رانا عبدالرحیم خاں....مسلم لےگ کے درویش کارکن

کالم نگار  |  نعیم احمد

قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے بڑا سوچ سمجھ کر ایک الگ وطن حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کے پس پردہ ان کی صدیوں پرانی تاریخ اور ہندو قوم کے حوالے سے ان کے تلخ تجربات کارفرما تھے۔ برصغیر کے مختلف علاقوں سے جو کارکنان قائداعظمؒ کے دست و بازو بنے‘ وہ اسلامی نظریات سے کامل وابستہ‘ بے داغ کردار کے مالک اور ایمان‘ اتحاد‘ تنظیم کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ ےہ کارکن درحقیقت ہماری قوم کے محسن ہےں اور زندہ و غیرت مند قومیں اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہےں کرتیں۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ پاکستان کو علامہ محمد اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے افکار و کردار کے سانچے مےں ڈھالنے کےلئے ضروری ہے کہ نسل نو کو تحریک قیامِ پاکستان کے مشاہیر اور کارکنوں کے تابندہ کردار سے تسلسل کے ساتھ آگاہ کےا جاتا رہے۔ رانا عبدالرحیم خاں کا شمار تحریک پاکستان کے ان کارکنوں مےں ہوتا ہے جن کی فکر اور جدوجہد آنے والی نسلوں کےلئے بیش قیمت سرمایہ ہے۔ 23مارچ 1940ءکو لاہور میںآل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ جلسے مےں شرکت کے وقت ان کی عمر محض دس سال تھی۔ جوں جوں عمر بڑھتی گئی‘ ان کی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا گےا۔ اُنہوں نے لوگوں تک قائداعظمؒ کا پیغام پہنچانے میں دن رات ایک کردیا۔ رانا عبدالرحیم خاں نے مسلم لےگ کے پلیٹ فارم سے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا اور تادم آخر اسی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا۔ نہ کبھی کسی سرکاری عہدے کا لالچ کیا‘ نہ ہی دنیاوی مفادات سمیٹے۔ان کی بہت ساری دوستیوں کی بنیاد مسلم لیگ تھی۔ وہ مسلم لیگ کے وابستگان کی مشکلات کا مداوا کرنے کو اپنا فرض اوّلےن خیال کرتے۔ کوئی دوست مشکل میں ہوتا تواس کے مدعا بیان کرنے سے قبل ہی اس کی داد رسی کر دیتے۔ ان کے چیمبر میں کام کرنے والے وکیلوں میں سے کوئی جج بن گیا تو کوئی وزیر۔ اسی لئے تو ان کے دوست انہیں پارس تصور کرتے تھے جو پتھر سے چھو جائے تو اسے بھی سونا بنا دیتا ہے۔ اس عظیم انسان کی 6ویں برسی کی مناسبت سے نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے اےوانِ کارکنانِ تحریک پاکستان لاہور میں اےک خصوصی نشست کا اہتمام کےا جس کی صدارت تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ آبروئے صحافت اور ٹرسٹ کے چیئرمین محترم جناب مجید نظامی نے کی۔ اس موقع پر رانا عبدالرحیم خاں کے قریبی دوستوں کے علاوہ ان کے صاحبزادے اور پنجاب کے انتہائی متحرک اور جواں سال وزیر تعلیم‘ امور نوجواناں اور کھیل رانا مشہود احمد خاں بھی موجود تھے۔ محترم ڈاکٹر مجید نظامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ رانا مشہود احمد خاںخوش نصیب ہے کہ وہ رانا عبدالرحیم خاں کا فرزند ہے اور رانا عبدالرحیم خاں بھی خوش قسمت ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں رانا مشہود احمد خاں جیسا فرزند عطا فرمایا۔ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناحؒ نے جب ایوب خان کی آمریت کے خلاف انتخاب لڑا تو رانا عبدالرحیم خاں نے مادرِ ملتؒ کا ساتھ دیا۔ ایسے لوگ تو اب کم کم ہی پیدا ہوتے ہیں۔ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنا چاہےے۔ تحرےک پاکستان میں ان کی خدمات کے اعتراف اور ساری زندگی قائداعظمؒ کی مسلم لےگ کی مضبوطی اور استحکام کی خاطر کام کرنے پر انہیں انشاءاللہ تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کی جانب سے آئندہ ماہ منعقدہ اےک تقرےب میں گولڈ میڈل دےا جائے گا۔ رانا مشہود احمد خاں کو بطور خاص مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو سب سے اہم وزارت دے دی ہے۔ آپ قوم کو تعلیم یافتہ بنانے کی جدوجہد کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس ضمن میں میاں محمد شہباز شریف کا ردِّعمل مثبت ہوگا کےونکہ وہ ایک عملی انسان ہیں اور خود بھی صوبہ پنجاب کو تعلیم یافتہ بنانے کے آرزو مند ہیں۔ چند روز قبل گورنر پنجاب ےہاں تشریف لائے تھے۔ ان کی گفتگو سے ظاہر ہوا کہ وہ بھی تعلیم کے فروغ کے بڑے خواہش مند ہیں۔ جب صوبے کا گورنر‘ وزےراعلیٰ اور وزیر تعلیم سبھی تعلیم کے دلدادہ ہوں تو کوئی وجہ نہیں کہ صوبے میں سو فی صد شرح خواندگی کا ہدف حاصل نہ کےا جا سکے تاہم تعلیم کو نظریاتی بنیادوں پر استوار کےا جانا چاہئے۔ رانا مشہود احمد خاں کا خطاب حسب دستور ولولہ انگیز اور حقائق سے لبریز تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچپن میں والد گرامی گھر میں سب بچوں کو نوائے وقت کا اداریہ بلاناغہ پڑھایا کرتے تھے اور شام کے وقت استفسار کیا کرتے تھے کہ آج کے ادارئیے میں کیا لکھا ہے۔ لہٰذا ہماری نظریاتی تعلیم و تربیت میں جناب مجید نظامی کی رہنمائی کا بڑا عمل دخل ہے۔ وہ ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے ہمیشہ ملک و قوم کے مفادات کو سربلند رکھا ہے۔ جو بات درست سمجھتے ہیں‘ بغیر کسی لگی لپٹی کے حکمرانوں کے روبرو کہہ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف ان کی اپنے بڑوں جیسی عزت کرتے ہیں۔ رانا مشہود احمد خاں نے اعداد و شمار کے ذریعے حکومت پنجاب کے فروغ تعلیم کےلئے اقدامات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب تعلیم کے فروغ میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں اور انشاءاللہ آئندہ تین سال تک ہم پنجاب میں پرائمری انرولمنٹ کو سو فی صد کی سطح تک لے جانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اپنے مرحوم والد کا تذکرہ کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ وہ بڑے نیک‘ قناعت پسند اور سادہ طبیعت کے مالک تھے اور ہم آج بھی ان کی نیک نامی کے ثمرات سے بہرہ مند ہو رہے ہیں۔ نشست کے آغاز میں الحاج اختر حسین قریشی نے مظفر وارثی مرحوم کا نعتیہ کلام ”مفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی‘ مجھ کو عشق نبیاس قدر مل گےا“ انتہائی پرسوز لہجے میں سنا کر سماں باندھ دیا۔ نشست میں نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘ جسٹس (ر)خضر حیات‘چوہدری نعیم حسین چٹھہ‘ خواجہ محمود احمد ایڈووکےٹ‘ عزیز ظفر آزاد‘ منصورالرحمن آفریدی نے بھی اظہار خیال کیا۔ نشست کی نظامت کے فرائض ٹرسٹ کے سےکرٹری شاہد رشید نے بڑی عمدگی سے ادا کئے۔