خوشیوں کا باہمی اہتمام

کالم نگار  |  سعید آسی

دونوں خوش ہیں کہ انکی منشاء کے مطابق انکی خوشیوں کا اہتمام ہو گیا ہے۔ ان کی من کی مراد پوری ہوئی ہے۔ بڑے بھائی کو عدلیہ کی آزادی اور انصاف کے بول بالا کے ثمرات براہ راست مل گئے ہیں‘ طیارہ سازش کیس میں انکی عمر قید اور نااہلی کی دونوں سزائیں ختم ہو گئی ہیں‘ انکی منتخب جمہوری حکومت بساط الٹانے والی جرنیلی آمریت کی بدنیتی اور بدطینتی ثابت ہو گئی ہے۔ اب وہ ملک کے معزز شہری کی حیثیت سے آزادانہ گھوم پھر ہی نہیں سکتے‘ انتخابات میں حصہ لے کر اپنی چھینی گئی وزارت عظمٰی کو بھی آبرومندی کے ساتھ حاصل کر سکتے ہیں اور بدطینت فوجی آمر کیخلاف انکی زندگی میں ہی آئین کی دفعہ 6 کے تحت غداری کا مقدمہ بھی دائر کر سکتے ہیں۔ عدلیہ کی آزادی کے ثمرات اب ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 13 رکنی وسیع تر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے جو جرنیلی آمریت کے پی سی او اس کے تحت ایمرجنسی کی شکل میں مارشل لاء کے نفاذ‘ آئینی عدلیہ کے خاتمہ اور پی سی او ججوں کے تقرر کے تمام جرنیلی معاملات کا جائزہ لے کر انصاف کے تقاضوں کے مطابق اپنا فیصلہ صادر کریگا تو 12 اکتوبر 1999ء کو فوجی شب خون میں منتخب جمہوری حکومت کو قتل کرنے اور ریٹائر کئے گئے جرنیل کی ہوس اقتدار کی تکمیل کرنے کے اقدام کیخلاف آئین کی دفعہ 6 کے تحت کارروائی کیلئے دائر ہونے والی کسی درخواست پر فیصلہ صادر کرنے کی ذمہ داری بھی اسی بینچ پر عائد ہو گی۔ بہتر ہے کہ عدالت عظمٰی3 نومبر 2007ء کے ماورائے آئین جرنیلی اقدام کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ اب 12 اکتوبر 1999ء کے شب خون اور ماورائے آئین اقدام کا بھی اسی وقت جائزہ لے لے تاکہ ہماری سیاست میں عرصہ دراز سے جاری یہ بحث ختم ہو سکے کہ آئین کی دفعہ 6 محض نمائشی ہے یا اسے بروئے کار بھی لایا جا سکتا ہے۔
چھوٹے بھائی کی بے پایاں خوشیوں کا یوں اہتمام ہوا ہے کہ انہیں ناراض بڑے بھائی نے پھر سے گلے لگا کر ان کیلئے فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ہی قبول نہیں کیا‘ شدت پسندی کے خاتمہ کے نام پر اپنے ہی شہریوں پر فوجی چڑھائی کے حکومتی اقدام کی ایک باقاعدہ تحریری مشترکہ اعلامیہ کے تحت مکمل حمایت بھی کردی ہے چنانچہ اب چھوٹے بھائی اپنے عہد صدارت میں بندے مار مہم کو پورے اعتماد کے ساتھ مزید آگے بڑھا کر اپنے پیشرو جرنیلی آمر مشرف سے بھی زیادہ امریکی خوشنودی کے مستحق ہو سکتے ہیں اور ظاہر ہے اس کردار میں امریکی آقائوں کی جانب سے ملنے والا ان کا انعام بھی جرنیلی آمر سے بڑا ہو گا کیونکہ ہلیری کلنٹن کے بقول امریکی باشندے اپنی حکومت سے پوچھ رہے ہیں کہ اگر اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے دیگر عہدیداران پاکستان میں موجود ہیں تو پھر ہماری افواج افغانستان میں کیوں موجود ہیں؟ ہلیری کی اس پیشگی اطلاع پر کہ امریکی افواج اپنا افغانستان والا کردار اب پاکستان منتقل کر سکتی ہیں۔ یقیناً چھوٹے بھائی کی حکمرانی اب مزید ’’شانت‘‘ ہو جائیگی کہ بڑے بھائی نے بھی امریکی مفادات کی خاطر اپنے شہریوں کا خون بہانے اور اپنے ہنستے بستے ملک کا تورا بورا بنانے کی مکمل اجازت بلکہ کھلی چھوٹ دے دی ہے۔
چھوٹے بڑے دونوں بھائیوں کی خوشیوں کا اہتمام ہوا ہے اور انہیں طمانیت کے تحفے ملے ہیں تو لاانتہاء دکھوں میں پرورش پانے والے‘ سسک سسک کر زندگی بسر کرنے والے‘ نہ جینے‘ نہ مرنے والے‘ زندہ درگور مجبور انسانوں کو بھی امید بندھ گئی ہے کہ شاید اب انہیں بھی ناسور بنے دکھوں سے نجات دلانے کیلئے مہنگائی‘ غربت‘ بے روزگاری‘ اور وسائل سے محرومی کے خاتمہ کا تحفہ مل جائے۔ چھوٹے بڑے دونوں بھائی جاتی عمرہ (رائے ونڈ) کے پرتکلف ماحول میں 17ویں آئینی ترمیم سمیت آئین میں شامل کی گئی تمام غیرجمہوری شقوں کے خاتمہ پر بھی پھر سے متفق ہوئے ہیں مگر باہمی اتفاق رائے کا اظہار کرنے والے گیارہ نکاتی مشترکہ اعلامیہ میں کوئی ایک نکتہ بھی ایسا نظر نہیں آرہا جس میں مجبور و مقہور وسیلہ انسانوں کو غربت سے نجات دلا کر آبرو مندانہ زندگی بسر کرنے اور مہنگائی کے عفریت کا منہ بند کرنے کیلئے پٹرولیم مصنوعات کے شتربے مہار بڑھائے گئے نرخ واپس لینے اور آئندہ کیلئے عالمی منڈی کے نرخوں کی مناسبت سے ڈیزل‘ پٹرول‘ تیل کے نرخ مقرر کرنے کی ضمانت دی گئی ہو۔ خلق خدا جو خط غربت سے نیچے ہی نیچے دھنستی چلی جا رہی ہے‘ بدستور ٹھوکروں پر پڑی ہے۔ آپ بے شک وقتی خوشیوں میں جھومتے رہیں‘ آپ سکون نہیں پا سکیں گے جب تک آپ خلق خدا کی حقیقی خوشیوں کا بھی اہتمام نہیں کرلیں گے۔