ڈینگی مکائو مہم۔ چند تلخ حقائق

نوائے وقت کی اطلاع کے مطابق ایک روز قبل لاہور میں ڈینگی کے تقریباً پچاس کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ مریدکے میں بھی ایک بارہ سالہ لڑکے اور چوبیس سالہ خاتون میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی ہے جس پر انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈینگی کا شکار ہونے والوں کی یہ وہ تعداد ہے جو رپورٹ کی گئی ہے جبکہ حقیقت میں پنجاب بالخصوص لاہور کے سینکڑوں نہیں ہزاروں افراد ہیں جو ڈینگی مچھروں کے کاٹنے کے باعث سرکاری و پرائیویٹ ہسپتالوں میں پڑے ہیں۔ کافی تعداد وہ ہے جو ہسپتالوں میں جانے کی بجائے گھروں پر رہ کر ہی ڈینگی سے نبرد آزما ہے جیسے سبزہ زار کی باجی ثریا۔ ان میں سے کچھ تو زندگیاں ہار رہے ہیں اور کچھ ڈینگی کو شکست دینے میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔پنجاب خاص کر لاہور کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ بات ببانگ دہل کہی جا سکتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور موسم کی انگڑائی لینے کے باعث ڈینگی بے قابو ہوتا جا رہا ہے اور ڈینگی کو آفت خداوندی کہنا بجا ہو گا۔سال دو سال پہلے جب ڈینگی نے پہلی بار پاکستان بالخصوص پنجاب پر یلغار کی اور جس کے نتیجے میں سینکڑوں ہلاکتیں ہوئیں تو حکومتی اور عوامی حلقوں کی طرف سے دو تین وجوہات بیان کی گئیں۔(اولاً) متعلقہ سرکاری اداروں کی غفلت و لاپرواہی۔ (دوئم) ڈینگی مچھر کو مارنے کی دو نمبر دوائی کا استعمال اور کمیشن۔ (سوئم) عوام کی ڈینگی کے ممکنہ خطرات و نقصانات سے لاعلمی۔ کہنے والے سچ کہتے ہیں کہ تینوں متذکرہ وجوہات جاندار ہیں انہی کے باعث سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اس ضمن میں ہماری بے حسی بھی کافی کائونٹ کرتی ہے۔ اس بے حسی کو دو نمبری کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ یہ دو نمبری ہی تو تھی کہ ہم نے دل کے ہسپتال (PIC) میں دو نمبر جعلی دوائی سپلائی کر ڈالی۔ یہ ہماری اور ہمارے متعلقہ افراد کی حرص کمیشن ہی تو تھی کہ ہم نے چیک کئے بغیر دو نمبر دوائی کو غریب مریضوں کو کھلا دیا اور پھر ہم سب نے جاگتی آنکھوں کے ساتھ اپنی دو نمبری کا رزلٹ بھی دیکھ لیا۔ سینکڑوں اموات کی صورت میں۔ سینکڑوں بے گناہ دل کے مریض مر گئے اور سینکڑوں کنبوں اور گھرانوں کو متعلقہ افراد کا سیاپا کرنے کے لئے چھوڑ گئے۔ ہم بدقسمت ہیں کہ پانی سر سے گزر جانے کے بعد ہوش میں آتے ہیں۔ 
مجھے دو تین حقیقتوں کا اعتراف ڈنکے کی چوٹ پر کرنا ہے۔ (اولاً) ڈینگی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا ہے۔ (دوئم) وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے علاوہ ان کی ٹیم کی اکثریت ڈینگی کے خاتمے کیلئے کی جانے والی کوششوںکے ضمن میں سنجیدہ نہیں ہے۔ (سوئم) عام افراد کو ڈینگی مکائو مہم کا حصہ بنائے بغیر کامیابی مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔ 
میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ جناب شہباز شریف آفتِ ڈینگی کی وجہ سے کافی پریشان ہیں۔ وہ ڈینگی مکائو مہم پر بے دریغ خرچ کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی کوششیں نظر آنے کے علاوہ محسوس بھی کی جا رہی ہیں لیکن اکیلا شہباز شریف کیا کر سکتا ہے۔ سننے میں آ رہا ہے کہ اس بار ڈینگی سپرے کیلئے استعمال کی جانے والی دوائی بھی دو نمبر نہیں ہے مگر پھر کیا وجہ ہے کہ ڈینگی کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ جان کی امان پائوں تو عرض کئے دیتا ہوں کہ جناب شہباز شریف کی ٹیم اور منتخب نمائندوں کی اکثریت ایٹنی ڈینگی مہم میں سنجیدہ نہیں ہے۔ انکی کارکردگی میڈیا پر آ کر ختم ہو جاتی ہے۔ دو خواجوں (خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر) کی گواہی تو میں خود دے سکتا ہوں کہ دونوں دوست نہایت سنجیدگی اور خصوصی جذبے کے ساتھ ڈینگی کے خاتمے کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان جیسے چند مزید باضمیر لوگ اور بھی ہوں۔ اس ضمن میں یٰسین موہل کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہو گی کیونکہ موہل موصوف کو 10ویں محرم کو بھی ڈینگی کے خلاف لڑتے ہوئے دیکھا گیا ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ ن لیگ کے منتخب نمائندوں کی اکثریت سنجیدہ نہیں ہے۔ ڈینگی مکائو مہم میں کون مخلص ہیں اور کون محض کارروائی ڈال رہے ہیں۔ ان کے بارے میں جاننا مشکل نہیں ہے۔ علاقائی سطح پر جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ نہر کے مختلف علاقوں میں عوامی نمائندوں کی کارکردگی دیکھی جا سکتی ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ میں اپنے گھر محلے اور علاقے کی مثال دیتا ہوں۔
میں شہر لاہور کے ایسے علاقے میں رہتا ہوں جسے شریف برادران کی تخلیق اور گڑھ کہا اور سمجھا جاتا ہے۔ آج بھی یہاں ن لیگ ہی کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی موجود ہیں۔ میں نے آج تک اپنے علاقے میں ان دونوں کی زیارت نہیں کی۔ جب سے ڈینگی نے پنجاب بالخصوص لاہور کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے مجھے ایسا کوئی دن یاد نہیں کہ میرے علاقے کے ایم پی اے اور ایم این اے میدان عمل میں اترے ہوئے دیکھے گئے ہوں۔ چند سالوں سے میں ذاتی طور پر ٹی ایم او اور ٹی ایم اے سے درخواست کرکے ڈینگی مار سپرے کروا رہا ہوں۔ ڈینگی مکائو مہم میں سب سے زیادہ توجہ جس بات پر دینی چاہئے وہ یہ ہے کہ ن لیگ کے نمائندوں کو گلیوں، بازاروں اور محلوں میں فزیکلی طور پر نکل کر گھر گھر جا کر لوگوں کو ڈینگی کے خطرات سے آگاہ کرنا ہو گا۔ یہ ذمہ داری عوامی و منتخب نمائندوں کی ہے کہ لوگوں کو مجبور کریں کہ وہ ڈینگی سے بچائو کے طریقے اختیار کریں اور جو شخص اشخاص یا گھرانہ تعاون نہیں کرتا تو اس کا چالان کرنے سے دریغ نہ کیا جائے۔