جونکےں

کالم نگار  |  مسرت قیوم

 اےک تقرےب مےں غےر رسمی گفتگو کے درمےان باتوں کا رخ آجکل عام ہوتے ہوئے انسانی امراض کی طرف مُڑ گےا۔ محفل مےں موجود ہر دوسرا فرد” جوڑوں کے درد“ مےں مبتلا تھا۔ بھائی نے بتاےا کہ پہلے زمانے مےں لوگ گھٹنوں۔کمر درد۔ کو رفع کرنے کے لئے متاثرہ جگہوں پر ” جونکےں“ لگواتے تھے۔ اب مےں بھی کچھ دنوں مےں پاﺅںپر لگوانے کا سوچ رہا ہوں۔ مےرے حےرت آمےز استفسار پر فرماےا کہ ”جونکےں“ چھوٹے چھوٹے سے کےڑے ہوتے ہےں۔ اُن کو درد ےا خارش زدہ جگہ پر لگا دےتے ہےں۔ ”جونکےں“ انسانی بدن کا تمام فاسد خون چوس لےتی ہےںاور ”پھول کر جب کُپا“ بن جاتی ہےں تو اُن کو پانی مےں ڈالتے ہی جب سارا خون پانی مےں منتقل ہو جاتا ہے اور پھر اےک عرصہ تک درد نہےں ہوتااور جلِدی امراض بھی ٹھےک ہو جاتے ہےں۔
مےں نے بھائی جان سے پوچھا کہ اس وقت ”بطور قوم“ ہم جن ”امراض خبےثہ“ مےں مبتلا ہو چکے ہےں۔ ہمارے جسم مےں تازہ‘ صاف خون کی بجائے ملاوٹ‘ کم ناپ تول‘ کرپشن‘ جھوٹ اپنے وطن سے غداری‘ قتل و غارتگری ”اسلام سے دوری“ سے لبرےز خون ٹھاٹھےں مار رہا ہے۔ کےا اےسی جونکےں موجود ہےں جو اس خون کو چوس سکےں ”بھائی جان“ ہنس کر بولے۔ ”طبقہ اشرافےہ“ بھی تو ”جونکےں“ ہی ہےں۔ ہے تو سہی مگر ہمارے جسم کے ”فسادی امراض“ ختم کےوں نہےں ہو رہے۔ 65 سالوں سے پہلے ”باپ پھر اولاد“ پھر ”اُس کی بھی اولاد“ کےا ےہ ملک صرف چند خاندانوں۔ لوگوں کو نوازنے کے لئے بناےا گےا تھا۔ مگر ےہ تو ہمارا صاف خون پی گئے ہےں۔ اےک کے بعد دوسری ”جونک“ ہمارے خون مےں تو اب سراسر خسارہ ہے۔ ہمےں تو اےسی جونکےں چاہےےں جو ہمارے بدن سے ”امرےکی غلامی“۔ ”وفاداری“ کا ”فاسد مادہ“ نکال دےں۔ ہم نے امن قائم کرنے کی نوےد دےنا ہوتی ہے تو کسی ”غےر ملکی جنرل“ کو قبائلی علاقوں کا دورہ کروا دےتے ہےں اور جب کسی علاقے مےں آپرےشن کرنا مقصود ہو تو ”ملالہ“ جےسی معصوم کلی کو بے رحمی سے نشانہ بنا لےا جاتا ہے۔ آخر ہم ”دشمن کی چالوں‘ مقاصد‘ عزائم کو کےوں نہےں سمجھ پا رہے۔ ہم اپنے ہی دشمن کا کردار کےوں ادا کرتے جا رہے ہےں۔ ہر مرتبہ کسی نہ کسی سازش کا شکار ہو کر ”اپنوں“ پر ہی حملہ آور ہو نا کہاں کی وطن دوستی ہے۔ ہمےں اےسے عناصر کی سرکوبی کے لئے متحد ہونا پڑے گا۔ ہم اےک ”مےڈےا اےج“ کے باسی ہےں۔ مےڈےا ”بنانے اور بگاڑنے“ کی بے پناہ قوت کا حامل ہے۔ اس ”سےٹلائٹ دور“ مےں امن‘ انتشار پےدا کرنے‘ سنسی پھےلانے اور جنگ لڑنے اور سوچ و فکر بدلنے مےں مےڈےا کا کلےدی کردار ہے۔ ہمےں ”ےہودی مےڈےا“ کی تباہ کاری سے بچنا اور خود کے اپنے ”مےڈےا“ کو مثبت راہ پر ڈالنے کی سعی کرنی چاہئے۔ ہمےں اب ”برےکنگ نےوز“ کی ”رےس“ سے باہر نکل کر اپنے وجود کو لاحق امراض کے شافی علاج کے لئے سےاسی رہنماﺅں کو آپس مےں لڑوا کر تماشہ گردی کی بجائے اس منتشر بکھری ہوئی قوم کو اےک ”امت واحدہ“ کے قالب مےں ڈالنے کے لئے اپنی صلا ختےوں کو استعمال کرنا پڑے گا۔ اب پھر بم دھماکے شروع ہےں۔ ہر طرف نعشےں گر رہی ہےں۔ ”وزےرستان مار چ“ کے بعد دو۔ ڈرون حملے 30 کے قرےب جانےں ہڑپ کر چکے ہےں۔ بےرونی محاذ سے تبھی نمٹنا ممکن ہو گا جب تک ہم اندرونی اختلافات‘ لسانی و فروعی معاملات پر قابو پانے کی صلاحےت حاصل نہےں کر لےتے‘ اتحاد و ےکجہتی کے فروغ کےلئے معاشی بگاڑ اور انتظامی بدنظمی کے سدباب کےلئے سول سوسائٹی‘ نمائندہ سےاسی جماعتوں‘ تاجر رہنما‘ وکلائ‘ مےڈےا‘ ڈاکٹرز‘کھلاڑی معزز عدلےہ اور ”بہادر افواج پاکستان“ کے نمائندوں پر مشتمل ”مدبر کونسل“ کی تشکےل اب معروضی حالات کی اشد ضرورت بن چکی ہے۔ موجودہ ”حکومت اور اپوزےشن جماعتےں“ اب فوراً ہی اس کی تشکےل کےلئے درکار آئےنی تقاضے اور ڈھانچہ ترتےب دےکر اعلان کر دےں۔ اس امر کو ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ تمام طبقوں کی نمائندگی مطمن حد تک تسلی بخش ہونی چاہئے۔ کونسل کی ساخت‘ حےثےت مستقل نوعےت کی ہو جو کسی بھی بحرانی کےفےت اور سانحہ کی صورت فوری اور موثر اقدام کر سکے۔ کونسل کے ذمہ بےن الصوبائی معاملات‘ آئےن کی پاسداری‘ خلاف آئےن‘ غےر قانونی الاٹمنٹ درآمدی و برآمدی پر مٹ توانائی بحران‘ کھےل و شعبہ طب مےں کرپشن‘ بدانتظامی کا انسداد ہو‘ ےہ سب سے سپرےم ادارہ ہو‘ چونکہ اس مےں تمام طبقہ فکر کی موثر نمائندگی ہو گی اس لئے کو نسل اپنے فےصلوں بابت قوت نافذہ کی حامل ہو۔