زندگی شمع کی صورت ہو خُدایا میری

کالم نگار  |  رابعہ رحمن

علم کی شمع جس نے بھی اپنے ہاتھ میں تھام لی تو نہ صرف اس کا اپنا نصیب روشن ہو گیا بلکہ وہ آج کے انتہا پسندی کے دور میں ان ظلمت کدوں کے اندھیروں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوا جو کہ ہماری آنکھ سے اوجھل ہیں۔ علم کی شمع کی لو ضو خورشید کے مترادف ہے اور اس کی روشنی کا پھیلا¶ چاندنی کی مانند۔ اسی طرح سے برس ہا برس سے علم حاصل کرنے اور پھیلانے کا عمل جاری و ساری ہے۔ جب ہمار نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا کہ ”اقرا“ (پڑھ) تو یہ پہلا سبق تھا جو کہ اللہ کے محبوب کو دیا گیا۔ ان کے اس پیغام کو آگے لے کر چلنے والے اب علم کے امانتدار ہیں اور جب امانتدار سونپی گئی‘ اخلاقی امانت عملاً ادا کر دیتا ہے تو وہ صدقہ جاریہ بن جاتی ہے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو علم اور اسلام کبھی تلوار سے نہیں پھیلا بلکہ صوفیاءکرام‘ دانشور اور عالم و فقیہہ کی وساطت سے پھیلا اور اس عمل کو کسی دور میں کوئی نمرود‘ ابوجہل‘ یا فرعون نہیں روک سکا تو آج کے یہ نام نہاد علم دشمن کیسے روک سکتے ہےں۔ آج تو ہمارا بچہ بچہ باشعور ہونے کی خواہش اور جستجو میں ہے اور اپنی ذہانت اور علمی قابلیت کے باعث دنیا بھر کو حیران کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ جب بل گرڈ نے ارفع کریم رندھاوا سے ملاقات کی تو مرحومہ ارفع نے کہا ”آپ مائیکرو سافٹ کی ایک دیوار تعمیر کر رہے ہیں اور میں اس میں ایک دروازہ بنا رہی ہوں“ تو وہ ششدر رہ گیا۔
اسی طرح آج ورطہ¿ حیرت میں ڈال دیا ہماری غازیہ ملالہ یوسف زئی نے جب سوات میں دہشت گردی کا خوف سرایت کر رہا تھا اور ڈر کے مارے لوگوں نے اپنی بچیوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کر رکھا تھا۔ علم حاصل کرنے کی تڑپ اور لگن لئے قوم کی سینکڑوں بیٹیاں اندر ہی اندر بلکتی اور علم کی شمع پہ اپنے آنسو گرانے پر مجبور ہو گئیں۔ مگر فرائڈ کا کہنا ہے کہ ”اگر تم عورت کو زندان خانے میں ڈالو گے تو وہ اپنے بالوں کی سوئی سے ان میں سرنگ بنا لے گی۔“ یہی کام وزیرستان میں بسمین ابراہیم نے کیا اور تعلیم حاصل کر کے معلمہ کے عہدے پر فائز ہوئیں مگر ملالہ یوسف زئی نے بسمین ابراہیم سے کچھ آگے کا سوچا۔ حضرت علامہ اقبالؒ کے اشعار کے مطابق
زندگی شمع کی صورت ہو خُدایا میری
علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یارب
کے مترادف اپنے حصے کی نہ صرف شمع جلائی بلکہ شعور و آگہی کو سیل رواں بنانے کے لئے سفاکانہ رویہ کی بھینٹ بھی چڑھ گئیں مگر دہشت گردوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ ملالہ کوئی موم کی گڑیا نہیں کہ ان کے بارود کی تپش سے پگھل جائے گی۔ غازیہ ملالہ نے علم کی روشنی پھیلانے کے لئے اپنے لہو کا تیل چراغ عشق میں ڈالا اور موتیوں کی ایسی مالا بنائی کہ اب ملالہ سے ملالہ بنتی چلی جا رہی ہیں اور یہ موتیوں کی مالا کسی ریشم کی ڈور سے نہیں بندھی بلکہ جذبہ ایمانی، جذبہ جہاد سے زنجیر بن چکی ہے۔ غازیہ ملالہ کی کوششیں اس کی خواہش سے بڑھ کر ہیں۔ ملالہ کی قربانی اس کے عزم سے کہیں بالا ہے۔ آج قوم کی ہر عورت‘ بیٹی چاہے خیبر پی کے یا سندھ بلوچستان کے کسی دیہات میں ونی کی رہی ہے یا وزیرستان میں طالبان کی دھمکیوں سے ڈر کے دہلیز کے اندر رہنے پر مجبور ہے وہ اب اپنے قدم نہیں روکے گی۔ غازیہ ملالہ کا نقش کف پا اس کے لئے منزل کا روشن راستہ ثابت ہو گا۔
جس طرح کچھ پہلے ارفع کریم (مرحومہ) کے لئے ہر ذی روح کے ہاتھ دعا کے لئے اٹھے ہوئے تھے اسی طرح آج غازیہ ملالہ کی صحت یابی کے لئے ہر آنکھ اشکبار ہے بجائے۔