میاں نوازشریف کا قصور کیا ہے؟

میاں نوازشریف کا قصور کیا ہے؟

وزیراعظم میاں نوازشریف پر جو اتنے وار ہو رہے ہیں تو اس میں قصور خود ان کی سیاسی دفاعی لائن کا ہے جو بھاری مینڈیٹ کے باوجود عملی طور پر سیاسی طور پر نہ حکومت کا دفاع کرتی ہے اور نہ اس کے پاس کوئی درست حکمت عملی ہے۔
ہم الزام ان کو دیتے تھے  قصور اپنا نکل آیا
اپوزیشن تھوڑا سا فعال ہوتی ہے تو وزیروں کی فوج ظفر موج بدحواس ہو کر خود اپوزیشن کے خلاف طویل اور اشتعال انگیز بیان دے کر اپوزیشن کی اہمیت کو اور زیادہ اہم بنا دیتی ہے وزیر اطلاعات پرویز رشید‘ سعد رفیق اور کبھی خواجہ آصف کمال کی باتیں کرتے ہیں۔ حکومت کا کام ہے کہ وہ جلتی آگ کو پانی ڈال کر ٹھنڈا کرے یہ نہیں کہ سلگتی آگ کو شعلوں میں تبدیل کر دے۔ حکومت کی سیاست کا انداز اور ہوتا ہے اور اپوزیشن کا اور … حکومت کے بیانات پرمغز اور ٹھنڈے ہوتے ہیں اور اپوزیشن کے بیانات کا لہجہ اور ہوتا ہے۔ حکومت کا کام ہے کہ وہ سیاسی درجہ حرارت کسی صورت بڑھنے نہ دے۔انتہائی مثبت پہلوئوں کے باوجود حکومت ذرا سی بات پر بوکھلا جاتی ہے کیا یہ مثبت پہلو نہیں ہے کہ طاہر القادری اور عمران خان کسی کوشش اور مداخلت کے بغیرکسی صورت ایک نہیں ہو سکتے اور نہ متحد ہونے کو تیار ہیں۔ طاہر القادری محض شعلہ بیانی کر سکتے ہیں کوئی انقلاب لانا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔
نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے
یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں
پھر کیا ضرورت ہے کہ وفاقی حکومت کے دو تین وزراء طاہر القادری کا نام سنتے ہی بے چین ہونے لگتے ہیں ایک شخص ‘ اس کی تنہا آواز ہے بول رہا ہے اسے بولنے دیں۔ ماڈل ٹائون کا سانحہ برپا کرنے کی ضرورت کیا تھی؟ طاہر القادری کتنے ہی مظاہرے کر لیں نہ انقلاب آئے گا اور نہ سیاسی مضبوط حکومت کو گرانے کی ان میں صلاحیت ہے۔
یہی صورتحال عمران خان کی ہے وہ کتنی ہی بار اسلام آباد میں دھرنے دیں۔ کچھ نہیں ہو گا۔ مگر جلسہ جلوس ان کا جمہوری حق ہے… حکومت کو صبر اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ عمران خان بہت مضطرب اور بے چین ہیں… ان کی پریشانی درست اور چند برس نکل گئے تو وہ اقتدار سے دور ہو جائیں گے۔ انہیں ڈر ہے کہ ان کا حشر اور اصغر خان جیسا نہ ہو۔ نوے کی دہائی کی بات کی جاتی ہے… اس وقت عالمی شہرت یافتہ بے نظیر شہید مقابل تھیں… ذوالفقار علی بھٹو جیسے عظیم رہنما کو پھانسی ہو چکی تھی… خوش قسمتی سے آج کی پیپلزپارٹی میاں نوازشریف کے حق میں ہے زرداری صاحب جو پیپلزپارٹی کے رہبر ہیں قومی سیاست سے دستبردار ہو چکے ہیں ان کی شخصیت میں وہ کشش نہیں جو بھٹو صاحب اور بے نظیر میں تھی… ان کی ہنر مندی البتہ قابل تحسین ہے۔ جناب بلاول کو اب تک ’’لانچ،، نہیں کیا جا سکا۔ پنجاب میں پیپلزپارٹی کا دھڑن تختہ ہو چکا ہے اب بلاول وہاں جا کر کیا کریں گے؟حیران کن بات ہے کہ ایسے آئیڈیل حالات میں میاں نوازشریف کی حکومت ذرا سی بات پر پریشان ہو جاتی ہے۔ شیخ رشید احمد اکیلے اور تنہا ہیں۔ پاکستان میں اینکرز کی ذہنی مفلسی ملاحظہ کیجئے کہ بے چارے شیخ رشید احمد کو جو اپنی جماعت کے تنہا لیڈر ہیں انہیں ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں یہ اینکروں کی نفسیاتی اور ذہنی بیماری کا کھلا ثبوت ہے۔ ہماری عاجزانہ رائے میں میاں نوازشریف کی حکومت مضبوط اور مستحکم ہے… طاہر القادری بار بار آزمائے جا چکے ہیں
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرہ خون نہ نکلا
میاں نوازشریف کا قصور کیا ہے؟ ایک منتخب وزیراعظم ہونا کیا سندھ میں سکون ہے… پیپلزپارٹی خود کو محدود کرنے میں خوش ہے… ایسی شخصیت کہاں سے لائیں جو سیاست میں بھونچال پیدا کر سکے یہ تو میاں صاحب کی مہربانی ہے کہ وہ سندھ کے پی کے میں کشمیر سمیت حکومتوں کی تبدیلی کے حامی نہیں ہیں… ورنہ پلک جھپکنے کی دیر ہے… مسلم لیگ نواز کی حکومت ہر صوبے میں قائم ہو سکتی ہے ۔آصف زرداری اپنے تدبر اور حکمت سے پانچ برس مکمل کر سکتے ہیں تو میاں نوازشریف اپنی پرکشش فعال اور ذہین صلاحیتوں اور شخصی سے مٹی کا ڈھیر نہیں ہیں جو ’’سونامی،، اسے بہا کر لے جائے… میاں صاحب نے بہت دکھ اور صعوبتیں بھی برداشت کی ہیں میاں صاحب کی ذہانت ‘ صبر اور برداشت عمران کے مقابل بہت بڑی سیاسی قوت ہے۔ میاں صاحب مسکرا کر چیلنج دیتے ہیں۔
ادھر آستگر ہنر آزمائیں
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں