جرنیلی سیاست اور ایوان صدر

کالم نگار  |  احمد جمال نظامی

 سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ جرنیلوں کا سیاست میں ملوث ہونا حلف کی خلاف ورزی ہے۔ ایوان صدر میں بیٹھے شخص کو کسی گروپ کی حمایت نہیں کرنی چاہیے جبکہ سپریم کورٹ نے سیکرٹری ایوان صدر نے داخل کروائے گئے جواب میں موقف اختیار کیا ہے کہ ستمبر 2008ءکے بعد ایوان صدر میں کوئی سیاسی سیل نہیں۔ اس کے علاوہ جبکہ سیکرٹری ایوان صدر سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کروا چکے ہیں ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی وسطی پنجاب کی قیادت تبدیل کر دی ہے۔ آصف علی زرداری نے منظوروٹو کو پیپلزپارٹی سینٹرل پنجاب کا صدر اور تنویر کائرہ کو جنرل سیکرٹری مقرر کر دیا ہے۔ سوال وہیں آ کر رک جاتا ہے کہ اگر صدرمملکت آزادانہ حیثیت میں امورمملکت چلا رہے ہیں اور ان کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں بھی دو عہدے رکھنے کی جو رٹ پٹیشن دائر ہے اس کے برعکس وہ ایک غیرجانبدار صدرمملکت ہی ہیں تو پھر کیسے اور کیونکر ان کی طرف سے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کے اختیارات کو استعمال کیا جا رہا ہے ۔ملک کے مختلف سیاست دانوں اور ایسی شخصیات جن کی ایوان صدر تک رسائی حاصل ہے اور وہ کسی نہ کسی صورت میں ایوان صدر آتے جاتے رہتے ہیں ان کی طرف سے انگریزی و اردو اخبارات میں لکھے جانے والے مضامین میں برملا اعتراف کیا جاتا ہے کہ ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں اور ان سیاسی سرگرمیوں کا نقطہ محور پیپلزپارٹی کے اعتبار سے ہوتا ہے جن کو صدرمملکت آصف علی زرداری چلاتے ہیں۔ اس امر میں شک و شبہ کی گنجائش موجود نہیں اور نہ ہی کوئی آئینی قانونی اور سیاسی حلقہ و شخصیت اس سے انکاری ہو سکتی ہے کہ صدرمملکت کا عہدہ ایک غیرجانبدار عہدہ ہے۔ صدر وفاق کی علامت ہوا کرتا ہے اور کسی بھی صدر کا کسی سیاسی جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے مگر ہماری اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی کہ آصف علی زرداری نہ صرف پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین ہیں بلکہ انہیں جب بھی موقع ملتا ہے اور وہ کسی جلسے یا کسی ایسے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہیں جس کے ذریعے ان کا مقصود عوام تک اپنی آواز کو پہنچانا ہو تو وہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کی ہی حیثیت سے تمام تر نعرے، بڑھکیں لگاتے ہیں۔ ہماری موجودہ حکومت بار بار جمہوریت اس کی مضبوطی اور جمہوریت کے حسن کے نعرے بلند کرتی ہے اور کر رہی ہے مگر دوسری طرف ایوان صدر میں بیٹھے شخص ہی جمہوریت کے حسن پر ایک بدنما داغ کی مانند سب کو منہ چڑھا رہے ہیں ۔جب جمہوریت کے ساتھ ایسا مذاق کیا جائے گا اور جمہوریت کے معیار کو دوہرا بنانے کے لئے ذاتی حیثیت کے لئے ترجیحات مختلف رکھی جائیں گی توکیسے ممکن ہے کہ ملکی سیاست میں جرنیلوں کی مداخلت کو روکا جا سکے۔ گو وطن عزیز کی یہ تاریخی بدقسمتی ہے کہ اس ملک پر سیاست دانوں سے زیادہ فوجی آمر غیرآئینی اور غیرقانونی طریقے سے برسراقتدار رہے اور انہوں نے ملک کو معاشی اقتصادی سیاسی معاشرتی اور ہر لحاظ سے طرح طرح کے بحرانوں میں دھکیل دیا۔ آج جو کچھ بھی ہے اس کی ایک بھاری ذمہ داری فوجی ڈکٹیٹروں پر عائد ہوتی ہے اور سپریم کورٹ کا کہنا بجا ہے کہ جرنیلوں کا سیاست میں ملوث ہونا حلف کی خلاف ورزی ہے لیکن ایک سوال مسلسل کھٹکتا ہے کہ جرنیلوں کو سیاست میں مداخلت کرنے کی اجازت کون دیتا ہے۔ ان کو سیاست کا گیٹ وے کون دکھاتا ہے یقینا سیاست دانوں کی کرپشن جمہوریت کے ساتھ بے وفائی اور عوام سے کئے گئے وعدوں کی نفی جرنیلوں کو سیاست کے جواڑبھاٹا میں قدم رکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اگر تمام سیاسی جماعتیں یا کم از کم ملک میں برسراقتدار آنے والی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں جمہوری انداز میں اپنا قبلہ درست کر لیں اور جمہوریت کے خلاف سازشیں نہ کی جائیں تو کوئی شبہ نہیں کہ قطعی طور پر جرنیل سیاسی میدان میں اپنی مداخلت نہیں کر سکتے۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین اور صدرمملکت آصف علی زرداری کے بارے میں ان کے ہمنوا تاثر عام کرتے ہیں کہ انہوں نے بڑی مہارت اور دانشمندانہ انداز میں اپنی حکومت کا ٹینوئر پورا کرنے کے لئے سیاسی قدم اٹھائے ہیں مگر اس تلخ حقیقت کو کیسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے اسی دوراقتدار کے دوران کئی مرحلوں پر جمہوریت کی بساط لپیٹنے کے لئے خود تگ و دو کرتے رہے ہیں جب جب موجودہ حکومت نے عدلیہ کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ کیا اور عدلیہ کے ساتھ حکومت نے محاذ آرائی بڑھائی تو حکومت کی یہی خواہش بڑھتی رہی کہ وہ خود سیاسی شہید بن جائے اور چاہے ملک میں فوجی آمر کی صورت میں اقتدار پر قابض ہو جائیں۔ ملک میں اسی لئے تو آئینی بحران پیدا کیا جاتا رہا اور کئی موقعوں پر عدلیہ کو جان بوجھ کر مجبور کیا جاتا رہا کہ عدالت عظمیٰ آئین کے مطابق اپنے احکامات اور فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے آئین کے آرٹیکل 190 کے تحت فوج کو ان پر عملدرآمد کرنے کے احکامات جاری کرے لیکن عدالت عظمیٰ نے ایسا نہ کیا اور بالاخر حکومت نے خود ہی گھٹنے ٹیک دیئے۔ ماضی میں بھی سیاست دان ایسا کرتے رہے ہیں۔ برسراقتدار حکمرانوں کو اقتدار کے منصب سے گرانے کے لئے سیاسی جماعتیں جی ایچ کیو کی دہلیز پر قدم رکھتی رہی ہیں۔اب وقت بہت تبدیل ہو چکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایوان صدر سے صرف سیاسی سیل بند کرنے کے بیان جاری نہ کئے جائیں بلکہ حقیقی معنوں میں ایوان صدر کو غیرسیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا کر وفاق کی علامت تسلیم کروایا جائے تاکہ جمہوریت ہر طرف سے مضبوط ہو سکے۔ جمہوریت کے تمام تقاضے پورے ہوں اور جرنیلوں کی سیاست میں مداخلت اس انداز میں بند کی جائے کہ جرنیل جمہوریت سے خوفزدہ ہو کر خود کہنے پر مجبور ہو جائیں کہ جرنیلوں کا سیاست میں ملوث ہونا حلف کی خلاف ورزی ہے۔