کیا عمران خان کنفیوزڈ یا سیاسی چال؟

کالم نگار  |  مطلوب وڑائچ

میرے گائوں کے ایک بزرگ جو ’’استاد جی‘‘ کے نام سے مشہور تھے نے ایک دفعہ ہمیںایک دلچسپ واقعہ سنایا کہنے لگے کہ جوانی میں کشتی اور کبڈی کا بہترین کھلاڑی تھا اور ایک دفعہ قصبے میں ہونے والے سالانہ میلے کے موقع پر کشتی کے مقابلے ہوئے تو میں بھی لنگوٹ باندھ کرمیدان میں آ گیا اور مجمع کو للکارا کہ ہے کوئی جو مجھ سے کشتی لڑے کچھ لمحوں بعد مجمع میں کھڑے پینٹ شرٹ میں ملبوس ایک بائو ٹائپ شخص نے جواب دیا کہ ہاں میں مقابلہ کرتا ہوں یہ سن کر میرے سمیت سارا مجمع ہنسنے لگا لمحوں میں اس نے شرٹ پینٹ اتاری تو اندر سے وہ شخص ایک مکمل باڈی بلڈر اور ریسلر برآمد ہوا پھر ہمارا مقابلہ شروع ہو گیا جلد ہی میں سمجھ گیا کہ یہ ریسلر نہ صرف زیر کر لے گا بلکہ علاقہ کے لوگوں کے سامنے مجھے رسوا بھی کریگا لیکن وہ تھا کہ نہ مجھے چاروں شانے چت کر رہا تھا بلکہ مجھ پر بیٹھ کر اکھاڑے کی مٹی میں رگڑ رہا تھااور پھر اچانک میرا دائو چل گیا(ہم سمجھے استاد جی نے اسے چِت کر لیا ہوگا)مگر استاد جی بولے جیسے ہی میرا دائو چلا میں نے اپنے چاروں شانے چت ہو کر خود کو مزید رگڑنے سے بچا لیا۔
 جی ہاں قارئین اس وقت پاکستان کی سیاسی صورت حال بھی اسی طرح کی ہے۔ گذشتہ الیکشن 2013ء سے پہلے تحریکِ انصاف جس کا ذکر کہیں کتابوں میں بھی نہ ملتا تھا تو امریکہ نے اس وقت اندازہ کر لیا تھا کہ زرداری کے زیر سایہ چلنے والی حکومت اگلے الیکشن میں بُری طرح پٹ جائیگی اس لیے کوئی ایسا کھلاڑی تیار کیا جائے جو نیا کھیل اور نیا نعرہ لے کر آئے اور پھر جنرل شجاع پاشا کی نظر بھولے بسرے عمران خان پر پڑی جو اپنی کرشماتی شخصیت کی وجہ سے جلد ہی ملک کی ایلیٹ کلاس اور یوتھ کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔انہی ایام میں امریکن کی بات چیت میاں برادران سے متوازی چل رہی تھی ۔ شاید قارئین کو یاد ہوگاکہ انہی دنوں امریکن ایمبیسڈر نے رائے ونڈ کے چکر لگائے تھے اور پھر 31اکتوبر2011ء کا دن آ گیا ناانصافیوں اور نوراکشتی کے ستائے ہوئے عوام اور خصوصی طور پر پاکستان کی یوتھ ایک عہد نبھانے کیلئے میدان میں کود پڑے۔ 
31اکتوبر کے اس اجتماع کے نتائج عمران خان اور اسکے ساتھیوں کی توقعات سے بہت بڑھ کر تھے اور پھر چشمِ فلک نے ایسے ایسے معجزے رونما ہوتے دیکھے کہ پاکستان کی سیاست میں جیسے تغیرات کا سیلاب آ گیا۔ سیاسی جماعتوں کی مالائوں سے جس تیزی سے سیاسی دانے گرنے لگے اور گرنے والے ہر دانے کی یہ خواہش تھی کہ اس کو عمران خان کی زیر قیادت بننے والی مالا میں جگہ ملے ایک ایسا بھی وقت آیا کہ درجن بھر منتخب اراکین قومی اسمبلی اپنی جماعتوں اور اسمبلی سے استعفیٰ دیکر عمران خان کی جماعت میں شامل ہو گئے۔ لڑھکنے والے ان سیاسی لوگوں کی بہتات کا اندازہ اس بات سے لگایاجا سکتا ہے کہ ایک ایک حلقے میں تحریکِ انصاف کے پاس 4سے 5امیدوار اکٹھے ہو گئے۔ 
دوسری طرف امریکہ نے نوازشریف کو ساتھ ملانے کیلئے سعودی عرب سے مدد مانگ لی جن کا پاکستان کے سیاسی اور عسکری ایوانوں تک اثر ہے۔اسی دوران عمران خان کے کچھ نئے شامل ہونے بہی خواہوں نے نوزائیدہ پارٹی کے اندر الیکشن کرانے کا مشورہ دے دیا اور عمران خان کے آئیڈیل نظریات کے مطابق الیکشن کی سکیم تو صحیح تھی مگر اس کیلئے ایک سال لگ جائیگا یہ قیادت سمیت کسی نے نہ سوچا تھا مگر جنہوں نے عمران خان اور اسکی پارٹی کو اس مشن پر لگایا تھا وہ یہ سب جانتے تھے اسی لیے نوازشریف سے معاملات طے پانے کے بعد جنرل شجاع پاشا کو ستمبر2012ء وعدہ کے باوجود ملازمت میں توسیع نہ دی گئی اسی وجہ سے عمران خان کے گرد منڈلانے والے بیشتر سیاسی پرندے پھر ایک اڑان بھر کر نوازشریف کے سر پر منڈلانے لگے۔
2013ء کی انتخابی مہم میں کپتان عمران خان ایک بھرپور انگز کھیلنے کی کوشش کی جس میں وہ بظاہر کامیاب ہوتے نظر آنے لگے مگر کاتبانِ اقتدار نے کچھ اور ہی فیصلہ کر رکھا تھا اور 13مئی کی رات 11بجے ہی نوازشریف نے اپنی جیت کا اعلان کرکے سب کو ششدر کر دیا۔ 
منصوبے کے مطابق پاکستان کی وفاقی اکائیوں کو تین بڑے سٹیک ہولڈرز میں بانٹ دیا گیا جس کے مطابق تحریک انصاف کو اقتدار، اقتدار کھیلنے کیلئے پاکستان کا سب سے زیادہ شورش زدہ اور فاٹا سے ملحق صوبہ خیبرپختونخواہ ایک گہری سازش کے تحت دے دیا گیا تاکہ عمران خان صاحب اس اقتدار سے برآمد ہونیوالے نتائج کے بھیانک اثرات سے اپنے آپ کو بچا نہ سکیں۔ یہی وجہ ہے لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، اسلام آباد اور کراچی کے ڈیفنس اور کنٹونمنٹ وہ شہری علاقوں سے 80لاکھ سے زائد ووٹ لینے والے عمران خان نے الیکشن کے بعد عجیب حواس باختہ حرکتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔ 
عمران خان نے الیکشن سے پہلے خود کو لبرل، پروگریسو سیاستدان کے طو رپر پاکستانی قوم کے سامنے پیش کیا تھا مگر خیبرپختونخواہ میں اقتدار سنبھالنے کے بعد انکی پارٹی اور خود ان کی سوچ180ڈگری کے زاویے سے تبدیل ہوئی۔ پاکستانی ایلیٹ کلاس کے ووٹ لینے والا عمران خان آج شاید جھنجھلا کے خیبرپختونخواہ میں پروطالبان پالیسیوں کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں یا کپتان صاحب اس زبردستی دیئے گئے اقتدار سے جان چھڑانے کیلئے ایسی اُوٹ پٹانگ حرکتیں کر رہے ہیں۔ (جیسی ہمارے قصبے کے استاد جی نے کی تھی) اپنی سیاسی عاقبت نااندیش پالیسیوں کی وجہ سے آج نہ صرف تحریک انصاف میں انتشار اور خلفشار موجود ہے بلکہ کپتان صاحب گذشتہ 5ماہ کے دوران قومی اسمبلی کے اجلاس میں صرف دو تقریریوں کے علاوہ کچھ نہ کر سکے اور یہ اچھا موقع تھا کہ ملک میں ایک مضبوط اپوزیشن قائم کرکے ملک کے داخلی اور خارجی دشمنوں کی سازشوں کو روکا جاتا ایک منقسم اپوزیشن کے نتائج بھی یقینا خان صاحب کی سیاسی صحت پر اثر ڈالیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تحریک انصاف کی پنجاب کی قیادت کوئی اور بیان دیتی ہے، کیپٹل اسلام آباد کی کوئی اور، اور خیبرپختونخواہ کی سیاسی قیادت کے سُر نرالے ہوتے ہیں جبکہ خان صاحب ہر روز ایک متنازع بیان جاری کرکے ارسطو اور سقراط کی قبر پر لات مارتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ 
جس دن تحریک انصاف کی قیادت نے سیاست اور سنجیدگی کو ایک ہی پلڑے میں رکھ لیا اسی دن تحریک انصاف اپنے اہداف کے بہت قریب تر ہو جائیگی۔ ڈرون حملوں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر متنازع بیان دے کر عمران خان نے شاید پاکستان کی کل آبادی کے ایک فیصد لوگوں کو شاید خوش کر دیا ہوگا مگر 99فیصد ووٹروں اور بہی خواہوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ 
مجھے کچھ دوستوں نے کہا ہے کہ شاید کپتان عمران خان اگلے گلے پڑے خیبرپختونخواہ سے اسی بہانے جان چھڑانا چاہتے ہیں ورنہ وہ نیٹوسپلائی روکنے کا بیان نہ دیتے۔اب اس سے بھی جان چھڑانے کی کوشش کررہے ہیں۔ سانحہ راولپنڈی جس میں عاشورہ کے روز فرقہ ورانہ فساد میں ۰۱ افراد مارے گئے اس کو بہانہ بنا کر سپلائی روکنے کی تاریخ20نومبر سے بڑھا کر 23 کردی ہے۔
عمران خان سے ایک سادہ دل پاکستانی یہ پوچھنا پسند کرے گا کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے وقت کیا اس پر حکومت پاکستان کی طرف سے زندہ یا مردہ گرفتاری پر پانچ کروڑ کا انعام مقرر نہیں تھا ؟کیا حکومت پاکستان نے مذاکرات کا اعلان کرنے سے پہلے یا بعد اس پرائس منی سے دستبردار ہوئے تھے ؟اگر نہیں تو پھر اتنے شور سے واویلا کیسا؟سب کو پتہ ہے کہ نیٹو سپلائی مرکزی حکومت کی مرضی کے بغیر کوئی نہیں روک سکتا ۔پھر عمران اسے روکنے کے اعلانات کر کے کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں؟