حرام و حلال کی تمیز

ڈاکٹر اعجاز اکبر خواجہ
یہ جو بچی کے ساتھ زیادتی کا اندوہناک واقعہ لاہور میں ہوا ہے۔ اس نے ہمارے جھکے ہوئے سروں کو اور جھکا دیا ہے۔ عرصہ دراز تک ہماری اسلامی جمہوری مملت پاکستان کے ہر باسی کے لئے موجب آزار رہے گا اور یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے ہم جس متعفن زدہ معاشرہ میں رہ رہے ہیں اس میں اس قسم کے قابل نفرین اور قابل تعزیر عبرت ناک سانحات وقوع پذیر ہوتے رہیں گے۔ جس معاشرے کے لئے بڑے لوگ مال و دولت دنیا کی ہوس میں ہر اخلاق اور دینی قدر کو پامال کر رہے ہوں تو آپ عوام الناس سے کیا امید کر سکتے ہیں۔ اور یہ آج سے نہیں آج سے تقریباً چالیس سال پہل میاں امیر الدین صاحب (جو علامہ اقبالؒ کے سمدھی تھے) نے ایک کتاب ”یادِ ایام“ کے نام سے رکھی تھی۔ اس میں انہوں نے کھلے الفاظ میں یہ راز طشت ازبام کیا کہ ”سب سے پہلے پاکستان میں بڑے لوگوں نے غیر مسلم کی پاکستان میں چھوڑی ہوئی جائیداد (کیونکہ غیر مسلم ہندوستان کی تقسیم کے وقت پاکستان کے علاقوں سے ہجرت کرکے بھارت میں شرنارتھی ہو گئے تھے) کو ناجائز ذرائع سے ہتھیانے میں تن و من سے مشغول ہوئے اور اس ناجائز دھن سے سارے معاشرے کو مسموم کر دیا۔ حرام و حلال کی تمیز اٹھ گئی۔ نتیجتاً عام لوگ بھی بڑے بڑے بے ایمان اور غاصب لوگوں کی پیروی میں اسی روش کو اپنانے لگے۔ اس جھوٹ اور حرام کی کمائی نے معاشرے کو اکثر لوگوں کی اخلاقی قدریں معدوم کر دیں ....
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
ایماندار عمال حکومت کار سرکار میں مشغول ”بیوقوف ٹھہرے“ اور رشوت خور‘ بے ایمان‘ چور سرکاری افسر ”کامیاب و کامران“ اور سوسائٹی میں قابل احترام و معزز اور یہ نئے دولتئے سرکاری افسر‘ منافع خور تاجر اور دیگر معاشرہ کے بددیانت پیشہ ور ڈاکٹر‘ انجینئر‘ استاد ان مکتب مدرسہ‘ وکلاءاور منصف حضرات قابل احترام۔
سو آج ہمارے اس ملک میں جو ہم نے بڑی قربانیاں دیکر بڑی محرومیاں سہہ کے بنایا تھا۔ جس کے لئے میرے خاندان نے جو پرانا مسلم لیگی خاندان ہے گوجرانوالہ سے میرے خاندان کے بزرگوں نے پاکستان بننے سے پہلے Quit India کی تحریک کے دوران انگریز کے لگائے مارشل لاءمیں بڑی سختیاں جھیلیں جناب عطا محمد شیخ صاحب‘ جناب شیخ دین محمد صاحب‘ جناب حیدر محمد صاحب نے قید و بند کی تکالیف سہیں۔
ہمیں اور ہمارے جیسے لوگوں کو پاکستان کی موجودہ حالت دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ بڑے کرب سے گزرنا پڑتا کہ یہ داغ داغ اجالا۔ یہ شب گزیدہ سحر‘ وہ تو نہیں جس کی امید میں ہم نے ”درد“ کی منزلیں کاٹیں۔ہم نے تو یہ سوچا تھا کہ یہ نوزائیدہ ملک نہ صرف یہ کہ اسلامی فلاحی مملکت میں ڈھل کر ساری اسلامی ممالک کے لئے ایک مثالی ملک بنے گا بلکہ اقوام عالم میں یہ ثابت کرے گا کہ اسلام کا نظام حیات نظام معاشرت‘ نظام معیشت تاریخ عالم کے سب نظاموں سے بہتر ہے۔ مگر وائے ناکامی‘ متاع کارواں جاتا رہا۔ اور اس سے بڑھ کر یہ کہ قوم کے مجموعی دل سے احساس زیاں بھی جاتا رہے گا اور ہم میں چند دھوکہ باز‘ منافق‘ رشوت خور بددیانت اوپر کے طبقہ کے لوگ یعنی ”رزالیہ“ مال مست ہو جائیں گے اور ملک کی اکثریت ان اوپر والوں کی بدقماشی کو طفیل فاقہ مست ہو جائے گی۔ یا آئے دن کی المناک خود کشیوں پر مجبور اب اس شرمناک صورت حالات کی چارہ گری کیا ہو؟ چارہ گری صرف یہ ہے کہ نئی پود کی تربیت اخلاق کے ذمہ داران‘ والدین‘ سکول و مدرسہ‘ محلہ کی مسجد کے امام‘ محلہ کے متقی بزرگ اپنا پرانا فرض منصبی خدا کی خوشنودی‘ خدا خوفی کو پیش نظر رکھ کر کماحقہ ادا کریں۔
موجودہ تعلیم جو صرف فکر معاش کا بندوبست کرتی ہے ہمارے بچوں کو اخلاق عالیہ‘ اور صحیح علم سے محروم کر رہی ہے۔اس ضمن میں حکومت وقت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ صرف ”گفتار“ کافی نہیں ہے۔”درہ عمر“ کے بغیر عوام الناس کج روی رہیں گے۔ جرم روکنا ہے تو جرم کی پیدائش کے اسباب پر غور کرنا ہو گا اور اس کا سدباب سادہ زبان ہیں۔ چور نہیں چور کی ”ماں“ کو مارو تبھی ”جرم“ ختم ہو گا۔