شام ۔۔۔ملی وقومی غیرت

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان

امریکی ادارے قومی سلامتی ایجنسی کے عہدیدار ایڈور ڈ سنوڈن نے پوری دنیا کو بتادیا کہ امریکی حکومت اپنے ہی شہریوں کی جاسوسی کرتی ہے۔ یہ کام اس کے فرائض میں بھی شامل تھا۔اس کے بعد جان بچانے کےلئے وہ امریکہ سے فرار ہوا۔ چین اور ہانک کانگ سے ہوتا ہوا روس جاپہنچا۔ سنوڈن نے 21ممالک سے پناہ کیلئے رابطہ کیا لیکن امریکہ کے خوف سے کہیں سے خیرات نہ ملی البتہ روس نے اسے قبول کرلیا۔ امریکہ نے زبردست دباﺅ ڈالا لیکن روس ناں ،ہاں میں بدلی ۔ دونوں کے مابین قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ بھی موجود ہے ۔اسی معاہدے کے تحت امریکہ میں پکڑی جانیوالی روسی خوبرو جاسوسہ اینا چیمپئن واپس آئی تھی جس نے روس میں ماڈلنگ شروع کردی۔اب اینا نے سنوڈن کو شادی کی دعوت دی ہے۔ سنوڈن کو روس میں باقاعدہ پناہ دیدی گئی ہے۔ صدرپیوٹن نے امریکہ کو جواب دیا روس پنا ہ لینے والوںکبھی واپس نہیں کرتا۔ حالیہ دنوں میں روس کی طرف سے سپر پاور امریکہ کی یہ پہلی سبکی تھی۔ دوسری تب ہوئی جب روس نے امریکہ کی شام پر حملے کی خواہش اور تیاری کو خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے۔
شام کو باغیوں کے خلاف مہلک گیس اور کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے پر سبق سکھانے کیلئے اوباما نے تلوار سونپ لی اور کیری نے کمان پر تیر چڑھا لیا تھا۔پل بھر میں شام عراق اور افغانستان کی طرح کھنڈرات میں تبدیل ہوتا نظر آرہا تھا۔اوباما کی سیماب صفت طبیعت جو شائد ان کی جبلت، سرشست، فطرت اور خصلت کا حصہ ہے، کے سامنے اقوام متحدہ کیا خود اپنی کانگریس بھی ہیچ نظر آئی۔ ایک موقع پر فرمایا کہ شام پرحملہ کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی اجازت کی ضرورت نہیں، صرف امریکی کانگریس سے منظوری لی جائے گی پھر عزم باندھا کہ کانگریس نے منظوری نہ دی تو بھی حملہ کردیاجائے گا۔ اوباما کی حملے کی ہٹ دھرمی میںروس اور چین کی سخت مخالفت کے بعد نرمی آئی خصوصی طورپر روس کی یہ دھمکی کام کرگئی کہ امریکہ نے شام پر حملہ کیا تو روس سعودی عرب پر چڑھائی کردے گا۔ شام پر حملے کیلئے عرب ممالک زیادہ پھرتیاں دکھاتے ہوئے بشارالاسد کا پتہ کٹوانے کیلئے بے قرار تھے۔ انہوں نے امریکہ کو جنگ کے اخراجات اٹھانے کی پیش کش بھی کی۔
شامی حکومت اور باغیوں کی جنگ میں انسانی خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ بشار الاسد اپنے اقتدار کو بچانے اور باغی اسے چراغ کو بجھانے کیلئے سرگرداں ہیں۔اپنے اپنے مفادات کی جنگ میں دونوں نے بربریت بپا کر رکھی ہے اور اس میں بیرونی دنیا نے اپنے حصے کا تعین کرکے جنگل کے قانون کے تحت اس کے حصول کی پلاننگ کی تو عوامی سطح پر ہر ملک میں مخالفت ہوئی ۔چند ممالک دنیا کی واحد سپر پاور کے سامنے کھڑے بھی ہوگئے۔ایسا کبھی تو ہونا تھا۔ امریکہ کی بے کنار ہوتی طاقت، پوری دنیا پر غلبے کی خواہش اور توسیع پسندانہ عادت کے سامنے بند تو باندھا جانا تھا۔سو اب بندھ گیا ہے اور دنیا کی خوش قسمتی ہے کہ یہ سب کچھ پُر امن طریقے سے ،بغیر کسی بڑی تباہی بلکہ ایک اور عالمی جنگ کے ہوگیا۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دنیا کے چند با اثر ممالک اگرٹھان لیں تو سپر پاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرکے ناممکن کو ممکن بناسکتے ہیں۔ فلسطین اور کشمیر کے مسائل بھی پُر امن طریقے سے حل ہوسکتے ہیں۔ شاید ان ممالک کے مسئلہ کشمیر اور فلسطین سے اُس طرح کے مفادات وابستہ نہیں ہیں جس قسم سے شام پرحملے کی حمایت اور مخالفت سے وابستہ تھے یا پھر پاکستان اور عرب ممالک کشمیر اورفلسطین کے کیس صحیح طورپر دنیا کے کے سامنے پیش نہ کرسکے ۔
 شام نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے پاس کیمیائی ہتھیار موجود ہیں جو اسرائیل کے ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف سدِ جارحیت کیلئے ہیںوہ باغیوں کے خلاف استعمال نہیں ہوئے جبکہ دوسرا فریق مُصر ہے کہ کیمیائی ہتھیار حکومت نے استعمال کئے ،ایسا ہی باغیوں کے بارے میں کہاجارہا ہے۔تحقیق سے قبل ہی امریکہ نے شام کا گھیراﺅ کرلیا۔ ہوسکتا ہے اس کو ایک بار پھر گمراہ کیا گیا ہو۔صدام کے پاس تباہ کن ہتھیار ہونے کی گواہی عراقی حکومت سے الگ ہونے والے جاسوس رافض احمد السعوان الجنابی اور عراقی خفیہ ایجنسی کے سابق افسر میجر حارث نے دی تھی۔
دونوں نے اپنے طورپر نوکریوں سے نکالے جانے کا انتقام لینے کیلئے یہ ڈرامہ رچایا۔صدام کا وزیر خارجہ ناجی صابری بھی سی آئی اے کا مخبر تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان جاسوسوں کے جھوٹ کا پول کھل گیا لیکن اس وقت تک لاکھوں عراقی موت کی لکیر پار کر چکے تھے ۔شام میں بھی ہو سکتا ہے کہ ایسے جاسوس ہی اپنا کام دکھا رہے ہوں۔
روس کے سپر پاور ہونے کا بھرم افغان جنگ میں ٹوٹ گیا لیکن اس نے اپنی انا اور قومی غیرت پر سودے بازی نہیں کی۔ امریکہ و روس کی ایک دوسرے کے خلاف دوستی نفرت اور جاسوسی کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔روس نے امریکہ کی مطلوب افراد اس کے حوالے کرنے کی خواہش کبھی پوری نہیں کی۔ہم عافیہ صدیقی کی رہائی کی بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ مجرموں کی رہائی کا معاہدہ نہیں ہے۔ایمل کانسی کا امریکہ میں اور ریمنڈ ڈیوس کا پاکستان میں کیا گیا جرم ایک جیسا تھا۔ اس نے ایمل کانسی کو یہاں سے لے جا کر مقدمہ چلایااورسزا موت پر عمل کرکے لاش پاکستان کے حوالے کردی ہم نے ریمنڈ ڈیوس کو زندہ امریکہ کے حوالے کردیا جو پاکستان کی سلامتی کے خلاف بھی کام کر رہا تھا۔کیا قومی و ملی غیرت اس کا نام ہے؟۔ہم تو لاطینی امریکہ کے ممالک نکاراگوا اور وینزویلا سے بھی گئے گزرے ہیں ۔ ان ممالک نے سنوڈن کو پناہ دینے کی پیشکش کی تھی۔