سعودی عرب۔ شاہ عبدالعزیز سے شاہ عبداللہ تک

کالم نگار  |  محی الدین بن احمد الدین

سعودی عرب کا ”اجتماعی وجود“ سعودی موسمی کلینڈر کے ماہ میزان کی یکم تاریخ کو وقوع پذیر ہوا تھا۔ یہ دن 23 ستمبر کا بھی ہے۔ اس دن الگ الگ ریاستوں میں بٹا ہوا قبائلی عرب جغرافیہ شاہ عبدالعزیز کی بادشاہت کی صورت میں ایک ملک بن گیا۔ شاہ عبدالعزیز نے خود کو بانی مملکت، کامیاب جرنیل اور فاتح، کامیاب و مدبر حکمران اور فاتح فرعونی عرب ازم کے طور پر منوایا۔ جمال عبدالناصر کو شکست فاش دی اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو سعودی عرب کی روحانی قیادت کو تسلیم کرنے پر آمادہ کیا۔ ریاض کے قلعے کے باہر بادشاہت کے قیام کی تختی پتھر پر کندہ ہے۔ بیت اللہ کے ارد گرد تعمیراتی کام ہوا۔ ان کے بعد شاہ سعود حکمران رہے۔ ان کی عہد میں بیت اللہ کی بنیادوں کو مضبوط کیا گیا موجودہ مقام ابراہیم کو پرانی عمارت گرا کر تعمیر کیا گیا جس سے طواف کی جگہ میں اضافہ ہوا۔ شاہ سعود سے شاہ فیصل نے اقتدار چھین لیا کہ وہ غیر سنجیدہ ثابت ہو رہا تھا۔ شاہ فیصل نے سعودی خاندان کو ملنے والی وافر مالی مراعات پر پابندی لگائی جس سے کچھ شہزادے ناراض ہو کر جمال عبدالناصر کے پاس قاہرہ میں چلے گئے مگر جلد ہی وہ معافی مانگ کر لوٹ آئے ۔ شاہ فیصل نے رابطہ عالم اسلامی اور او آئی سی کو متحرک کیا۔ بیت المقدس کی جنگ لڑی۔ سعودی تیل کو سعودی عوام کی فلاح و بہبود اور سعودی عرب کو جدید فلاحی ریاست بنانے کے لئے وقف کیا بحر احمر میں جدہ سے مدینہ منورہ تک تیل دریافت ہوا مگر اسے انہوں نے مستقبل کے لئے محفوظ کر دیا۔ جو سونے کی کانیں دریافت ہوئیں وہ بھی مستقبل کے لئے محفوظ بنا دی گئیں۔ تیل کو بیت المقدس کی آزادی کے لئے استعمال کرنے پر مغربی خفیہ ایجنسیوں نے اپنے ہی ایک شرابی رشتے دار سے شاہ فیصل کو قتل کروایا۔ ان کے بعد شاہ خالد کو اقتدار ملا۔ وہ نیک، سادہ لوح اور پارسا انسان تھے۔ انہیں عوام ”صالح بادشاہ“ کے نام سے پکارتے تھے۔ ان کے ہمراہ شہزادہ فہد ولی عہد بنے۔ زیادہ تر فیصلے وہی کرتے تھے۔ پاکستان میں صنعتی شہر لائل پور کو شاہ فیصل شہید کے نام پر منسوب کیا گیا۔ جنرل ضیاءالحق نے خود اس شہر کا نام ”فیصل آباد“ رکھا۔ آج شاہ فیصل کے بیٹے سعود الفیصل وزیر خارجہ ہیں۔ خالد الفیصل گورنر مکہ ہیں۔ محمد الفیصل نے اسلامی بنک کی بنیاد رکھی۔ شاہ خالد کے بعد ولی عہد فہد بادشاہ بنے۔ انہوں نے مسجد نبوی میں عظیم ترین توسیع کروائی۔ بیت اللہ سے اردگرد ترک تعمیر کے ساتھ نئی ائرکنڈیشن توسیع کروائی تھی مدینہ منورہ میں قرآن پاک کی اشاعت کا ادارہ قرآن کمپلیکس قائم کرکے دنیا بھر کی زبانوں میں تراجم کروا دئیے گئے اور دنیا بھر میں مفت ہی آج بھی تقسیم ہوتے ہیں۔ ان کے ولی عہد شہزادہ عبداللہ تھے۔ لمبے قد مسکراتے چہرے والے وہ جوانی سے ہی ہمارے دل میں بطور ”رہنما“ بس گئے۔ کراﺅن پرنس کے طور پر وہ عملاً بادشاہ ہی تھے کیونکہ شاہ فہد علیل تھے۔ انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کے پہلے عہد میں پاکستان کا دورہ کیا اور یوں شریف خاندان سے ان کے ذاتی قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ انہیں 9/11 کا ”حادثہ“ دیکھنے کو ملا جس میں مصری اور سعودی شہری ملوث بتائے گئے۔ انہوں نے ریاض میں دنیا بھر سے علمائ، دانشور اور مدبرین کا ریاض میں اجتماع منعقد کیا اور شاہ فیصل ہال میں تین روزہ کانفرنس منعقد ہوئی جس میں 9/11 کے مسلمانوں پر منفی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ ان دنوں صدام حسین اور امریکہ میں جنگ کی فضا تھی ہم سب کی موجودگی میں عالمی میڈیا کے سامنے ولی عہد عبداللہ نے صدام حسین کی منت سماجت کی کہ وہ عراقی عوام کی خیر خواہی میں اقتدار چھوڑ دیں اور خود سعودی عرب کے محترم مہمان بن کر ہمیشہ کے لئے ان کے ہاں قیام کریں۔ مگر صدر صدام حسین نے اس پیشکش کو قبول نہ کیا۔ شاہ عبداللہ نے ایران کے ساتھ ان کے تلخ تعلقات کو محبت کا رنگ دیا۔ صدر ہاشمی رفسنجانی کو احترام سے ریاض بلوایا جو روضہ رسول کے اندر جا کر حاضری کا ماحول پیش کیا۔ ان کے بعد صدر خاتمی کو ریاض مدعو کیا ان کے بعد صدر احمدی نژاد کو مدعو کیا۔ یوں عمدہ تعلقات کے بانی کہلائے مگر افسوس کہ صدر احمدی نژاد کے دوسرے عہد صدارت میں سعودی عرب کو گریٹر ایران بنانے پر اصرار عمل کو دیکھنا پڑا ہے۔ سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں ”مسلک“ اور ”فرقے“ کی بنیاد پر ایرانی توسیع پسندی کی حکمت عملی بار بار سامنے آئی جس سے سعودی عرب کو بہت سے حقیقی اندیشے اور خدشات لاحق ہوئے کہ ان کا جغرافیہ توڑا جا رہا ہے۔ پھر بھی شاہ عبداللہ نے ایران کے اندر مداخلت نہ کی حتیٰ کہ ایران سے عربوں کے علاقے ”عربستان“ میں پسماندگی، غربت و افلاس ہے اور جان بوجھ کر ان ایرانی عربوں کو حقوق سے محروم کیا گیا اس کے باوجود سعودی پالیسی عدم مداخلت پر کاربند رہی ہے۔ جب جنرل پرویز مشرف اقتدار میں آئے اور نواز شریف کو جیل میں ڈالا تو اس سے شاہ عبداللہ ناراض ہوئے مگر بعدازاں جب جنرل مشرف نے شاہ عبداللہ کی خواہش پر نواز شریف کو خاندان سمیت جدہ بھجوایا تو پھر سعودی عرب پاکستان کا مددگار بن گیا۔ شاہ عبداللہ نے پاکستان کا دورہ کیا۔ امام کعبہ کو بار بار پاکستان بھجوایا۔ شاہ عبداللہ نے روس، چین جیسے لادینی نظام کے حامل ملکوں کا دورہ کیا اور ان سے قریبی تعلقات قائم کرکے ان ممالک میں مسلمان اقلیتوں کو عزت و احترام دلوایا۔ بھارت کا دورہ کرکے بھارتی مسلمانوں کی عزت میں اضافہ کیا۔ میاں نواز شریف نے جب لندن سے ازخود اسلام آباد کا راستہ اپنایا تو سعودی عرب کو پریشانی ہوئی چنانچہ شہزادہ مقرن اسلام آباد آئے اور ائرپورٹ سے ہی میاں نواز شریف کو اپنے ساتھ جدہ واپس لے گئے۔ اس سعودی عمل سے مسلم لیگ (ن) سخت ناراض ہوئی اور اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے میں منعقدہ قومی دن کی تقریب کا بائیکاٹ کیا۔ اس تلخی کے ازالے کے لئے ہم نے فوراً ایک کالم لکھا جس میں شاہ عبداللہ کی پاکستان سے محبت پیش کی گئی۔ نوائے وقت نے فوراً یہ تحریر شائع کی جس سے سعودی سفارت کاروں کو نوائے وقت کی سعودی عرب دوستی کا اعتراف کرنا پڑا۔ البتہ سفارت کاروں نے ہم سے کہا کہ شاہ عبداللہ کی نیت کا پھل مسلم لیگ (ن) والے بہت جلد اچھی شکل میں دیکھیں گے۔ چنانچہ جب محترمہ بینظیر زبردستی پاکستان آ گئیں تو شاہ عبداللہ نے نواز شریف کو اپنے طیارے کے ذریعے لاہور میں خود بھجوایا۔ انہیں ”محفوظ“ گاڑی کا تحفہ بھی دیا۔
صدر مشرف نواز شریف کی موجودگی کو مجبوراً قبول کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ صدر مشرف کی رخصتی میں بھی سعودی مشورہ شامل رہا۔ شاہ عبداللہ کے عہد میں دنیا بھر کے مسلمانوں کی مصیبتوں میں ان کی مالی بھرپور مدد ہوئی۔ میانمار کے مسلمانوں کو سعودی مالی مدد تاریخ کا لازوال کارنامہ ہے مگر جب مسلمانوں کا قتل عام ہوا تو سعودی عرب سے او آئی سی کو متحرک کیا۔ یوں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ذریعے ان مظلوم مسلمانوں کی وافر مدد ہوئی ہے۔ ویسے تاریخی طور پر شاہ عبدالعزیز کے عہد میں برمی مسلمان سعودی عرب میں آباد ہوئے۔ شاہ عبداللہ کی حکومت نے صدر زرداری کی حکومت بھی عمدہ تعلقات برقرار رکھے اور مالی مدد بھی بھجوائی۔ سعودی عرب فرقہ وارانہ سیاست سے بلند ہو کر اسلامی روحانی کردار پیش کرتا ہے جہاں زلزلے آئیں یا قدرتی آفات آئیں فوراً مصائب سے دوچار مسلمانوں کی مالی مدد کرتا ہے۔ شاہ عبداللہ نے شہزادہ سلمان کو ولی عہد اور نائب وزیراعظم اول اور شہزادہ مقرن کو نائب وزیراعظم ثانی بنا کر اگلی ولی عہد مقرر کرکے مستقبل کی قیادت کا فیصلہ کر دیا ہے۔ شاہ عبداللہ کی توسیع حرمین شریفین لازوال تاریخی کارنامہ ہے۔ امید ہے کہ نواز شریف کے موجودہ عہد میں دونوں ممالک زیادہ قریب آئینگے۔ انشاءاللہ۔