مادر وطن کی گود

کالم نگار  |  محمود فریدی
مادر وطن کی گود

کچھ عرصہ قبل ایٹمی پروگرام کے ایک سابق نگران اعلیٰ افسر کے بارے یہ کہانی سننے میں آئی ماسک اور وگ میں حلیہ چھپائے ہوتے ہیں۔ ایک دن کینیڈا کے پوش رہائشی علاقے میں کسی ملٹی سٹوری بلڈنگ کی سیڑھیاں چڑھتے اچانک اپنے سگے بھانجے سے ملے ۔ ’’ماموں زاہد آپ کہاں؟‘‘ پھر دونوں ایک فلیٹ میں جا بیٹھے جہاں انہوں نے اپنی بپتا سنائی۔ میں ہفتہ بھر سے زیادہ ایک جگہ نہیں ٹھہرتا۔ دنیا میں گھومتا پھرتا ہوں‘ کبھی یورپ‘ کبھی امریکہ‘ کبھی افریقہ‘ کبھی آسٹریلیا۔ شاید ہی دنیا کا کوئی ملک ہو جہاں نہ گیا ہوں۔ نہ دن کو چین ہے نہ رات کو آرام‘ ہر وقت پکڑے جانے کا خوف۔ وہ جو دن رات مجھے سلیوٹ کرتے تھے‘ میرے پیچھے بو سونگھتے پھرتے ہیں۔ مجھ پر ایٹمی پروگرام کے فنڈز میں خوردبرد اور غداری کے الزامات ہیں۔ بڑی دفعہ کوشش کی کہ میری سلیٹ صاف ہو جائے مگر کوئی اعتباری ڈیل نہیں ہو سکی۔ وہ جن کے بھروسے پر سب کچھ کیا وہ بھی آنکھیں پھیر چکے ہیں۔ گمنام اکائونٹس میں بے بہا دولت محفوظ ہے مگر بوڑھا ہو گیا ہوں۔ اب دھکے نہیں کھائے جاتے‘ دولت کا انبار مکروہ لگتا ہے۔ دل کرتا ہے خود جا کر گرفتاری دیدوں۔ کم از کم قبر کی جگہ کا حقدار تو بن جائوں۔‘‘
چند روز قبل ایک قریبی عزیز کا فرانس سے فون آیا کہ وہ اسلام آباد میں گھر بنانا چاہتا ہے۔ اس ضمن میں جو گفتگو ہوئی وہ پیش قارئین ہے۔ ’’انکل پاکستان اپنا وطن ہے‘ یہاں گھر تو ہونا چاہئے نا‘ مگر تمہارا آبائی گھر تو موجود ہے۔ نہیں انکل وہ گائوں میں ہے۔ میری فرنچ بیوی اور بچے تو صرف شہر میں ہی رہ سکتے ہیں‘ مگر اچانک یہ پروگرام کیوں کر بن گیا۔ انکل جب سے وہ خاکوں کا مسئلہ اٹھا ہے‘ فرانس میں یہودی رسالے کے دفتر پر حملہ ہوا ہے۔ ہم مطعون ہوگئے ہیں۔ گورے ہمیں ٹیڑھی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ دیرینہ تعلق دار دوست گورے ہمیں دیکھتے ہی رنگ بدل لیتے ہیں۔ ایک معاشرتی الجھن اور بداعتمادی افق پر نمودار ہو چکی ہے۔ صورتحال کسی وقت بھی بگڑ سکتی ہے۔ حفظ ماتقدم کے طورپر پاکستان میں بروقت موزوں جائے پناہ موجود ہونی چاہئے۔ مگر تمہاری بیوی تو یہیں کی ہے نا‘ وہ تمارا دفاع نہیں کرتی؟ انکل وہ تو خود صبح و شام مجھے کوستی ہے حالانکہ نسلی طورپر عربی ہے۔ اس کے ماں باپ چار پشتوں سے یہاں آباد ہیں مگر وہ بے چاری بھی اپنے بچوں کے باعث بے بس ہے۔ وہ کہتی ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو سکے یہاں سے نکل چلو۔‘‘
مندرجہ بالا کہانیاں حالات کی دیگ سے دو چاول ہیں۔ جو لوگ بیرونی ممالک میں سیف ہیون بنا کر خود کو محفوظ سمجھے بیٹھے ہیں‘ مادر وطن کی اہمیت سے ناآشنا ہیں۔ ان کی حالت پر رحم بھی آتا ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے۔ ان میں کچھ تو وہ ہیں جنہوں نے محنت مزدوری سے اپنی معیشت اور مستقبل کو سنوارا‘ مگر بہت سے وہ ہیں جنہوں نے وطن سے غداری کی اور کرپشن‘ بددیانتی اور جرائم کا پیسہ باہر منتقل کرکے بیرون ملک جائیدادیں بنائیں اور بینک بھرے۔ یہ وہ خودغرض اور کوتاہ اندیش لوگ ہیں جنہوں نے خودغرضی اور وقتی دائو کے ذریعہ مادر وطن کی رگوں کا خون نچوڑ کر اسے مستقل کمزوری اور نقاہت کے حوالے کیا۔ پھر جب دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں والا اندیشہ سر چڑھا تو ہائے وطن ہائے وطن کی آہیں اٹھنے لگیں۔ مگر ان کو کون بتائے کہ ایک دن یہ خودغرضی کی عینک اتر ہی جانی ہے اور انہیں فون کرکے اپنے کسی عزیز کو کہنا ہی پڑنا ہے یار! مادر وطن کے کسی گوشے میں ایک قبر کی جگہ کا اہتمام کردو! بقول علامہ اقبال…؎
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرم خانہ خراب کو تیرے عفو بندہ نواز میں