”گردشِ دوراں“ پر ایک نظر

کالم نگار  |  کرنل (ر) اکرام اللہ

اس کالم کے عنوان کو دیکھتے ہی بیشتر قارئین کا فوری تاثر قدرتی طور پر یہی ہونا چاہئے کہ راقم کے روایتی کالموں کی طرح یہ بھی حالات حاضراں پر میرا ایک تازہ ترین تبصرہ ہے لیکن قندیل کا گزشتہ بگ بھگ تیس سالوں سے مطالعہ کرنے والے اکثر احباب نوائے وقت کی خبریت اور نظریاتی تربیت کے ساتھ ساتھ علم و ادب اور شاعری کے ساتھ بھی ایک گہرا رشتہ رکھتے ہیں۔ دانشوروں کا یہ مختصر طبقہ یقینا سیدہ حنا بابر علی کی اردو شاعری میں پہلی تخلیق ”روشن کنار“ اور اس کے بعد تازہ ترین اور انوکھی اور انتہائی خوبصورت تخلیق ”گردش دوراں“ سے ضرور واقف ہونگے۔ مصنفہ گردش دوراں کے پیش لفظ میں کہتی ہیں کہ ”شاعری میرے نزدیک کیفیات اور تجربات کو خوبصورت انداز بیان کرنے کا نام ہے“۔ پاکستان کے جدید دور کی ایک نئی شاعرہ نے اپنے اوپر وارد ہونے والے تجربات اور کیفیات کا جو انتخاب کیا ہے وہ میرے نزدیک ایسے منفرد موضوعات پر مشتمل ہے جو راقم نے گزشتہ صدی کے دوران کسی اور شعر یا شاعرہ کے انداز بیان میں اپنے دل کی دھڑکنوں کو انتہائی سادہ اور روح میں اتر جانے والے سوزو ساز کے بے ساختہ پن میں بیان کیا گیا ہے۔ جن میں سے ہر حمد کا اسلوب گوکہ منفرد مگر کیفیات کا محور صوفیانہ عشق و مستی سے لبریز ہے۔ سب سے پہلی حمد کا دلبرانہ انداز آپ کو لاکھ ڈھونڈنے سے اردو شاعری کی تاریخ میں شاید ہی کہیں ملے۔ اپنے اللہ کی حمد بیان کرتے ہوئے حنا بابر علی کا اپنے خالق و مالک سے والہانہ عشق کا بے ساختہ پن ملاحظہ فرمائیں:۔
نہیں تو نہ سہی ہمارے ساتھ تو اللہ ہی اللہ ہے
وہ تیری بے رخی
ہے کیسی ادا ہمارے ساتھ تو اللہ ہی اللہ ہے
یہ تیرا راستہ وہ میرا راستہ ہمارے ساتھ تو اللہ ہی اللہ ہے
اگلی حمد ملاحظہ فرمائیں:۔
میں نے ڈھونڈا تمہیں ستاروں میں سانسوں کے درمیان ہو تم
میں نے مانگا ہے تمہیں اے اللہ ہر دعا کی انتہاءہو تم
حمد کے یہ انداز سیدہ حنا بابر علی کے دل کی گہرائیوں کی عکاسی مصنفہ کی سوچ کی بانکپن کا ایک اچھوتا مظاہرہ ہے۔
کتاب کا دوسرا حصہ نعتوں پر مشتمل ہے جس میں سیدہ حنا بابر علی کا ہم سب کے آقا و مولا سرور کائنات کے حضور والہانہ ہدیہ تبریک اپنی مثال آپ ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:۔
تخلیق کائنات کی جاں آپ ہی تو ہیں
انگلی کے اک اشارے پہ دو لخت چاند تھا
یعنی وہاں بھی بزم کی جاں آپ ہی تو ہیں
روز ازل سے پہلے بنا آپ ہی کا نور
نور خدا میں نور نبی آپ ہی تو ہیں
جبریلؑ کے تو پر جلے معراج خاص پر
بس رو بروئے رب جہاں آپ ہی تو ہیں
ہر روز ایک آپ کا دیدار ہو نصیب
یعنی ہماری قوت جان آپ ہی تو ہیں
گردش دوراں کا اگلاحصہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے حضور سلام و درود پر مشتمل ہے۔ گردش دوراں میں حنا بابر علی نے بھی اپنے مخصوص انداز میں عقیدت میں ڈوبا ہوا خلوص دل سے موثر سلام پیش کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:۔
علی کو جو دیکھا تو سوچو گے تم
جمال ایسا رب نے بنایا کہاں
علی کو سنو گے لرز جاﺅ گے
یہ آواز ہے یا کوئی کہکشاں
ہماری رگوں میں ہے وردِ علی
جدائی ہو ان سے یہ ممکن کہاں
گردش دوراں کا آخری حصہ آزاد نظموں پر مشتمل ہے۔ جو حنا بابر علی کو اپنی شاعری کے ابتدائی دور سے نکال کر جدید شاعروں کی باعزت اگلی صف میں شامل کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ مصنفہ کو گردش دوراں کے اب یہ خیال اپنے ذہن سے نکال دینا چاہئے۔ جس کا اظہار انہوں نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ خود کو ابھی شاعری کے میدان میں ناپختہ خیال کرتی ہیں۔ راقم کے نصف صدی کے اوپر تجربہ کی بناءپر میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ گردش دوراں نے حنا ربانی علی کو ”روشن کنارا“ اور ”گردش دوراں“ کی دلوں میں گھر کر لینے والی کامیاب شاعری کے بعد مستند جدید شاعروں کی صف میں شامل کر دیا ہے جس پر میں حنا بابر علی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔اللہ کرے زور قلم اور زیادہ