چیف جسٹس اور وزیراعلیٰ فوری ایکشن لیں!

کالم نگار  |  خواجہ ثاقب غفور

ملک و قوم کی عزت کو رسوائیوں سے ہمکنار کرتے ہوئے چند انسانیت دشمن حیوان نما انسانوں نے گذشتہ دس دن کے دوران 5 سال سے 17 سال تک کی چار بے گناہ معصوم لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بناکر ہمارے قانون‘ قانونی اداروں‘ اعلیٰ ججوں‘ تفتیش کاروں‘ میڈیکل رپورٹ بنانے والے ڈاکٹروں‘ اعلیٰ حکام اور مجموعی طور پر وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو اب کچھ فوری اور سنجیدہ اقدامات اٹھانے پر ”مجبور“ کر دیا ہے۔ یہ صورتحال ہمارے اعلیٰ حکام‘ پولیس تفتیشی نظام‘ چالان‘ فوری عدالتی نظام‘ جنسی جرائم کی خصوصی عدالتوں کے نئے اور فوری نظام کے انتظامی‘ مثالی اور سخت گیر فوری انصاف کے نظام کی تشکیل کے لئے اقدامات کا تقاضا کر رہی ہے۔ روزانہ صوبہ پنجاب‘ سندھ‘ بلوچستان‘ خیبر پختونخوا میں بچیوں اور بچوں کو زیادتی اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جانا ”ریاست اور ریاستی نظام انصاف کے لئے ”طمانچے“ سے کم نہیں!اگر انتظامی‘ عدالتی اقدامات میں تاخیر یا کوتاہی ہوتی ہے‘ یہ کسی بھی وجہ سے ہو اور مہینے یا دو مہینے میں مزید کتنی بچیوں کو ”عذاب زندگی“ سے گزرنا پڑتا ہے تو ہمارے چیف جسٹس‘ پارلیمنٹ‘ کابینہ‘ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور وزرائے اعلیٰ حضرت خدا کے ہاں آخرت میں لازماً جوابدہ ہوں گے۔ جواب تو ہر ظلم‘ ناانصافی‘ دیر سے سزا¶ں کے دینے‘ اسلامی حدود و تعزیرات کا نظام شریعت نافذ نہ کرنے کا دینا پڑے گا! لہٰذا آج زندگی اور اقتدار کے موقع ہے کہ فوری اور انصاف پر مبنی سخت سزا¶ں کا نفاذ کرنے کی جانب فوری پیش رفت کرتے ہوئے 10 دن کے اندر اسمبلیوں سے نئے قوانین منظور کروا کر نافذ کر دئیے جائیں۔ آخر ہم اسلامی شرعی سزا¶ں کے خدائی نظام اور نبی کی زندگی میں جاری کی گئی شرعی سزا¶ں سے منہ موڑ کر خدا اور رسول کے کیوں مجرم بنتے ہیں۔ خدا اور رسول نے بیمار ذہن‘ تشدد پسند‘ جنسی جنونیوں‘ جرائم پیشہ و جرائم ذہنیت بدمعاشوں سے معاشرہ پاک کرنے کا ”نظام“ اور احکامات ایک صالح معاشرے اور جان‘ عصمت‘ آبرو کی حفاظت کے لئے دئیے ہیں ہم نہ تو ملکی نظام کے قوانین سزائے موت وغیرہ پر عملدرآمد کرتے ہیں نہ یہودیوں‘ امریکیوں‘ مغربی طاقتوں کی منشا کے خلاف شرعی نظام کے نفاذ کی جانب آگے بڑھتے ہیں اگر سخت سزا¶ں کا نظام اتنا ہی بے کار ہوتا تو چین‘ سعودی عرب‘ ایران‘ افغانستان‘ ملائیشیا‘ یمن‘ بھارت (زیادتی پر سزائے موت) میں یہ نافذ نہ ہوتا۔ دیگر کئی ممالک میں بھی جنسی زیادتی پر سخت سزائیں مقرر ہیں خود امریکہ‘ برطانیہ‘ جرمنی‘ کینیڈا وغیرہ میں تو صرف خواتین کو جنسی طور پر ہراساں (چھیڑنے یا زبردستی چھونے‘ خواہش کا اظہار کرنے‘ مجبور کرنے پر بھی) کرنے پر ”جیل“ بھیج دیا جاتا ہے! ہمارے ہاں نہ جانے کس قسم کے حکام اور پارلیمنٹ ہے جو نہ جنسی جرائم پر مجرموں کو سزائیں نافذ کراتے ہیں نہ ”نظام“ میں موجود قانونی و شرعی ”سقم“ دور کرتے ہیں کہ ساٹھ‘ ستر ”مجرم“ عوام کے ہزاروں کے مجمع کے سامنے‘ ملک بھر کے تمام اضلاع میں اپنے ”انجام“ کو پہنچیں!
روزنامہ نوائے وقت کے سینئر رپورٹر کی تحقیقاتی رپورٹ تو وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف اور چیف جسٹس صاحبان کے لئے ایک چیلنج ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق صرف لاہور شہر میں بچیوں‘ لڑکیوں‘ خواتین سے زیادتی و اجتماعی زیادتی کے 145 مقدمات پولیس میں درج ہیں جن میں سے 115 ملزمان ابھی گرفتار ہی نہیں ہوئے 109 کے قریب گرفتار ہیں اور گذشتہ آٹھ ماہ کے دوران اجتماعی زیادتی کے 32 واقعات میں سے کسی کو ابھی تک سزا نہیں دی گئی‘ صرف مقدمات مختلف مراحل میں ہیں!!
بھارت میں ایک بس میں لڑکی سے اجتماعی زیادتی کیس کے ملزمان کو چند ماہ کی عدالتی کارروائی کے بعد سزائے موت سنا دی گئی 4 مجرم سزائے موت کی سزا کے مستحق ٹھہرے ایک نے ضمیر اور ڈپریشن میں خود کشی کر لی! یہ صورتحال ہمارے عدلیہ کے لئے آئینہ ہے!! ۔ ہمارے عدالتی نظام اور پولیس تفتیشی کے نظام اور چالان‘ گواہوں کے لئے ”نیام نظام“ بنانے کی فوری کوششیں کرنا ہوں گی اصل ”علاج“ تو ”خدائی قانون“ کے نفاذ کا ہے جس نے حکم دیا ہے کہ ملک کو برائی کے سرغنوں سے پاک کرکے امن‘ سکون ہر مرد عورت کو فراہم کیا جائے۔ ہمارے چیف جسٹس صاحبان کو فوری طور پر وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے فوری انصاف کی خصوصی عدالتوں (6 ماہ میں فیصلہ) کے لئے اپنا ”عدالتی ڈیمانڈز“ کا مطالبہ کرنا چاہئے۔ اگر ریاست لٹتی عزتیں بھی نہیں بچا سکتی تو پھر حکمران اور ججوں کو اپنے اقتدار اور ”ٹوہر شور“ کا کوئی حق نہیں! قومی ردعمل دس دن میں میڈیا نے دکھا دیا ہے اب یہ وزیراعظم پاکستان‘ چیف جسٹس صاحبان کا امتحان ہے کہ وہ اپنے ”نظام“ کی ”اوور ہالنگ“ کرتے ہیں یا نہیں؟ معصوم و مجبور لڑکیوں اور ان کی ما¶ں کی آہیں عرش الٰہی ہلا دیتی ہیں‘ خدائی نظام اپنے وقت پر ”حرکت“ میں آتا ہے پھر بڑے بڑے ”الٹا“ کر رکھ دئیے جاتے ہیں جو ”بچ“ جاتے ہیں وہ قیامت کے دن جوابدہ ہوں گے۔