خدا کی مار پر پہرہ نہیں ہے!

کالم نگار  |  خالد احمد

امریکی محکمہ دفاع کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق عراق اور افغانستان میں متعین امریکی دستوں میں خودکشیوں کی شرح رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے! سال 2009ء میں اب تک خودکشی کے 88 معاملات سامنے آئے اور تحقیقات کے دوران ان میں سے 54 معاملات کی تصدیق ہو چکی ہے‘ باقی معاملات پر تفتیش جاری ہے!
امریکی فوجی دستوں میں خودکشی کے رجحانات پر قابو پانے کے لئے قائم کی گئی ٹاسک فورس کے سربراہ بریگیڈئر جنرل کولین سیک گائر کے مطابق ان امریکی فوجیوں کی عمریں 18 سال سے 27 سال کے درمیان ہیں!
یاد رہے کہ سال 2007ء کے دوران 115 امریکی فوجی خودکشی کے مرتکب ہوئے جبکہ سال 2008ء میں یہ تعداد 128 ہو گئی اور 2009ء میں اب تک 88 امریکی فوجی جوان یہ ’مرحلہ‘ سر کر چکے ہیں! امریکی فوجی حکام امریکی دستوں کی ذہنی صحت کے لئے خصوصی اقدامات کر رہے ہیں تاکہ ان میں اس رجحان پر قابو پایا جا سکے! حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ گذشتہ آٹھ سال کے دوران محاذ جنگ پر خودکشی کرنے والے افراد میں خاتون فوجیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے!
جنگ کوئی اچھی جیز نہیں قاتل مقتولین کی لاشیں دیکھ کر احساس جرم میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور شراب کے ڈرم کے ڈرم لنڈھا کر بھی اپنا احساس جرم نہیں دھو پاتے! خاص طور پر جب انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی آزادی کے لئے نہیں بلکہ کسی دوسرے ملک کی آزادی غصب کرنے کے لئے جانیں لے رہے ہیں! خاص طور پر معصوم شہریوں کی لاشیں انہیں مضطرب کر دیتی ہیں اور وہ دل کا چین غارت کر بیٹھتے ہیں!
امریکی فوجی حکام کی قائم کردہ ’ٹاسک فورس‘ کے بارے میں تفصیلات جان کر ہمیں حیرانی ہوئی کہ ہمارے ملک میں اب تک ان گنت بوڑھے‘ بوڑھیاں‘ جوان مرد اور عورتیں‘ لڑکے اور لڑکیاں‘ بچے اور بچیاں اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں مگر پاکستانی عوام میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لئے ہم ابھی تک کوئی ’ٹاسک فورس‘ بھی تشکیل نہیں دے سکے! یہ ہماری بے حسی اور بے کسی کا ایک اشاریہ ہے! ایک Indicator ہے!
پاکستانی عوام‘ جس ظلم اور بربریت کا شکار ہیں‘ اس ظلم اور بربریت سے وہ آشنا ہی نہیں تھے! روٹی‘ کپڑا اور مکان ان سے آج اتنا دور ہو چکا ہے کہ وہ مر کر عزت سے ’شوکت ترین‘ حالات بد سے بدترین کا رخ اختیار کئے اور اپنی رفتار بڑھاتے چلے جا رہے ہیں!
امریکہ‘ روس اور چین آج بھی اپنے عوام کے لئے کھانے پینے کی اشیاء قیمتوں کی ادنیٰ ترین سطح پر رکھ رہے ہیں‘ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ حکومت کرنے کے لئے رعایا کی ضرورت ہوتی ہے اور ’قبرستانوں‘ اور ’بستیوں‘ پر حکومت کرنا مختلف کام ہیں! زندہ لوگ‘ زندہ لوگوں پر حکومت کرتے ہیں جبکہ مردوں پر حکومت کے لئے ’مردہ ضمیروں‘ کی ضرورت بھی باقی نہیں رہ جاتی کہ وہ ’سچ کے گھر‘ میں رہائش اختیار کر چکے ہوتے ہیں!
’مہنگائی‘ اور ’بے روزگاری‘ کے پتھریلے پائوں کے درمیان ’ریزہ ریزہ‘ ہوتے پاکستانی عوام‘ پاکستانی بچے اور بچیاں کس نوع کا مستقبل تعمیر کر رہے ہیں؟ کسی کو اس کی فکر نہیں! جناب آصف علی زرداری جناب نواز شریف کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہوتے وقت سوچ رہے ہوں گے کہ جس ملک میں حکومت سے باہر بیٹھے لوگ اتنے خوشحال ہیں‘ اس ملک میں سرکاری پارٹی کے کارکن کیا کیا مزے نہ لوٹ رہے ہوں گے؟ اب انہیں کوئی کیا بتلائے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن کیا کہتے ہیں؟ کیونکہ اب تو ایس ایم ایس بھی ان کی تعریف میں آنا شروع ہو گئے ہیں
’جئے زرداری‘ ’سمجھ آئی جے!‘
’جیو! زرداری کے ساتھ جیو! لمبی لمبی چھوڑ کر جیو!‘
’جیوے جیوے! زرداری جیوے!‘ ’سمجھ یار! سمجھو! سوچ سمجھ کر جیو!‘
اللہ تبارک و تعالیٰ کے حضور دعا ہے کہ وہ پاکستانی عوام کے ہنستے مسکراتے رہنے کی عادت سلامت رکھے! کہ مسکراہٹ‘ دل ٹھنڈا‘ آنکھیں چمکیلی‘ چہرہ روشن اور دماغ پرسکون رکھنے کا Indicator ہے! ورنہ بقول! جناب شفیق سلیمی
کوئی دیوار پہرے پر نہیں ہے!
کسی دیوار پر پہرہ نہیں ہے!
کسی بھی وقت پڑ سکتی ہے لوگو!
خدا کی مار پر‘ پہرہ نہیں ہے!