جائیداد کے فراڈ اور محکمہ مال

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

یوں تو ہمارے معاشرے میں ظلم اور ناانصافی کی داستانیں چہارسو پھیلی ہوئی ہیں اور ہر ظلم نوعیت اور شدت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے۔ سعادت مند بیٹے اور بیٹیاں جہاں اپنے والدین کی بے پناہ خدمت کرتی ہیں وہاں ایسی ناخلف اور نافرمان اولاد کی بھی کمی نہیں جو زندگی میں بھی اپنے والدین کی خدمت سے محروم رہتی ہے اور مرنے کے بعد بھی دنیاوی مفادات کے حصول کیلئے وہ اپنے والدین کی بے حرمتی کرنے سے گریز نہیں کرتی مجھے ایک مقدمہ کے سلسلہ میں محکمہ مال کا ریکارڈ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ سمبڑیال کی ایک خاتون زیتون بی بی 3 دسمبر 1996ء کو انتقال کر گئی۔ زیتون بی بی کے بیٹے نے اپنی بہنوں کو والدہ کی وراثت سے محروم کرنے کیلئے ایک انوکھا راستہ اختیار کیا کہ اپنی ماں کی وفات کے بعد کسی دوسری خاتون کو ریونیو افسر کے سامنے پیش کرکے مرحومہ والدہ کی زمین اپنے نام منتقل کر والی۔ ایک خاتون جو وفات پا گئی اور اسے دفن بھی کر دیا گیا اسے دوبارہ کیسے زندہ کر لیا گیا کہ وہ محکمہ مال کے کاغذات پر اپنے انگوٹھے کا نشان بھی ثبت کر دیتی ہے اور اپنے ایک بیٹے کو اپنی زمین بھی منتقل کر دیتی ہے۔ ظاہر ہے کہ دھوکہ‘ فریب اور فراڈ کی یہ ساری کارروائی اس بدبخت شخص نے کی جس نے اپنی بہنوں کو جائیداد سے محروم کرنے کیلئے جعل سازی سے کسی دوسری خاتون کو اپنی ’’ماں‘‘ ظاہر کرکے محکمہ مال کے ریکارڈ میں زمین اپنے نام منتقل کروالی۔ یہ فراڈ مذکورہ بالا شخص نے محکمہ مال کے اہلکاروں سے مل کر کیا یا خود مال سے بھی دھوکہ کیا اس کا فیصلہ تو اب ہو جائے گا لیکن میں اس سوچ میں گم ہوں کہ ہمارے معاشرے میں کیا ایسے افراد بھی موجو دہیں جو زمین کے ایک ٹکڑے کیلئے اپنی ماں تبدیل کر لیتے یا اپنا باپ تبدیل کر لیتے ہیں۔ اپنی حقیقی ماں کی وفات کے بعد یا اپنے حقیقی باپ کی موت کے بعد ان کی جگہ کسی دوسرے کو اپنی ماں یا اپنے باپ قرار دیکر ریونیو افسر کے روبرو پیش کر دینا اور غرض صرف دوسروں کو حقوق سے محروم کر دینا ہو تو یہ کتنا بڑا فراڈ ہے اور کتنا ناپسندیدہ فعل ہے۔ یہ ایک مثال پیش کرنے سے میرا مقصد یہ ہے کہ محکمہ مال کو جائیدادوں کے انتقال کے معاملہ میں حد درجہ محتاط ہونا چاہئے۔ ہماری عدالتوں میں آدھے مقدمات صرف اس وجہ سے ہیں کہ محکمہ مال کے اکثر پٹواری‘ قانون گو اور تحصیلدار اپنے فرائض ایمانداری اور احتیاط سے سرانجام نہیں دیتے۔ معاشرے میں بہت سارے جھگڑے اور فساد بھی اسی وجہ سے ہیں کہ محکمہ مال بدعنوانی اور بددیانتی سے زمین کے ریکارڈ میں تبدیلی لانے میں معمولی خوف بھی محسوس نہیں کرتا لیکن یہی کرپشن آگے جا کر ان گنت مقدمات اور لڑائی جھگڑوں کا باعث بنتی ہے۔ ضلع کچہری میں مقدمات دائر ہونے سے یقیناً بہت سے لوگوں کو روزگار میسر آتا ہے لیکن میں بطور ایڈووکیٹ یہ رائے رکھتا ہوں کہ محکمہ مال کی کرپشن کی کوکھ سے جو مقدمات جنم لیتے ہیں ان سے ہزار بار پناہ مانگنی چاہئے۔ وہ مقدمات اور فسادات جو پورے معاشرے کے سکون کو برباد کر دیں وہ اگر ہمارا ذریعہ روزگار نہ بنیں تو ہمیں اللہ تعالیٰ دیگر ذرائع سے بھی بے پناہ رزق سے نواز سکتا ہے۔ میری محکمہ مال سے استدعا ہے کہ وہ بھی عدلیہ کی طرح اپنے اندر تبدیلی لائیں اور خلق خدا کو انصاف سے محروم کرنے کے بجائے ان کے دکھوں کو کم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں اور ایسے افراد کو سخت سزا دلوائی جائے جو دوسروں کے حقوق غصب کرنے کیلئے اپنے والدین کے تقدس کو پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔