کیا پاکستان میں رہتے ہوئے ڈر نہیں آتا

کالم نگار  |  ڈاکٹر تنویر حسین
کیا پاکستان میں رہتے ہوئے ڈر نہیں آتا

ایک ملاح سے کسی نے پوچھا کہ تمہارے ابا جان کا انتقال کیسے ہوا تھا تو اس نے جواب دیا کہ کشتی الٹ گئی تھی اور ابا جان دریا میں ڈوب کر انتقال فرما گئے۔ پوچھنے والے نے پھر پوچھا کہ آپ کے دادا جان کا انتقال کیسے ہوا؟ تو ملاح نے کہا کہ ان کا انتقال بھی دریا میں ڈوبنے سے ہوا تھا تو اس شخص نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ’’آپ کو پانی سے خوف نہیں آتا‘‘۔ ملاح نے اس شخص کی باتوں کا جواب دینے کے بعد کہا کہ آپ کے ابا جان کا انتقال کہاں ہوا تھا؟ اس شخص نے کہا کہ چند دن بخار میں مبتلا رہ کر گھر میں انتقال کر گئے۔ ملاح نے پھر سوال کیا کہ ’’آپ کے دادا جان کا انتقال کہاں ہوا تھا‘‘؟ تو اس شخص نے جواباً کہا۔ ’’گھر میں‘‘ ملاح نے اس شخص کو حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’آپ کو گھر سے ڈر نہیں لگتا‘‘۔ ہم پاکستان میں رہنے والوں سے اگر کوئی شخص یہ سوال کرے کہ آپ کے ہاں دہشت گردی ہوتی ہے، فرقہ واریت ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے، بھتہ خوری، ڈکیتیوں اور قتل و غارت کی وارداتیں ہوتی ہیں، آپ کو پاکستان میں رہتے ہوئے ڈر نہیں آتا۔ ابھی میں یہ سطور تحریر کر ہی رہا تھا کہ میرے دوست کو اس کی بیوی نے ٹیلی فون کیا۔ آپ اس وقت کہاں ہیں؟ ریلوے ہیڈ کوارٹر (سٹیشن) کے سامنے پولیس لائن میں دھماکا ہو گیا ہے‘‘۔ ابھی ہم دھماکے کا افسوس کر ہی رہے تھے کہ میرے گھر سے بھی ٹیلی فون آگیا۔ گھر والوں نے بتایا کہ آپ اس وقت کہاں ہیں؟ پہلے صرف دھماکے کا افسوس تھا۔ اب ہلاکتوں کی خبر نے مزید افسردہ کر دیا۔
سانحۂ پشاور کے بعد سب سکول کالجز بند کر دیئے گئے۔ سب تعلیمی اداروں کی دیواریں اونچی کرا دی گئیں اور ان پر خار دار تاریں لگا دی گئیں تعلیمی اداروں میں آنے جانے کے اوقات مقرر کر دیئے گئے۔ تعلیمی اداروں میں کنٹرول روم بھی قائم کر دیئے گئے۔ اساتذۂ کرام اور دیگر عملے کی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر ادارے کے نام پتے والے سٹکرز لگانے بھی انتہائی ضروری قرار پائے۔ آرمی سکولوں کے باہر فوجی جوان اور پٹرولنگ کرتی فوجی گاڑیاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ جب ہم نے اپنی تمام تر توجہ اپنے تعلیمی اداروں پر مرکوز کر لی تو دہشت گردوں نے مسجدوں، امام بارگاہوں اور پولیس ہیڈ کوارٹروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ایک صاحب نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی سے محفوظ رہنے کے لئے جو پالیسی بھی بناتے ہیں، اس پالیسی کو میڈیا کے ذریعے خبروں کی صورت میں نشر کرواتے ہیں۔ یہ خبریں دہشت گردوں کو گائیڈ لائن مہیا کرتی ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا دہشت گردوں کے پاس اتنا اسلحہ اور جنگی وسائل ہیں، جتنا اسلحہ ہماری پولیس، رینجرز اور فوج کے پاس ہے۔ اب لوگ سوال کرتے ہیں کہ دہشت گردی برطانیہ میں کیوں نہیں ہوتی، دہشت گردی امریکا میں کیوں نہیں ہوتی۔ چین میں کیوں نہیں ہوتی، ایران میں کیوں نہیں ہوتی، سعودی عرب میں کیوں نہیں ہوتی۔ اس طرح بے شمار ممالک کے نام گنوائے جا سکتے ہیں جہاں دہشت گردی کے واقعات رونما نہیں ہوتے۔ کیا ان ممالک کی پولیس، رینجرز اور دیگر سکیورٹی کے آدمی گوشت پوست کے انسان ہوتے ہیں یا کسی سٹیل مل کے بنے ہوتے ہیں؟ کیا دہشت گردی پر قابو پانے والے محکموں کے لوگوں کے دس دس ہاتھ اور دس دس ٹانگیں ہوتی ہیں؟ ہمارے ہاں جی ایچ کیو اور نیول بیس جیسی جگہوں پر حملے ہو چکے ہیں مذہبی جلسے جلوسوں پر بم پھینکے جا چکے ہیں۔ حملوں کا سلسلہ رکتا نظر نہیں آتا۔ اب ہم نے دہشت گردی کے اسباب تلاش کرنے کے حوالے جو ریسرچ ورک کیا ہے، اسے ہم نے اپنی اہم شاہرائوں کے چوکوں پر بڑے بڑے بورڈوں کی صورت میں آویزاں کر دیا ہے تاکہ دہشت گردوں کو ہمارے پلان کے بارے میں اچھی طرح معلوم ہو جائے۔ ہمیں اپنی حکومت اور سکیورٹی ایجنسیوں سے کوئی شکایت نہیں ہے اور ان کی نیت بھی صاف ہے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کی ہے، جس کا ثبوت ہمارے سکیورٹی اہل کار شہادتوں کی صورت میں پیش کر چکے ہیں۔ ہماری شاہرائوں پر دہشت گردی کے حوالے سے جو ہدایات نظر آتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ اس شخص پر نظر رکھیں جو آپ کے محلے میںاجنبی ہو یعنی وہ کسی سے گُھل مل کر نہ رہتا ہو اس دور میں تو ہمیں ہر شخص اجنبی دکھائی دیتا ہے۔ پہلے محلے کے لوگ ایک دوسرے سے ملتے تھے گپ شپ کرتے تھے اور ایک دوسرے کے مسائل سے آگاہ ہو جاتے تھے۔ اب تو کسی کے پاس دس منٹ کا وقت نہیں ہے۔ کل ہم ایک دوست سے ملنے اس کے کالج گئے خدا کا شکر ہے کہ اس دوست نے مجھے پہچان لیا۔ اس دوست نے مجھے کہا کہ آپ ایک منٹ ادھر ٹھہریے۔ میں آتا ہوں اور پھر ہم چائے پینے کنیٹین پر چلتے ہیں۔ میں بیس منٹ تک اس دوست کا انتظار کرتا رہا۔ خدا کا شکر کہ ایک اور دوست آگیا وہ مجھے چائے پلانے کنٹین پر لے گیا۔ چند دن قبل ایک والد محترم اپنے بیٹے کو ہدایات فرما رہے تھے بیٹے آج کل لوڈشیڈنگ نے ہر خاص و عام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ جب تم کمرے میں پڑھ رہے ہوتے ہو تو بجلی چلی جائے تو تم فوراً برآمدے میں چلے جایا کرو۔ جب برآمدے میں اندھیرا ہو جائے تو تم گھر کی چھت پر جا کر پڑھا کرو۔ بیٹے! تمہیں یہ علم ہونا چاہئیے کہ آگے گرمیاں آ رہی ہیں۔ تم کتابیں لے کر کسی باغ میں چلے جایا کرنا اگر گرمی زیادہ ہو تو دو چادریں گھر سے لے جایا کرنا اور باغ کے کسی گوشے میں شب بسری بھی کرلیا کرنا۔ کھانا گھر سے لے جایا کرنا۔ بیٹے! ہم پاکستانی ہیں۔ ہمیں نامساعد حالات اور مشکلات میں اپنا راستہ اسی طرح تلاش کرنا ہے۔ کالا باغ ڈیم بنانے کا ہمارا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ ہمارے ہاں صرف بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں ہے ہمارے ہاں انصاف کی بھی لوڈشیڈنگ ہے۔ میرٹ کی بھی لوڈشیڈنگ ہے۔ بہر حال ہماری حکومت نفرت پھیلانے والی تقریروں کی بھی لوڈشیڈنگ کرنے پر زور دے رہی ہے۔ اس وقت سیاست دانوں کے ایک دوسرے پر نفرت بھرے بیانات کی لوڈشیڈنگ کی بھی سخت ضرورت ہے۔ سینئر سیاست دان جاوید ہاشمی صاحب نے زرعی یونیورسٹی کے حوالے سے پھڑکتا ہوا بیان دیا ہے کہ نواز شریف صاحب اور شہباز شریف صاحب کالی بھیڑوں کی سرپرستی نہ کریں، لوڈشیڈنگ میں تو ہر بھیڑ کالی ہی نظر آتی ہے۔ عمران خان صاحب کی شادی کے حوالے سے ہاشمی صاحب نے زبردست بیان دیا تھا کہ اب بوڑھے سیاست دانوں کی بیگمات گھر بیٹھی ڈر رہی ہیں۔ جاوید ہاشمی صاحب آپ مزاحیہ بیانات دیتے رہا کریں۔ لوگ انجوائے کرتے ہیں۔