اصولاً اقرار‘ عملاً انکار

صحافی  |  عطاء الرحمن

یہ ملاقات نتیجہ خیز نہ ہونے کی وجہ سے کامیاب نہیں قرار دی جا سکتی۔ اسے نشتند و گفتند و برخاستند کہہ کر یکسر مسترد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ برف ضرور پگھلی ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان آٹھ ما ہ کی خاموشی ٹوٹی ہے۔ سرد مہری میں کمی آئی ہے۔ اس سے زیادہ اگر کچھ ہوا ہے تو گیارہ نکاتی مشترکہ اعلامیے سے اس کی نشاندہی نہیں ہوتی۔ جن باتوں پر اتفاق رائے ہوا ہے ان پر اصولی طور پر پہلے بھی اختلاف نہ تھا۔ سترہویں آئینی ترمیم جو ہمارے متفق علیہ اسلامی و جمہوری آئین کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے اس کے خاتمے کیلئے کوئی نظام الاوقات طے نہیں ہوا۔ جو نواز شریف کی خواہش اور کوشش تھی لیکن زرداری صاحب اس پر آمادہ نظر نہیں آئے۔ جناب نواز شریف نے اس کے بغیر وفاقی حکومت میں اپنی جماعت کی شرکت پر اتفاق نہیں کیا۔ جس پر پیپلز پارٹی کے قائدین کا اس پر اصرار تھا۔ روایتی پرنالہ وہیں کا وہیں ہے۔
اختلاف رائے کو جمہوریت کی خوبصورتی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میں شک بھی نہیں۔ لیکن اگر اختلاف رولز آف دی گیم پر ہی تو پھر میچ نہیں کھیلا جا سکتا۔ آج کے پاکستان کی صورت یہ ہے وہ ملک کی دو سب بڑی‘ منتخب اور ملک گیر جماعتوں میں رولز آف دی گیم پر اختلاف نہیں۔ لیکن انہیں کتاب آئین میں داخل نہیں کیا جا رہا۔ پیپلز پارٹی اس کے لئے ضروری ترجیحات کو کم از کم طے شدہ مدت کے اندر اپنانے کیلئے تیار نہیں۔ یوں کہئے کہ اصولاً اقرار ہے۔ عملاً انکار۔ سبب یہ معلوم ہوتا ہے کہ جناب زرداری بطور صدر اپنے اختیارات میں اس حد تک کمی نہیں لانا چاہتے کہ ملکی اقتدار کے سب سے بڑے ایوان میں بے دست و پا بن کر رہ جائیں اور سارے اختیارات ان کے اپنے نامزد کردہ وزیراعظم کے ہاتھوں میں منتقل ہو جائیں۔ اگرچہ پارلیمانی جمہوری نظام اسی کا متقاضی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے انہی بنیادوں پر 1973ء کے متفق علیہ آئین کی بنیادیں استوار کیں اور نافذ کیا۔ بے نظیر بھٹو نے اسی خاطر 2 جولائی 2006ء کو نواز شریف کے ساتھ مل کر میثاق جمہوریت پر دستخط کئے۔ یہاں تک کہ پیپلز پارٹی نے 2008ء کے انتخابات میں بھی اس منشور پر حصہ لیا کہ برسراقتدار آتے ہی آئینی مملکت کو سترہویں ترمیم سے پاک کرکے میثاق جمہوریت پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ لیکن یہ منشور تو مرحومہ بے نظیر بھٹو کی ہدایات اور نگرانی میں تیار کیا گیا۔ زرداری صاحب کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا۔ وہ اپنے آپ کو اس کے پابند کیوں سمجھیں۔
اخبارات میں ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی خبروں میں بتایا گیا ہے کہ رائیونڈ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران عذر پیش کیا گیا کہ ’’اے این پی‘‘ سترہویں ترمیم کے خاتمے پر اس وقت تک آمادہ نہیں جب تک صوبہ سرحد کا نام بدل کو پختونخواہ نہیں رکھ دیا جاتا۔ اور ’ایم کیو ایم‘ اس لئے ساتھ دینے کو تیار نہیں کہ اس کی شرائط کے مطابق صوبائی خود مختاری کا بل نہیں لایا جا رہا۔ حیرت ہے کہ ’’اے این پی‘‘ کے قائدین نے پختونخواہ کا سوال اس وقت نہیں اٹھایا جب خان عبدالولی خان مرحوم نے 1973ء کے آئین پر دستخط کئے تھے۔ تب عبدالغفار خاں بھی زندہ تھے۔ لیکن پارلیمانی جمہوری آئین کے نفاذ کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی گئی۔ اب یہ شرط کیوں لگائی جا رہی ہے۔ ایم کیو ایم کا عالم یہ ہے اس نے جنرل مشرف کی آمریت کا غیر مشروط ساتھ دیا۔ اس کی اتحادی بن کر صوبہ سندھ پر حکومت بھی کی۔ جب سترہویں ترمیم منظور ہو رہی تھی تب ایسا کوئی مطالبہ اراکین پارلیمنٹ کے سامنے نہیں رکھا۔ یوں آمریت کو جس نے رہی سہی صوبائی خود مختاری کو کچل کر رکھ دیا تھا تقویت نفاذ کا وقت آیا ہے تو اس نے ایسی صوبائی خود مختاری کا سوال اٹھایا ہے جو عملاً ناممکن ہے۔ اس کے قریب ضرور ہیں۔ سترہویں آئینی ترمیم کا مطالبہ سیاسی نہیں۔ قومی آئینی اور جمہوری ہے۔ نواز شریف نے جس پامردی کے ساتھ عدلیہ کو بحال کرایا ہے۔ وہ اسی جزم اور عزم کے ساتھ اس جمہوریت دشمن ترمیم کے جلد از جلد خاتمے کے مطالبے پر ڈٹے رہیں کہ آزاد و خود مختار اور جمہوری پاکستان کی بقا کا راز اسی میں ہے۔