مداری تماشا

کالم نگار  |  رخسانہ نور

ریاست کی شاید ضرورت ہی اس لئے پڑی کہ معاشرتی ماحول میں بڑھتی انسانی ضروریاتِ زندگی کی وجہ سے انفرادی سطح پر تمام حیاتی مسائل کا حل ممکن نہ رہا۔ ریاست نے اپنی رعایا کے تحفظ اور زندگی کے سکون کی فراہمی کو کچھ ذمہ داریوں سے مشروط کر دیا جو جدید دنیا میں ٹیکس اور لاءاینڈ آرڈر کی صورت میں نظر آتی ہیں۔ جب کوئی معاشرہ ترقی یا تنزلی کی طرف گامزن ہوتا ہے تو اُسے تاریخ کے اوراق کبھی بھی ایک دن کی خطا و جزا کے ترازو میں نہیں تولتے، اور نہ ہی ذہنی و سماجی پراگندگی کو لمحوں کی بھول کی آڑ میں نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ اچھا معاشرہ بننے میں اگر زمانے لگتے ہیں تو بگڑنے میں بھی کچھ دہائیاں لگ ہی جاتی ہیں۔ جب بگاڑ کا سفر شروع ہوتا ہے تو کبھی بھی غیر محسوس نہیں ہوتا۔ سوچنے والوں اور اربابِ اختیار کو قوموں کا مستقبل دور تک نظر آ رہا ہوتا ہے بالکل ایسے ہی جیسے کسی سیانے دہکان کو اپنی لہلہاتی کھیتی دیکھ کر آنے والے اچھے دنوں کا سندیہ مل جاتا ہے اور بالکل اسی طرح دریا کنارے بسنے والوں کو ہر لمحہ بہہ جانے کا خدشہ رہتا ہے تو کیسے مان لیا جائے کہ ہمارے معاشرے کو تباہی کے دہانے تک لانے میں اس معاشرے کی ”اشرافیہ“ سوچنے والے ذہن اور ریاستی اربابِ اختیار کی کوتاہ نظری نہیں۔؟ بلکہ اپنی ذات کے خول کے ان محافظوں کو معاشرتی بگاڑ کے بڑھاو¿ کا کافی حد تک ذمہ دار بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ زیادہ پرانی بات نہیں!! یہ 80ءکا عشرہ تھا جب میں نے قلم سنبھالا اور صحافتی سفر کا آغاز کیا۔ یونیورسٹی سے تازہ تازہ پڑھ کے آنے والے نڈر ذہنوں کی طرح جب کبھی بھی سماجی مسئلہ پر بات کی اگلے روز متعلقہ اداروں کی وضاحتیں، معذرتیں اور ادارتی ہڈ کی جانب سے ہاتھ نرم رکھنے کی سرزنش ضرور موصول ہوتی۔ تب تو اندازہ نہیں ہوا آج ضرور یقین ہے تب سے یا اُس سے بھی ایک ڈیڑھ دہائی پہلے سے اثرورسوخ سے سچ دبانے کی مہم شروع ہو چکی تھی لیکن ہمارے ملک کی تھینک ٹینک جو کہ کبھی تھا ہی نہیں، اور نہ ہی ”اشرافیہ“ نے طوفان کی آمد کو محسوس کیا۔ جب محسوس ہی نہ کیا تو تدارک چہ معنی!! لیکن آج جب میڈیا اتنی ترقی کر گیا ہے کہ اُس کی آنکھ سے کسی کا گھر اور بیڈ روم تک محفوظ نہیں اپنی چرب زبانی سے میڈیا کہیں بھی کیمرے کی آنکھ اور کسی ہاتھ میں تھمائے گئے مائیک سے اپنے نقطہ نظر کے لئے استعدلالی سوچ کی بجائے سطحی واہ ویلا کرتے اپنے ساتھ بھیڑ اکٹھی کرلیتا ہے تو اُس کے بعد اگلے ہی چند لمحوں میں پروگرام کے اینکر سمیت سب کو ”آن ایئر“ ریٹنگ پر داد کی وصولیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ میری سمجھ سے باہر ہے کہ آخر ہم داد وصول کس بات پر کر رہے ہیں؟ اپنے معاشرے کو بگڑے چہرے پر اور بھی گند ملنے پر، اپنے ماحول میں سراسمیگی پھیلانے پر یا پھر ایک اذیت ناک خوف کی فضا پیدا کرنے پر ؟؟ ہم اپنے ٹی وی ریموٹ کو انگلیوں کی پوروں سے دباتے چلے جاتے ہیں۔ ایک سے بڑھ کے ایک مداری دیکھتے چلے جاتے ہیں۔ منہ میں لاو¿ڈ سپیکر لگائے سیاسی، سماجی، مذہبی احباب سے لے کر کیمرے کے پیچھے کھڑی سوچ تک، بے اثر سطحی اور وقتی ....!! آخر ہم مداریوں کی اس بھیڑ سے نکل کر راست استعدلالی دوررس نتائج پر مبنی راہ اختیار کیوں نہیں کر رہے؟ زندگیاں، بچے، عصمتیں اب کھونے کو اور کیا بچا ہے!!! آخر کون سی نیند آور گولیاں کھا لی ہیں سب نے کہ ہوش میں آنے کا کہیں نشان تک نہیں.... اس میں قطعی کوئی شک نہیں کہ معاشرتی بگاڑ میں حکومتوں کا ہاتھ تو ہوتا ہی ہے جیسے پاکستانی معاشرے کے قتل عام پر ضیاءالحق کو ہماری آنے والی کئی سو نسلیں بھی معاف نہ کریں تو حق بجانب ہیں لیکن اُس تاریک دور کے دوران اور اُس کے بعد معاشرے میں افراد نے اپنے انفرادی کردار کو نظرانداز کرتے ہوئے ہر عیب کی جڑ آخر وہی ایک وجہ کیوں بنا رکھی ہے جو لکیر پیٹنے کے مترادف ہے۔ آخر افراد کی ذہنی پراگندگی، غلط سوچ اور بے راہ روی کے لئے ٹوٹتا پھوٹتا معاشی نظام ہی کیوں وجہ قرار پا رہا ہے۔ بھوک کو اتنا کیوں بڑھا رہے ہیں کہ سراپا بھوک ہی بن گئے ہیں اور یہ ہر طرح کی بڑھتی بھوک سماج کا چہرہ مسخ کر رہی ہے۔ کہتے ہیں گٹر بند ہو جائے تو گلی کوچوں کے اندر گٹروں کا غلیظ پانی آ جاتا ہے تب گھروں میں صاف پانی کا استعمال و اخراج بھی کم کروا دیتے ہیں کہ یہ پانی بھی بند گٹر میں غلاظت کا بڑھاوا بن سکتا ہے۔ یہی سوچ سدھار کی پہلی کڑی ہے کہ ہم اپنے گھر اور اہل خانہ کو راست ادراک سے آشنا کروائیں کیونکہ کسی بھی معاشرے میں ہر کام ریاست نہیں کرتی، کچھ کام افراد کے خود بھی کرنے ہوتے ہیں اور اگر افراد کو کسی کام کے لئے مائل کرنا ہے کسی خاص سوچ کا سمندر بنانا ہے تو پھر ہمارے معاشرے کی ماں کو جاگنا ہوگا!! کیونکہ جب کوئی ماں بیٹا جنم دیتی ہے تو سماجی، معاشرتی اور گھریلو سطح پر اس کو اپنی ذات کے تحفظ کا احساس ہوتا ہے جیسے اس کی گود میں آنے والا ننھا سا بچہ اُس کی بیٹوں کی عزتوں کا محافظ ہے تب وہ اسے یہی لوریاں دیتی ہے کہ ننھے فرشتے جلدی بڑا ہو جا، اور بڑے بڑے کام کرنا اپنے ملک کے لئے بھی اور ماں باپ کی عزت کے لئے بھی!! کوئی بھی ماں درندے نہیں پیدا کرنا چاہتی لیکن آنے والا وقت کس فرشتے کو شیطان کاروپ دے دے کوئی ماں نہیں جانتی تو اس کے لئے اب پاکستانی ماںکوشیر کی آنکھ اور فولاد کا دل رکھنا ہوگا بالکل ایسے ہی جیسے ارباب اختیار کا اقرار ہے کہ جانوروں جیسی سوچ کی نفی کے لئے مزید سخت قانون بنائے جائیں گے اور ان کی پاسداری کرنا ہوگی۔ کیونکہ جن کو عصمت دری پر سرِعام دار پر لٹکایا جائے گا وہ بھی کسی ماں ہی کے جنے ہوں گے!!تو کیا پھر بہت سارے مداری تماشا کریں گے؟ جیسے اس 5 سالہ بچی کی پھوپھو، بہن اور دادی کے سر پر تماشا گروں نے اذیت ناک سواری کی۔ کہنا صرف یہ ہے کہ زخموں پر پھاہا رکھنے اور نمک چھڑکنے کا جب انداز ایک سا ہو جائے تو حساس مداری کو تماشا بند کر دینا چاہیے۔