ دونوں سیاسی رہنما¶ں کو ایک طریقے سے نشانہ بنایا گیا اگرچہ تحریک طالبان کے ترجمان نے شبقدر کے ساتھ ساتھ سوات کے واقعے کی بھی ذمہ داری قبول کی ہے لیکن چونکہ قومی وطن پارٹی اس لسٹ میں شامل نہیں جس میں تین جماعتوں کے امیدواروں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا گیا تھا اس بنیاد پر اور سوات پولیس کے اس بیان پر کہ سوات میں نشانہ بنائے گئے سیاسی رہنما کی دشمنیاں بھی تھیں جب تک اس بارے حقائق سامنے نہیں آتے تب تک اسے اسی بنیادوں پر ہونے والا واقعہ قرر دینا درست نہ ہوگا۔چند روز پیشتر تحریک طالبان کی طرف سے واضح دھمکی دی گئی تھی کہ اے این پی‘ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو جلسے نہیں کرنے دیئے جائیں گے۔ یہ دھمکی نہیں تھی اس کا عملی مظاہرہ بھی کردیا گیا۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق بم دھماکے ‘ دہشت گردی ‘ انتخابات رکوانے کیلئے کئے جا رہے ہیں آثار ایسے ہی دکھائی دیتے ہیں بہرحال سیاسی عمائدین اور انتخاب لڑنے والے امیدواروں کو تحفظ کی فراہمی انتظامیہ کا فرض ہے اس مد میں الیکشن کمیشن کی ذمہ داری اور کردار بھی بنیادی کی اہمیت کا حامل ہے کہ وہ ہر حکومت کو ہر قیمت پر تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کرے۔
دریں اثناءنگران وزیر داخلہ حبیب خان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے رہنما¶ں اور الیکشن لڑنے والے امیدواروں کو ان کی گریڈنگ کے تحت سیکورٹی فراہم کی جائے گی۔ یہ اچھی بات ہے لیکن تجزیہ نگاروں کے مطابق ابھی تک انہوں نے مذکورہ بالا افراد کو کوئی سیکورٹی فراہم نہیں کی اگر کسی سیاستدان کو کچھ ہوگیا تو وہ اس کا ذمہ دار نگران حکومت کو ہی ٹھہرائے گا۔