سینئر کشمیری صحافی ذاکر خواجہ کا بیٹا اغواء

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

جب کسی کا جواں سال لخت جگر گھر سے نکل کر کبھی واپس نہیں آتا تو والدین، کرب کے کن لمحات سے لمحہ لمحہ گذرتے ہیں، یہ تو جس تن لاگے وہ ہی جانے، سینئر کشمیر صحافی ذاکر خواجہ چیف ایڈیٹر ہفت روزہ الحبیب، کا بیٹا شہریار خواجہ جو ہفت روزہ الحبیب کا رپورٹر بھی ہے، عرصہ تین ماہ سے اغوا کاروں کے قبضے میں ہے، جو خود کو سود خور ظاہر کرتے ہیں، اور کہتے ہیں، کہ شہریار نے اُن سے سود پر رقم لی جو بڑھتے بڑھتے 17 لاکھ بن گئی، اب وہ دھمکی دے رہے ہیں، کہ یہ رقم ادا کر دی جائے ورنہ اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ بیٹے کے لاپتہ ہونے کے بعد یہ سودخور نما اغوا کار 200 کی تعداد میں ذاکر خواجہ کے مکان کے گرد اکٹھے ہو جاتے اور اُنہیں ہراساں کرتے ہیں جس کے باعث وہ تشویشناک حالت میں کئی بار CCU میں داخل رہے۔ موصوف کا م¶قف ہے کہ اُن کے بیٹے کو انہی اغوا کاروں نے رکھا ہوا ہے اور 17 لاکھ بٹورنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے باغبانپورہ تھانہ میں ایس آئی آر 1016/12 درج کرائی، کسی کو نامزد نہ کیا، مگر یہ وہی لوگ ہیں جو کئی بار میرے گھر کے گرد جمع ہو کر مجھے بلا کر دھمکیاں دیتے رہے، ان اغوا کاروں یا سود خوروں کے خلاف منی لانڈرنگ ایکٹ مجریہ 2007ءکے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ خواجہ ذاکر نے درخواست کی ہے کہ صحافی برادری کا ایک بزرگ بھائی اپنا جوان بیٹا کھو چکا ہے، وہ میری مدد کے لئے آواز بلند کریں۔ الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا اس قیامت خیز گھڑی میں مجھے زندہ درگور ہونے سے بچائیں، اس کیس کی مکمل تحقیقات کرائیں، اور معاملے کی تہہ تک پہنچ کر کسی طرح میرے بیٹے کو واپس لا دیں۔ میں عمر کے آخری حصے میں 36 سالہ صحافتی زندگی گزارنے کے بعد بھی کام کر رہا ہوں اور پاکستان کی شہ رگ واگذار کرنے کے لئے جان و قلم کی بازی لگائی ہے۔ آج میرا جوان بیٹا شہریار مجھ سے ظالموں نے چھین لیا ہے، ایک بے بس کشمیر کاز کے لئے لڑنے والے بزرگ صحافی کے درد سمیٹنے کے لئے کیا صحافی برادری میرے لئے کچھ نہیں کرے گی، میں مظلوم اور بیٹے سے محروم ہوں، مجھے پوری توقع ہے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اس سلسلے میں کوئی وقیع قدم اُٹھائیں گے، اب تک کسی صحافی نے کسی چینل نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا حالانکہ ایسا وقت کسی بھی صحافی پر آ سکتا ہے۔ میری توقع تھی کہ صحافی برادری میرے غم کا مداوا کرے گی اور ایک کہرام مچا دے گی مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ کے مصداق میری اپنی ہی صحافی برادری نے مجھے تنہا موت و حیات کے درمیان واقع غم و الم کی کھائی میں تڑپتا چھوڑ دیا۔ ڈی جی پی آر نے بھی میری فریاد پر کان نہ دھرے، اور کوئی اقدام نہ کیا۔
آئی جی پنجاب جو نہایت پاکباز متشرع پولیس افسر ہیں، اور وزیراعلیٰ پنجاب جو واقعتاً خادم عوام ہیں اُن تک اگر مجھ دردمند کی آواز پہنچے تو میری مدد کو پہنچیں، میرے بیٹے کی 3 ماہ سے جاری گمشدگی کا سراغ لگائیں، میں نے اور میرے بیٹے نے کبھی کسی سے ادھار نہیں لیا لیکن یہ کوئی اغوا کار مافیا ہے جو سود خوری کا جامہ پہن کر میرے بیٹے کو غائب کر چکا ہے، اور اس صوبائی دارالحکومت میں جہاں کسی کو خراش بھی آ جائے تو وزیراعلیٰ وہاں پہنچ جاتے ہیں، لیکن میری بار بار کی اپیلوں کے باوجود خادم اعلیٰ نے ایک سینئربزرگ کشمیر صحافی ذاکر خواجہ کی گلی کا رخ نہیں کیا۔ میں نسبت روڈ گوالمنڈی کا رہائشی ہوں میرے فون 0300-8099521 پر رابطہ کر کے مجھے تلاش کیا جا سکتا ہے، کیا کشمیر کاز کے لئے 36 سال سے کام کرنے والے سینئر صحافی کا اتنا بھی استحقاق نہیں، کہ میرے درد کو سمجھا جائے اور وزیراعلیٰ پنجاب خود ذاتی دلچسپی لے کر میرے بیٹے کو بازیافت کرا دیں۔ اور کیا پورے پنجاب کی صحافی برادری کو ذرا بھر احساس نہیں اُس کا ایک سینئر صحافی بھائی صدمے کی آخری ڈگری تک پہنچ چکا ہے، کسی صحافی پر کوئی مصیبت نہ آئے، لیکن اگر آ جائے تو کیا میڈیا کی طاقت جو اقتدار کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہے، وہ اپنے ایک بے بس بھائی کو تنہا تڑپتا چھوڑ کر یہ ثابت کرنا پسند کریں گے کہ میڈیا کمزور ہے اپنے مظلوم بھائی کو ظالموں کے چنگل سے نہیں چھڑا سکتا۔ مجھ پر جو بپتا آن پڑی ہے، اور جس کی خبریں عام ہیں، میں امید باندھے بیٹھا تھا کہ لاہور پریس کلب کے پریذیڈنٹ صاحب مجھ سے ضرور رابطہ کرینگے، پریس کانفرنس کا اہتمام کرینگے، اور اپنے بھائی کو اس دلدل سے نکالیں گے، مگر ایک خاموشی سی خاموشی ہے، جو صحافتی برادری پر طاری ہے، اس ضمن میں اور کیا کہوں، اگر میرے اپنے صحافی بھائیوں نے بھی مجھے ظلم کے آگے زبوں حال چھوڑ دیا، تو پھر ع
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی
بہرحال میری توقع ابھی اُٹھی نہیں مجھے کامل امید ہے، اہلِ صحافت اور مختلف چینلز میرے ٹوٹے ہوئے دل کی خبر لینگے، اور کم از کم آ کر دیکھیں گے کہ ایک جوان بیٹے کو کھو دینے والے اُن کے صحافی بھائی کی کیا حالت زار ہے، وزیراعلیٰ پنجاب سے ایک بار پھر درخواست ہے کہ وہ میرے درد کا مداوا کریں اور وہ درد کے پاس درماں بن کر پہنچیں کہ یہی اُن کا شیوہ ہے۔
میرے پیارے گمشدہ بیٹے شہریار!
میں انتظار کروں گا ترا قیامت تک خدا کرے کہ قیامت ہو اور تو آئے