کیا پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کا اہل ہے؟

کالم نگار  |  قیوم نظامی

جب بھی کوئی منظم اور خودمختار ملک کسی جنگ کا حصہ بننے کا فیصلہ کرتا ہے تو وہ اپنے مسائل اور وسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے جنگ میں کردار اور مدت کا تعین کرتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف حالیہ جنگ خوف و ہراس کے عالم میں پیش منظر پر سنجیدہ غور و خوض کے بغیر شروع کی گئی جس کے نتائج پوری قوم مختلف صورتوں میں بھگت رہی ہے۔ پاکستان گزشتہ دس سال سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے اور ابھی تک دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جاسکا اور آج بھی دہشت گرد اپنی مرضی کے ٹارگٹ پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ہمارے سکیورٹی کے ادارے ان کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ دہشت گرد نہ صرف ملالہ کو ٹارگٹ کرنے میں کامیاب رہے بلکہ شدید ردعمل اور پروپیگنڈے کے باوجود دہشت گردوں نے پشاور کے قریب پولیس چوکی پر حملہ کردیا اور پولیس افسروں اور اہل کاروں کو قتل کرنے اور ایک افسر کا سر کاٹ کر لے جانے میں کامیاب ہوگئے۔ اس حملے میں ایک سو دہشت گردوں نے حصہ لیا۔ دس سال جنگ لڑنے کے بعد تو ہمارا فرض ہے کہ ہم پوری سنجیدگی کے ساتھ اس سوال پر غور کریں کہ کیا پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کا اہل بھی ہے۔
افواج پاکستان کی پیشہ وارانہ تربیت کھلی اور روبرو جنگ لڑنے کی تھی اسے چھاپہ مار جنگ کی تربیت ہی نہیں دی گئی۔ افغانستان اور فاٹا کے گنجان پہاڑی علاقوں میں برطانیہ، روس اور امریکہ کی افواج ناکام ہوئیں مگر افسوس ایک غریب اور مقروض ملک کی غیر تربیت یافتہ فوج نے گوریلا، چھاپہ مار جنگ لڑنے کا فیصلہ کرلیا جس پر ایک اندازے کے مطابق 90 ارب روپے ماہانہ صرف ہورہے ہیں۔ عاقبت نااندیشانہ مہم جوئی کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ہم اب تک چالیس ہزار سویلین اور فوجی شہید کراچکے ہیں جبکہ دہشت گردی کی وجہ سے قومی معیشت کو 70 بلین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ اس جنگ میں کتنے دہشت گردہلاک ہوئے ان کی تعداد معلوم نہیں ہے اگر تعداد قابل ذکر ہوتی تو اسے کامیابی کے ثبوت کے طور پر عوام کے سامنے پیش کیا جاتا۔ امریکہ کا اتحادی بن کر پاکستان نے کیا کھویا کیا پایا ابھی تک بیلنس شیٹ عوام کے سامنے نہیں آئی۔ پاکستان کے سکیورٹی کے ادارے اور خفیہ ایجنسیاں پے درپے ناکام ہوئی ہیں۔ جی ایچ کیو، مہران اور کامرہ بیس پر حملے اور ایبٹ آباد آپریشن اس ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پاک فوج نے سوات میں کامیاب آپریشن کیا مگر سول حکومت سوات میں اپنی رٹ قائم کرنے کے قابل نہیں ہے۔ ہمارا عدالتی نظام کمزور اور ناکارہ ہے۔ گزشتہ دس سالوں کے دوران دہشت گردی کے سینکڑوں واقعات ہوئے مگر مجرموں کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا جاسکا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مسئلہ پر قوم تقسیم ہے۔ اتفاق رائے کے بغیر کوئی جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔ مستند سروے کے مطابق پاکستان کے 90 فیصد شہری امریکہ کے خلاف ہیں اور اس رائے کے حامل ہیں کہ پاکستان درست سمت پر نہیں چل رہا۔ بد اعتمادی کی فضا میں کوئی جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔ جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل جناب لیاقت بلوچ نے ٹیک سوسائیٹی کے تھنک ٹینک میں بتایا کہ فوج نے کشمیر جہاد کے لیے 25 ہزار مجاہدین کو عسکری تربیت دی تھی جن کو نائین الین کے بعد یوٹرن لیتے ہوئے آزاد چھوڑ دیا گیا حالانکہ جماعت اسلامی نے ان مجاہدین کو فوج کا حصہ بنانے کا مشورہ دیا تھا یہی مجاہدین اب طالبان بن چکے ہیں۔ پاکستان کی مذہبی جماعتیں اور مسجدیں اور سلامتی کے اداروں کے اہل کار طالبان کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ ایسے چھاپہ ماروں کے خلاف جنگ جیتنا آسان نہیں ہوتا۔ غربت اور جہالت کی وجہ سے نوجوان طالبان کے لشکر میں شامل ہونے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت بلوچستان اور کراچی میں امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے ان حالات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلسل ناکامیوں کے باوجود شریک رہنا دانشمندی نہیں ہے۔ کرپشن کی وجہ سے قومی ادارے دیوالیہ ہورہے ہیں۔ سیاست دان قوم کو منظم اور متحد نہیں کرسکے۔ آبادی میں خطرناک حد تک اضافہ ہورہا ہے۔ سرمایہ پاکستان سے باہر منتقل ہورہا ہے۔ قرضوں کے حجم میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے نوٹ چھاپ کر نظم و نسق چلایا جارہا ہے۔ پاکستان میں کوئی ایک لیڈر ایسا نہیں ہے جس پر قوم کی اکثریت متفق ہوسکے۔ ان حالات میں دہشت گردی کی جنگ کو جاری رکھنا اور اسے وسعت دینا حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ سوال اُٹھایا جاسکتا ہے کہ کیا دہشت گردی کے خلاف جنگ منقطع کرکے قوم کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ اس کالم کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہے بلکہ ہماری گزارش یہ ہے کہ سیاسی اور عسکری اشرافیہ تسلیم کر لے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے کے قابل نہیں ہے اور اعلان کرے کہ پاکستان چھ ماہ کے اندر اس جنگ سے علیحدہ ہوجائے گا اور امریکہ کا اتحادی نہیں رہے گا۔ اس اعلان کے بعد حالات میں تبدیلی آئے گی۔ طالبان اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہوں گے۔ پاکستان امریکہ کے اتحاد سے باہر نکل آئے اس کے بعد بھی اگر طالبان دہشت گردی سے باز نہیں آئیں گے تو پھر پوری قوم ان کے خلاف یکسو ہوگی۔ پاکستان قومی مفاد میں حقیقی معنوں میں خالص پاکستانی جنگ کا آغاز کرے گا۔ قوم کے مکمل تعاون اور اعتماد کی وجہ سے پاکستان یہ جنگ ایک دو سال کے اندر جیت جائے گا اور شکست طالبان کا مقدر ہوگی۔ چند ماہ کے اندر انتخابات ہونے والے ہیں لہذا شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ نئی منتخب حکومت پر چھوڑ دیا جائے اور کسی نئی مہم جوئی کا آغاز نہ کیا جائے۔