اختر شمار کے ساتھ ایک شام اور قاہرہ کی باتیں

کالم نگار  |  محمد مصدق

پنجابی انسٹیٹیوٹ آف آرٹ اینڈ کلچر میں صغریٰ صدف اور عباس نجمی نے اختر شمار کے ساتھ ایک خوبصورت شام کا اہتمام کیا۔ تقریب کی صدارت نشریاتی دنیا کی خوبصورت پروڈیوسر عبیدہ سید نے کی جو آج کل لندن مقیم ہیں۔ اظہار خیال کرنے والوں میں صوفیہ بیدار‘ جمیل پال‘ شفیق احمد خاں اور اجمل نیازی نے اختر شمار کی شخصیت اور نئی کہانیوں کے مجموعے ’’ویلے دی اکھ‘‘ پر اظہار خیال کیا اور کہانیوں کے نئے مجموعے کو پنجابی ادب میں ایک اضافہ قرار دیا۔ شفیق سلیمی‘ افتخار مجاز‘ رخشندہ نوید‘ نیلما ناہید‘ احسن کاظمی‘ باقی احمد پوری‘ رمضان شاہد‘ انیق شاکر‘ مدثر اقبال بٹ‘ سجاد بری‘ جواز جعفری‘ بدر منیر‘ جاوید شیدا‘ راجہ منیر اور نسیم اختر نے خصوصی شرکت کی۔
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں اردو روز بروز مقبولیت حاصل کر رہی ہے اور اس میں اختر شمار جیسے اساتذہ کا ہاتھ ہے اس حوالے سے اختر شمار نے نوائے وقت کو بتایا ’’مختلف ممالک میں اردو کی 14 چیئرز ہیں لیکن اردو کی کتنی بڑی بدنصیبی ہے کہ پاکستان‘ پاکستانی ثقافت اور اردو کو فروغ دینے والی سات چیئرز بیوروکریسی کی مہربانی سے فارغ ہیں۔ بیوروکریسی یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ ان سیٹوں پر صرف اساتذہ جا سکتے ہیں لیکن تمام فنڈز وغیرہ ہونے کے باوجود یہ سیٹیں خالی ہیں۔ قاہرہ میں بھی میری تقرری مصر کی دوسری بڑی یونیورسٹی (قاہرہ یونیورسٹی کے بعد) عین شمس یونیورسٹی میں کی گئی۔ یہاں اردو کی جڑیں پروفیسر امجد حسین نے مضبوط کی تھیں اور بہت معیاری سلیبس ترتیب دیا تھا۔ 55 لڑکے لڑکیاں اردو پڑھ رہے ہیں۔ پی ایچ ڈی کے طلبہ بھی ہیں۔ اس ریسرچ کے نتیجہ میں اردو ادب کا ایک بڑا حصہ عربی زبان میں منتقل ہو رہا ہے جس سے اردو اور پاکستان کا نام مزید روشن ہو رہا ہے۔
ایک بات کا گلہ ہے کہ اردو چیئرز کے ذریعہ سے پاکستان کا مثبت امیج پیدا کرنا بہت آسان ہے اس لئے اگر حکومت تھوڑی سی توجہ کرے اور مختلف تقریبات خصوصاً یوم اقبال یوم قائداعظم وغیرہ کے لئے تھوڑا سا فنڈ فراہم کرے تو پاکستانی ثقافت کی بہترین تشہیر ہو سکتی ہے۔ مصری طلبہ ج کو گ پڑھتے ہیں چنانچہ غالب کا ایک مصرع
جامِ جم سے میرا جامِ سفال اچھا ہے
کو گامِ گم سے میرا گامِ سفال اچھا ہے پڑھتے ہیں لیکن محنت کرنے سے ان کا اردو کا تلفظ بہتر ہو رہا ہے۔