سانحہ راولپنڈی کے مجرم انسانیت کے دشمن!!!

شہادت امام حسین ؓ ہمارے لئے شجاعت، ایثار اور صبرو تحمل کا درس ہے ۔ عالم اسلام میں 10محرم الحرام کو یوم شہادت امام حسینؓ عقیدت و احترام اور امام عالی مقام ؓکے نقشِ قدم پر چلنے کے عہد کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ہم مسلمان 72فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں لیکن ان میں سے کوئی فرقہ یا مسلک امام حسین ؓ کی مظلومیت سے انکاری نہیں۔ مسالک کے مابین فروعی اختلاف ضرور ہیں۔ بعض تو ایک دوسرے کو کافر تک بھی قرار دیتے ہیں۔ انکے درمیان فسادات اور قتل وغارت بھی دیکھنے میں آتی ہے۔کسی کا آپ عقیدہ بدل سکتے ہیں نہ کسی کو ایسا کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے مگر اس طرح کے اظہار سے تو گریز کیا جاسکتا ہے جو فساد اور قتل و غارت کا سبب بنتا ہے۔
عاشورہ محرم، خاص طور پر یوم عاشور پر پورے ملک میں حکومت نے امن برقرار رکھنے کیلئے بہترین انتظامات کئے تھے۔بڑے شہروں میں موبائل فون سروس معطل کردی گئی جو ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں کی گئی۔ اسی طرح کئی شہروں میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد رہی۔ ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے ممکنہ حد تک الرٹ تھے ۔انہوں نے تباہ کن اسلحہ سمیت درجنوں افراد کو یوم عاشور سے قبل گرفتار کر کے امن وامان کی صورتحال کو بگڑنے سے بچانے کی کوشش کی جس میں وہ رواں سال کامیاب بھی ہوئے اور ملک کے کسی بھی حصے میں دہشتگردی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ان ساری کوششوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب راولپنڈی میں چند شر پسندوں نے دو گروہوں کو ایک دوسرے کیخلاف مشتعل کردیا، یوم عاشور پر راولپنڈی پولیس نے دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر سخت ترین سکیورٹی انتظامات کر رکھے تھے۔ ہیلی کاپٹروں سے جلوس کی فضائی نگرانی کی جارہی تھی۔کرنل مقبول امام بارگاہ سے بر آمد ہونے والا جلوس فوارہ چوک پہنچا تو دن اڑھائی بجے کے قریب اچانک بعض نامعلوم افراد کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے ساتھ اندھا دھند فائرنگ شروع ہوگئی۔ پتھرائو اور پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے استعمال کے ساتھ علاقے میں شدید بھگدڑ مچ گئی۔ پولیس سے کئی افراد نے سرکاری بندوقیں چھین لیں اور ان سے فائرنگ شروع کردی۔ مشتعل افراد نے راجہ بازار میں کپڑے کے مرکز مدینہ مارکیٹ میں آگ لگا دی جوقریبی مسجد اور مدرسے تک پھیل گئی۔ حالات کنٹرول کرنے کیلئے انتظامیہ نے شروع میں ہی فوج کی مدد طلب کر لی۔ صورتحال میں بہتری آنے پر جونہی فوج کی واپسی گئی تودوبارہ ہنگامے پھوٹ پڑے۔ راولپنڈی کے معروف دارالعلوم تعلیم القرآن کو بھی آگ لگا دی۔ شرپسندوں نے دارالعلوم کی مسجد میں گھس کر پیش امام اور مدرسہ کے بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اندھا دھند فائرنگ کردی۔حالات بے قابو ہوتے دیکھ کر حکومت پنجاب نے کمشنر کی درخواست پر فوری کرفیو نافذ کر دیا۔ کرفیو کے نفاذکے بعد شہرفوج اوررینجرز کے حوالے کردیا گیا۔
 حکومت پنجاب کو یہ کریڈٹ توضرور جاتا ہے کہ اس نے فرقہ ورایت کی پھیلتی ہوئی آ گ کو ایک حد سے بڑھنے نہیں دیاتاہم راولپنڈی انتظامیہ کی اس جلوس کے انتظامات کے حوالے سے نااہلی ثابت ہوگئی ہے۔جس کو ایجنسیوں ممکنہ گڑ بڑ سے متنبہ کردایا تھا۔ سانحہ راولپنڈی کا ملتان، چشتیاں اور بہاولنگر میں ردعمل دیکھنے میں ضرور آیا لیکن یہ زیادہ شدید نہیں تھا۔ مذہبی قائدین نے تدبر، دانش اور حب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے حالات کو بگڑنے سے بچانے میں احسن کردار اد ا کیا۔ یہی حالات کا تقاضا ہے۔ جماعت اہل سنت والجماعت نے جمعہ سے ملک بھر میں مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ بہتر ہے کہ حکومت جمعہ تک مجرموں کو کٹہرے میں لا کھڑا کرے تاکہ کسی کے پاس بھی احتجاج کا جواز نہ رہے۔
ایک رپورٹ کیمطابق جلوس کی حفاظت کیلئے پانچ ہزار پولیس اہلکار تعینات تھے۔ اتنی سیکورٹی کے باوجود بھی شر پسندوں کو اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کا موقع کیسے مل گیا؟ پولیس کس مرض کیلئے تعینات کی گئی تھی؟ جلوس پر پہلا پتھر کیسے گر گیا اگر جلوس میں سے کسی نے فائرنگ کی تو پولیس کی موجودگی میں ایسا کیونکر ممکن ہو ا؟ جو کچھ فوج نے آ کر کیا وہ پولیس کرنے سے کیوں بے بس رہی؟اسکی تربیت میں کمی ہے یا محض نفری پوری کرنے کیلئے دہاڑی داروں کو وریاں پہنا دی گئیں اور انکو بندوقیں پکڑا دی گئیں؟؟؟ مختلف شہروں کی انتظامیہ کی طرف کہا جا رہا ہے کہ سیکورٹی کے لئے فوج جہاں تعینات کی گئی تھی اس کو واپس نہ بلایا جائے۔ فوج کو آ پ کہاں کہاں استعمال کرینگے؟ اس کا اصل فرض تو ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت ہے ۔ اس کو اب فاٹا میں ڈیڑھ لاکھ کی تعداد میں تعینات کیا گیا ہے۔ سیلاب اور دیگر آفات کی صورت میں اس کو بلا لیا جاتا ہے۔ عاشور پر کئی شہروں میں اس کو تعینات کیا گیا ہے۔ سول اداروں کی فوج کب تک معاونت کرتی رہے گی ۔کیا فوج نے بھی کبھی ان اداروں کو اپنی مدد کے لئے بلایا ہے؟حکومتیں پولیس کو اپنے قدموں پر کھڑا کرنے کوشش کریں تاکہ اسے فوج کی محتاجی نہ رہے۔
پولیس کی کوتاہی یا نا اہلی اپنی جگہ اسکا محکمانہ احتساب تو ہوگا ہی لیکن جن لوگوں نے شرارت کی اور جواس میں شامل ہوتے گئے اور معاملہ دس بارہ انسانوں کی جانوں کے ضیاع تک جا پہنچا، سو سے زائد زخموں سے چور ہوئے۔ اسکے ذمہ دار انسانیت کے دشمن ہیں ان سے کوئی رو رعایت نہیں ہونی چاہئے۔ سانحہ راولپنڈی پیش آتے ہیں وزیر قانون رانا ثناء اللہ، آئی جی پنجاب خان بیگ اور دیگر حکام فوری طور پر راولپنڈی پہنچ گئے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف متعلقہ حکام سے رابطے میں رہے۔ میاں نواز شریف نے کولمبو سے ہدایات جاری کیں۔ حکومت کی طرف سے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسے روایتی عزم بن کر نہیں رہ جانا چاہیئے۔ مجرموں کاتعلق جس بھی طبقے اور حلقے سے ہو ان میں سے ایک ایک کو ٹی وی فوٹوز کی مدد سے ڈھونڈ نکال کر عبرت کا نشان بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔ آخری مجرم کو زیر حراست لانے کیلئے کرفیو میں توسیع کرنا پڑے تو کر دی جائے۔ حکومت معاملے کی نزاکت کا احسا س کرے ۔ کوئی نرمی دکھائی گئی یا مصلحت سے کام لیا گیا تو حالات کو بے قابو ہونے سے بچانا ممکن نہیں رہے گا۔