کرکٹ کے رسیا پاکستانی نوجوانوں کیلئے ایک کالم

کالم نگار  |  ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی
کرکٹ کے رسیا پاکستانی نوجوانوں کیلئے ایک کالم

ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں بھارتی کرکٹ ٹیم کی جیت اور پاکستانی شاہینوں کی ہارپر پورا ملک افسردہ ہو گیا ،پاکستان کے طول و عرض میں حب الوطنی کی ڈوری میں بندھے ہوئے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ پاکستان بھلے ورلڈ کپ کے فائنل میں ہار جاتا مگر اسے بھارت کے مقابلے میں شکست سے دوچار نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ پاکستان تو کیا خود بھارتی اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کے دلوں میں بھی افسردگی چھا گئی جو پاکستانی ٹیم کو ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں سر اٹھائے دیکھنا چاہتے تھے۔ قارئین کرام! نظریاتی طور پر اس صورت حال کو اس براعظم کے مسلمانوں کے دل و نگاہ کی یکجائی کے طور پر دیکھنا ازبس ضروری ہے۔ میرے نزدیک اس خطہ کے اسلامیوں کے دلوں کی یکجائی اور یک سوئی آج بھی دو قومی نظریئے کے اثبات پر برہان و یقین کا درجہ رکھتی ہے۔ یہی یک رنگی آج بھی علامہ اقبالؒ کے اس قلندرانہ دعوٰی کی دلیل لے کر آتی ہے کہ اسلامیان پاک و ہند ہی نہیں دنیا کے تمام مسلمانوں کے دل کلمہ طیبہ کی حرارت کے باوصف ایک ساتھ دھڑکتے ہیں…؎
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ
دو قومی نظریہ آخر ہے کیا؟ امت مسلمہ کے ذہنی‘ فکری‘ نظریاتی اور عملی جداگانہ لائحہ عمل کو دو قومی نظریہ کہتے ہیں‘ ہر کلمہ گو مسلمان کا اٹھنا‘ بیٹھنا‘ چلنا پھرنا‘ کھانا پینا اور زندگی کا ہرطرز عمل اﷲ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کے تابع ہو کر دوسری قوموں بالخصوص ہندو قوم سے یکسر جداگانہ ہو جاتا ہے ۔ یہی دو قومی نظریہ ہے۔ تاریخ کی خوشہ چینی اور عرق ریزی کے نتیجے میں یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہندو قوم نے لاشعوری طور پر خود اپنے پیہم طرز عمل سے دو قومی نظریئے کی نادانستہ ترویج میں حصہ لیا‘ 1867 ء میں جب بنارس کے ہندوؤں نے اردو کے خلاف تحریک شروع کی تو مسلمانان برصغیر کو دو قومی نظریئے سے کم کم ہی آگاہی تھی۔ ہندو قوم کا یہ متعصبانہ طرز عمل صرف اس خاطر تھا کہ اردو مسلمانوں کی زبان ہے۔ حالانکہ زبان ہندو‘ مسلمان‘ سکھ یا عیسائی نہیں ہوتی۔ تاریخ کا یہی موڑ ہے جب اس خطہ کے مسلمانوں کو دو قومی نظریہ سے آشنائی ہوئی اور سرسید احمد خان ایسے ہندو مسلمان اتحاد کے داعی کو بھی کہنا پڑا کہ مسلمانو تم جداگانہ قوم ہو اور اپنے راستے ہندوؤں سے الگ کر لو۔ یہی وہ لمحہ ہے کہ جب اسلامیوں کو دو قومی نظریہ کے حوالے سے مجدد الف ثانیؒ اور شاہ ولی اﷲؒکے نظریات کی حقانیت بھی سمجھ میں آئی۔تاریخ کے ہر دوراہے پر معتصب ہندوؤں نے اپنے طرز عمل سے مسلمانوں کو باور کرایا کہ وہ الگ قوم ہیں اور ان کی خوشیاں اور غم بھی الگ ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ہندو بنئے نے اپنے متعصبانہ کردار سے مسلسل یہ ثابت کیا کہ وہ اسلامیوں کے ہر مفاد اور خوشی کوملیا میٹ کرنے کی طبعی خُو بھی رکھتا ہے۔ 1905 ء میں تقسیم بنگال پر ہندوؤں کا منفی کردار ہی اس طرز عمل کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ اسی ہندو جبلت کے زیر اثر اسلامیان برصغیر نے اپنی علیحدہ سیاسی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ 1906 میں قائم کی۔ پھر مسلمانوں پر آزمائش و ابتلا کا وقت دھیرے دھیرے آگے بڑھا تو 1928 ء کی نہرو رپورٹ کا لمحہ آگیا ۔ پنڈت موتی لال نہرو کی پیش کردہ اس بدنام زمانہ رپورٹ نے برصغیر میں ہندوؤں کی مسلم دشمنی پر ایسی مہر ثبت کی کہ جسے آج تک کوئی نہ مٹا سکا۔ تاریخ کے اس موڑ پر قائداعظمؒ کو ببانگ دہل کہنا پڑا کہ آج سے ہمارے اور ہندو قوم کے راستے جدا ہیں‘ بلکہ ابتلا کے ان لمحات میں بطل حریت مولانا شوکت علی مرحوم نے جو الفاظ کہے وہ تاریخ کے اوراق میں ہندو ذہنیت آشکارا کرنے کے لئے کافی ہیں‘ آپ نے فرمایا ’’مجھے بچپن میں شکاری کتے پالنے کا بے حد شوق تھا ‘ میں نے کبھی خرگوش کے ساتھ شکاری کتوں کا وہ سلوک نہیں دیکھا جو نہرو رپورٹ میں ہندوؤں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا‘‘۔کرکٹ کی دلدادہ پاکستانی نوجوان نسل جو پاکستان بھارت کرکٹ میچ کے نتیجے میں اپنے ملک کی جیت اور بھارتی شکست دیکھنے کی از حد متمنی ہوتی ہے ‘ اس حقیقت سے لاشعوری طور پر آشنا نہیں کہ یہ جذبہ اور خواہش کیا ہے؟ انہیں پتا چلنا چاہیئے کہ ان کی اس نفسیاتی اورایمانی کیفیت کے عقب میں دو قومی نظریہ اپنے پورے جوبن اور قرائن کے ساتھ کار فرما ہے۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی فتح کا جشن صرف ہمارے نوجوان ہی پورے قد کے ساتھ نہیں مناتے بلکہ یہ خوشی و شادمانی مقبوضہ کشمیر سمیت پورے بنگلہ دیش اور خود بھارت کے طول و عرض میں بسنے والے مسلمان بھی مناتے ہیں۔ اور اب حالیہ ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں پاکستان کی شکست پر اس پورے خطہ کے مسلمان افسردہ ہیں تو اسی وجہ سے کہ سب کے دل کلمہ طیبہ کی حرارت سے دھڑکتے ہیں۔ پاکستانی نوجوانو! یہی دو قومی نظریہ ہے ‘ جو تمہارے بزرگوں کی دین ہے اور اس کی اساس قرآن حکیم اور ارشادات نبویؐ میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ پاکستان ‘ بنگلہ دیش اور بھارت الگ الگ ممالک ہیں لیکن ان تینوں ممالک کے اسلامیوں کی خوشیاں اور غم ایک ہیں‘ وہ کلمہ طیبہ کی ڈوری سے بندھے ہوئے ہیں اور ہمیشہ بندھے رہیں گے۔ پیارے بچو! یہی دو قومی نظریہ ہے ‘ جسے سینے سے لگائے رکھنا اب تمہارا کام ہے۔ موجودہ صدی میں دو قومی نظریئے کے سب سے بڑے پاسبان مجید نظامی مرحوم جب یہ کہتے تھے کہ ہندو بنیا مسلمانوں کا ازلی دشمن ہے تو ان کا مقصد و مدعا یہی تھا کہ وہ اس خطہ کے ہندوؤں کا چہرہ تاریخ کے آئینے میں دیکھنے کے قائل تھے۔ پاکستان کی نوجوان نسل کو ان کی تلقین تھی کہ اس چہرے کو وہ خوب سمجھ لیں جو ان کی ہر افسردگی پر جشن مناتا اور ہر مسرت پر افسردگی اور تعصب کا اظہار کرتا ہے۔ یہ ہندو چہرہ ہے جو پاکستان بھارت کرکٹ میچز میں اپنے پورے منفی رجحانات کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ہندو بنئے نے بنگلہ دیش بنوا دیا‘ شیر بنگال مولوی فضل الحق کے روحانی و معنوی بچوں کو پاکستان کے مقابل لاکھڑا کیا‘ اس نے پاکستان میں بدامنی کے بیج بوئے اور اب افغانستان کو اپنا ’’اڈہ‘‘ بنا کر اس ملک خداداد کو خدانخواستہ ختم کرنے کے درپے ہے‘ لیکن اسے یاد رکھنا چاہیئے کہ پاکستان اس وقت تک زندہ رہے گا جب تک دو قومی نظریہ عملی طور پر زندہ و تابندہ ہے‘ آنجہانی اندراگاندھی نے غلط کہا کہ اس نے دو قومی نظریہ بحیرہ عرب میں پھینک دیا‘ وہ آکر دیکھ لیں کہ بنگلہ دیش بن جانے کے باوجود سابقہ مشرقی پاکستان کی اساس آج تک اسلامی اور دینی ہے۔ جس ملک کی اساس دائمی طور پر دینی اور اسلامی ہو وہاں دو قومی نظریہ کیسے باطل ہو سکتا ہے؟اس خطہ میں پاکستان بھارت کرکٹ میچز تک دو قومی نظریئے کی بازگشت کا مؤجب بن جاتے ہیں تو پھر اس نظریئے کو ختم کرنا کس کے بس کی بات ہے؟ یعنی پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا۔