ستمبر کے جذبات

کالم نگار  |  کرنل (ر) ارشد نذیر چشتی

ہر سال چھ ستمبر کے دن ٹیلی ویژن کے سامنے جُڑ کر بیٹھ جاتا ہوں کہ کہیں یوم دفاع کا پروگرام دیکھنے سے نہ رہ جا¶ں۔ اس دن قومی جذبات کا ابھار چل رہا تھا۔ حب الوطنی کے مرغولے آسمان کی طرف اُٹھ رہے ہوتے ہیں۔ اخبارات اور رسائل میں خصوصی ضمیمے چھپے ہوتے ہیں۔ اس سال بھی 6 ستمبر کے دن میں نے کافی زیادہ اخبارات خریدیں اور دیکھا کہ ہمارے اہل علم و دانش نے ہماری افواج اور قومی جذبوں پر خوف خوب لکھا۔ ایسے لکھنے سے ہمارے افسران، جوان اور ہمارے پاکستانی بھائیوں کی خوب ہمت افزائی ہوتی ہے۔
میں نے دیکھا کہ اخبار نوائے وقت اور دی نیشن میں کافی مفصل طور پر یوم دفاع کے احترام میں لکھا گیا تھا۔ جناب فضل حسین اعوان نے شہادت کے فلسفے پر کافی مدلّل طور پر تحریر کیا۔ اس عمر میں بھی جب دُھن چھڑ جاتی ہے ”اے راہ حق کے شہیدوں“ تو آنسو¶ں کی جھڑیاں چل پڑتی ہیں۔ جناب سیمسن سائمن نے میری پلٹن 13-FF کا ذکر تو کیا مگر حالات کی صحیح عکاسی نہیں کی۔ اسی طرح 25 کیولری (Men of Steel) کی زبردست جنگ کو کچھ الٹ پٹ بیان کر دیا۔
ایسی غیر درست کہانیوں کے پیش نظر میں نے سوچا کہ محنت کی جائے اور ہمارے افسران سردار صاحبان (جے سی اوز) ، جوانان اور ہماری یونٹوں کی شجاعت، جرا¿ت اور دلیری کی داستانوں کو اجاگر کیا جائے جو اس وقت حقائق کے برعکس نظر آتی ہیں۔ پروفیسر مظفر مرزا کا شکوہ بجا ہے کہ پاک بھارت جنگ 1965ءپر کوئی مستند کتاب مارکیٹ میں نظر نہیں آتی۔ کرنل اکرم اللہ نے بھی یہی شکورہ کیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمود احمد کی کتاب ”انڈو پاک وار 1965ئ“ (اے ہسٹری آف پاک انڈو وار 1965ئ) پورے برصغیر میں اس سے زیادہ مستند اور تعلیم سے بھرپور کتاب میں نے نہیں دیکھی۔ معلوم نہیں کرنل اکرم اللہ نے یہ کتاب کیوں نہیں پڑھی اور اگر پڑھی ہے تو انہوں نے اس کو وقعت بخشنا پسند نہیں کیا۔
میرے برادر نسبتی ایک سینئر ریٹائرڈ سول سرونٹ ہیں۔ انہوں نے بھی شکوہ کیا تو میں نے ان کو بھی یہی کتاب تجویز کی تو انہوں نے بتایا کہ یہ کتاب بہت زیادہ لوجیانا اور تکنیکی ہے تو میرا ماتھا ٹھنکا۔ اُف میرے خدا! اب مجھے سمجھ آیا کہ عام لوگ 1965ءکی جنگ پر لکھی کتابیں کیوں نہیں پڑھ پا رہے۔ میں پہلے ہی 1965ءکی جنگ پر اپنی تحقیق کر رہا ہوں۔ میں نے فیصلہ کیا کہ جب میں لکھوں گا تو اس طرح کہ ہر قسم کے قاری کو سمجھ آنے چاہئیں اس کوشش میں میری تحریریں لمبی کیوں نہ ہو جائیں۔
پروفیسر مظفر مرزا ذرا ت¶قف فرمائیں کہ بھارتی لیفٹیننٹ جنرل بی ایم کول نے اپنی کتاب ”ان کہی کہانی“ (The Untold Story) میں 1962ءکی چین کے خلاف جنگ میں اپنے کردار کا دفاع کیا جب وہ نیفا NEFA (نارتھ ایسٹ فرنٹئر ایجنسی) میں بھارت کے نمبر 4 کور کے کمانڈر تھے۔ اس کتاب کا تعلق 1965ءکی جنگ سے بالکل نہیں تھا اور نہ ہی جنرل جے این چوہدری اس وقت بھارتی فوج کے چیف آف آرمی سٹاف تھے۔ جنرل بی ایم کول نے اپنی دوسری کتاب Confronation with Pakistan میں جنرل جے این چوہدری کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ بھارتی افواج چونڈہ سیالکوٹ کے محاذ پر پاکستانی افواج سے تعداد میں بہت زیادہ تھیں اور پھر بھی وہ پاکستانی افواج کو شکست نہیں دے سکیں۔
اب چونکہ ہم چونڈہ پہنچے ہیں تو جناب ساجد حسین ملک (گاہ گاہ باز خواں) سے درخواست ہے کہ وہ غور کریں کہ بھارت کی بکتر بند ڈویژن کا نام ”فخر ہند“ نہیں تھا بلکہ کالا ہاتھی (BLACK Elephant) تھا۔ جنرل جے این چوہدری نے 16 کیولری رجمنٹ (50 ٹینک) میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ کمشن حاصل کیا تھا۔ انہوں نے 16 کیولری کو ”فخر ہند“ کا نام دیا تھا۔ یہ رجمنٹ کالا ہاتھی ڈویژن (266 ٹینک) کے پھلورا چونڈہ پر پیش قدمی میں ہراول رجمنٹ کا کام کر رہی تھی۔
جناب کرنل اکرام اللہ نے اپنے کالم میں لکھا کہ وہ میجر شفقت بلوچ (بعد میں لیفٹیننٹ کرنل) ستارہ جرا¿ت کے کمانڈنگ آفیسر تھے۔ اسی صحفہ پر لیفٹیننٹ کرنل سید شاہد عباس نے لکھا کہ لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ان کے کمانڈنگ آفیسر تھے۔ دونوں محترم کالم نگاروں سے التماس ہے کہ وہ صحیح حقائق واضح کریں۔ کرنل سید شاہد عباس نے اپنے اسی کالم میں میجر شفقت بلوچ کی کمپنی کے سامنے والے علاقے میں بھارتی کور کمانڈر کا نام لیفٹیننٹ جنرل ہربخش سنگھ لکھا اور اس زمرے میں انہوں نے انہی جنرل صاحب کی کتاب War Despatches- Indo- Pak Conflict 1965 کا حوالہ بھی دیا ہے۔ اسی کتاب کے تیسرے صفحہ پر لکھا ہے کہ جنرل ہربخش سنگھ بھارت کی ویسٹرن کمانڈ کے جی او سی ان میں یعنی (جنرل آفیسر کمانڈنگ اِن چیف) تھے اور تین کور کمانڈر جنرل کٹوچ، جنرل ڈون اور جنرل ڈھلوں) ان کے ماتحت تھے۔ جنرل جے ایس ڈھلوں کرنل سید شاہد عباس کے بتائے ہوئے علاقے میں کور کمانڈر تھے۔
14 اگست 2009ءکے دن ٹی وی پروگرام میں کیپٹن (ر) گوہر ایوب اور لیفٹیننٹ کرنل شفقت بلوچ نے یہی غلطیاں کیں۔ 6 ستمبر 2009ءکو یہی پروگرام دہرایا گیا اور وہی غلطیاں دہرائی گئیں۔ تب میں نے یکم اکتوبر 2009ءکو چیف آف آرمی سٹاف کی توجہ ان غلطیوں کی طرف مبذول کروائی مگر ایسے لگتا ہے کہ یہ غلطیاں اپنی دانست میں مورچہ زن ہو چکی ہیں۔ چیف تو بہت مصروف شخصیت ہیں جن اصحاب کو اس کام پر مامور کیا گیا ہے ان کا کام ہے کہ وہ برائے مہربانی غور فرمائیں۔     (جاری)