شیخ رشید‘ فضل الرحمان اور عمران خان

کالم نگار  |  عارفہ صبح خان

اس وقت سیاسی بساط کے تین بڑے میرے شیخ رشید‘ فضل الرحمان اور عمران خان ہیں جن کا پاپولریٹی گراف گذشتہ تین سالوں سے بلندیوں کو چھو رہا ہے لیکن تمامتر شہرت اور پارلیمنٹ کی رکنیت کے تینوں نے قومی سیاست میں وہ فعالیت اور کارکردگی نہیں دکھائی جس کی ان سے توقعات کی جا رہی تھیں۔ تینوں کے بیانات کا مشترکہ وصف ان کا دبنگ انداز ہے۔ شیخ رشید کی حالت اس وقت تمام چینلز کے ’’دولہا‘‘ جیسی ہے۔ وہ ہر اینکر کے پسندیدہ میزبان ہیں اور یہ خیال حقیقت کے قریب تر ہے کہ کچھ پروگرامز وہ خود اپنے اینکر دوستوں سے کہہ کر منعقد کرا لیتے ہیں۔ ممکن ہے وہ اس مصرعہ سے لطف اندوز اور اسکی چاشنی کو چار گنا کرنے کیلئے ایسا کرتے ہوں کہ …ع
تقریب کچھ تو بہرملاقات چاہئے
شیخ رشید نے ہی پاکستان میں چینلز کو فروغ اور لائسنس دیا جس کی وجہ سے ’’میڈیا‘‘ طاقتور تو ضرور ہو گیا ہے لیکن اسکی اب وہ ’’ساکھ‘‘ نہیں رہی جو پندرہ بیس سال پہلے ہوتی تھی۔ ایک چینل کسی ایشو کے حق میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہا ہے تو دوسرا اس کی مخالفت میں جان توڑ شواہد پیش کر رہا ہے۔ عوام ششدر ہے کہ کیا سچ ہے کیا جھوٹ؟؟ لیکن سوال بدستور اپنی جگہ پر ہے کہ اس سے معاشرے میں کنفیوژن زیادہ پھیلی ہے یا پھر بھارتی پروگراموں کی یلغار شروع ہو گئی ہے۔ آج ہر پروگرام کی ابتدا یا اختتام کسی بھارتی گانے یا ڈائیلاگ پر ہوتا ہے۔ اس ساری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ اگر ذہانت اور اختیارات کو بے مہار اور بے سوچے سمجھے استعمال کیا جائے تو اس سے منفی اثرات زیادہ مرتب ہوتے ہیں۔ اگر صرف مستند اور اچھی پارٹیوں کو چینلز کھولنے کے لائسنس دیئے جاتے تو آج پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا۔کہنے کا مقصد فقط یہ ہے کہ جب ہمارے سیاستدان اپنی ذہانت کو بے مہار چھوڑ دیتے ہیں یا ان کا قول‘ عمل سے دور ہوتا ہے یا اس میں سچائی اور خلوص کا فقدان ہوتا ہے تو نتائج مہلک نکلتے ہیں۔ آج شیخ رشید ایسی ایسی کھری‘ بے لاگ باتیں کرتے ہیں کہ وضو کرکے سننے کو جی چاہتا ہے۔ شیخ رشید اپنی گفتگوسے ایک ایسے لیڈر نظر آتے ہیں کہ دل چاہتا ہے… بندہ انکے ساتھ چل پڑے… لیکن سوال وہی کہ جب انہیں وزارتیں ملیں تو شیخ رشید پہچانے نہیں جاتے تھے۔ سر میں سریا تواس وقت انکے بھی آجاتا تھا۔ مشرف دور میں شیخ رشید ایک طاقتور اور بااثر وزیر تھے۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت عوامی درد کہاں چلا جاتا تھا۔ شیخ رشید نصف درجن وزارتوں سے لطف اندوز ہوئے ہیں لیکن وزارت اطلاعات کا کچھ منظر سطور بالا میں پیش کیا جا چکا ہے اور وزارت ریلوے تو اس قدر لولی لنگڑی ہو چکی ہے کہ آجکل سعد رفیق اسکی بیساکھی بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سمجھوتہ ایکسپریس کا سانحہ شیخ رشید کی وزارت میں پیش آیا لیکن آج تک کیا ہوا؟ خود شیخ رشید نے مدعی کی حیثیت میں اپنا مقدمہ کہاں تک لڑا؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ رشید نہایت فعال‘ متحرک اور سمجھدار لیڈر ہیں لیکن صرف اپنے معاملے میں آجکل وہ جس طرح دبنگ انداز میں امریکہ اور ڈرونز پر بات کر رہے ہیں۔ ہم تو کہتے ہیں کہ خدا کرے‘ وہ وزیراعظم بنیں اور امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حکم دیں کہ چلو اوباما… یہاں سے بھاگو۔ لیکن یہ ہماری خوش خیالی ہے۔ شیخ رشید کل کو وزیراعظم بنے تو تھری پیس سوٹ اور میرون ٹائی پہن کر اور جھک کر امریکی صدر کو ’’ویلکم‘‘ کر رہے ہونگے۔ ابھی تک تو پاکستان کی تاریخ میں یہی ہوتا آیا ہے۔
مولانا فضل الرحمن ایک ایسی سدا بہار شخصیت ہیں جن پر بات کریں تو دور تک جاتی ہے۔ حال ہی میں مولانا صاحب نے کتے کی موت پر شہادت کا جو بیان دیا ہے۔ اس پر خاصی لے دے ہوتی لیکن درمیان میں سید منور حسن کا بیان آگیا اور مولانا فضل الرحمان کی جان چھوٹ گئی۔ اب مولانا فضل الرحمان نے فرمایا ہے کہ نیٹو سپلائی کے حوالے سے عمران خان کے ساتھ ہوں۔ اپنے تازہ ترین انٹرویو میں مولانا فضل الرحمان نے یہ گوہر افشانی بھی کی ہے کہ ’’مشرف نے مجھ سے کہا کہ مولانا مان جائیں‘ ہم امریکہ کے غلام ہیں۔ واقعی انکی بات سچ تھی۔‘‘ مولانا فضل الرحمان کے اس بیان میں قربان ہونے کو جی چاہتا ہے۔ کیا خود مولانا صاحب اتنے کمسن نادان اور معصوم تھے کہ انہیں یہ تک نہیں معلوم تھا… ہم امریکہ کے غلام بنے ہوئے ہیں۔مشرف دور میں مولانا صاحب نے عزت دولت شہرت اور پٹرول خوب خوب کمایا۔ مزا تو تب تھا جب اس وقت پرویز مشرف کو سمجھاتے کہ بھائی ہم غلام نہیں‘ آزاد قوم ہیں۔ امریکہ سے ڈرو نہیں لڑو… لیکن اس وقت تو مولانا صاحب ایک نو عمر طالب علم کی طرح تابعداری سے ’’یس سر‘‘ کرتے رہے۔ اب جب مولانا امریکہ کیخلاف باتیں کرتے ہیں اور آزادی کا راگ الاپتے ہیں تو کہیں سے مسرت شاہین منہ چڑاتی نکل آتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو بحیثیت ایک مسلمان لیڈر کے قومی خود داری دکھانی چاہئے تھی لیکن مولانا صاحب کا روزنامچہ گواہ ہے کہ انہوں نے ہر وہ کام کیا جو قومی مفاد سے زیادہ ذاتی مفاد کے قریب تھا۔ عمران خان کہہ رہے ہیں کہ وہ 20 نومبر کو نیٹو سپلائی بند کر دینگے۔ 25 نومبر کو خود عمران خان کی سالگرہ ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ عمران خان سچ مچ نیٹو سپلائی بند کرکے دکھا دیں۔ عوام انہیں 25 نومبر کو کندھوں پر اٹھا لے گی۔ عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ ہم پر تنقید کرنے والوں کو باہر سے پیسہ ملتا ہے۔ عمران خان نے قومی اسمبلی میں یہ بھی کہا… بھارت سے دوستی کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں مگر نریندر مودی کی حمایت نہ کی جائے۔ ’’عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے پرویز رشید نے جوابدیا ہے کہ عمران خان پولیو مہم پر توجہ دیں۔ پرویز رشید نے یہ بھی کہا کہ عمران نیٹو سپلائی بند کرانے کے ساتھ امریکی سرمایہ کاری کرا رہے ہیں۔ گذشتہ چند دنوں سے تواتر کے ساتھ یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ امریکہ نے عمران خان کو خیبر پی کے میں ڈالروں کی بوریاں دی ہیں۔ معلوم نہیں اس خبر میں کہاں تک صداقت ہے لیکن بات یہ ہے کہ کوئی بات ہوتی ہے تو بات بنتی ہے۔ عمران خان سے بہت امیدیں توقعات وابستہ تھیں لیکن پانچ ماہ گزرنے کے بعد سوائے بیانات کے کوئی کارکردگی دکھائی نہیں دی۔ عمران خان نے الیکشن میں جو دعدے اور وعدے کئے تھے۔ ان میں سے 2 فیصد بھی پورے نہ کئے۔ گویا عمران اور دوسرے سیاستدانوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ تینوں لیڈر اچھے ہیں لیکن اپنی صلاحیتیں قوم کیلئے وقف کرکے دکھائیں تو بات ہے۔