جماعت اسلامی کی بھارت اور پاکستان میں متضاد پالیسیاں

کالم نگار  |  سید سردار احمد پیرزادہ
جماعت اسلامی کی بھارت اور پاکستان میں متضاد پالیسیاں

نظریات سرحدوں کے پابند نہیں ہوتے۔ ایک نظریئے پر یقین رکھنے والے جہاں بھی آباد ہوں گے اُن کے خیالات ایک جیسے ہوں گے۔ مثلاً کمیونزم کو ماننے والے روس، ویتنام، کیوبا، شمالی کوریا، لائوس یا چین سمیت جہاں بھی رہتے ہوں، نظریاتی معاملات پر ان سب کا ردعمل ایک جیسا ہی ہوگا۔ جمہوریت کے علمبردار دنیا میں ہر جگہ اظہار رائے کی آزادی کو پسند کریں گے۔ طالبان یا داعش جیسے انتہا پسند گروہ کسی بھی بینر کے نیچے ہوں اور کسی بھی ملک میں ہوں، ایک ہی جیسی سوچ پر عمل پیرا ہوں گے۔ گویا کمیونزم، جمہوریت یا انتہا پسندی کے بنیادی تصورات ملکوں کی سرحد پار کرنے سے بدل نہیں جاتے۔ جماعت اسلامی ایک نظریاتی جماعت ہے۔ یہ بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں میں اہم مذہبی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے۔ جماعت اسلامی کہیں بھی ہو، اُس کی بنیاد مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کے نظریات پر ہے۔ ایک ہی نظریئے کی پیداوار ہونے کے باعث بھارت اور پاکستان دونوں ملکوں کی جماعت اسلامی کو حالات و واقعات پر ایک جیسا ردعمل ظاہر کرنا چاہئے جبکہ زمینی حقائق کے مطابق ایسا نہیںہے۔ جماعت اسلامی ہند اور جماعت اسلامی پاکستان میں بہت سے عملی تضادات ہیں جنہیں دیکھ کر فکر لاحق ہوتی ہے کہ پاکستان اور بھارت میں سے کون سی جماعت اسلامی صحیح راستے پر ہے؟ ہندوستان میں جماعت اسلامی ہند نے اپنے آپ کو زیادہ تبلیغی کاموں سے جوڑا ہوا ہے جبکہ پاکستان میں جماعت اسلامی کا وجود براہِ راست سیاست میں حصہ لینے کے علاوہ شایدکچھ نہیں ہے۔ جماعت اسلامی ہند والے اگست 1947ء کے واقعے کو تقسیم کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں تقسیم یا بٹوارے کے الفاظ کوآزادی کے مخالفانہ الفاظ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لئے پاکستانی 14 اگست 1947ء کے واقعے کو یومِ آزادی یا قیامِ پاکستان کہتے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند والے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد ہندوئوں کی انتہا پسند جماعت آر ایس ایس کے ساتھ کھڑا نہیں دیکھتے۔ اُن کے خیال میں اب مودی مسلمانوں کے خلاف نہیں بولتے۔ دوسری طرف جماعت اسلامی پاکستان اب بھی مودی کو انتہا پسند ہندو سمجھتی ہے۔ اسی بناء پر جب بھی پاکستان کی موجودہ حکومت نے مودی کے ساتھ صلح جوئی کی بات کی، جماعت اسلامی پاکستان اِس کاروائی کی سخت مخالف نظر آئی۔ جماعت اسلامی ہند بھارت میں سیکولر طاقتوں کی حمایت کرتی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان سیکولرازم کا نام نہیں سننا چاہتی۔ پاکستان میں جماعت اسلامی والے اسلامی انقلاب کی بات کرتے ہیں۔ بھارت میں جماعت اسلامی والے اسلامی انقلاب کا نام نہیں لیتے۔ جماعت اسلامی ہند والے ترکی میں خواتین کے لباس کو ترک خواتین کی آزادی کے طور پر قبول کرتے ہیں۔ پاکستان میں جماعت اسلامی والے کیا اس لباس کی حمایت کرتے ہیں؟ جماعت اسلامی ہند والے کہتے ہیں کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ترکی میں اسلامی پارٹی کے انتخاب جیتنے سے وہاں اسلامی انقلاب آگیا ہے تو یہ صحیح نہیں ہے مگر جماعت اسلامی پاکستان ترکی کے انتخابات میں اسلامی پارٹی کی کامیابی کو اسلامی انقلاب سے جوڑ کر اُس کا تاثر پاکستان میں لانا چاہتی ہے۔ جماعت اسلامی ہند سمجھتی ہے کہ الجزائر، تیونس اور مصر میں حکمرانوں کی تبدیلی اسلام کی محبت کی بجائے ظالم حکمرانوں کے ظلم و زیادتی کے ردعمل میں آئی، اس لئے اسے اسلامی لہر نہیں کہا جاسکتا جبکہ جماعت اسلامی پاکستان اسے اسلامی لہر بتاکر خوش ہوتی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان اپنے جلسوں کو عوام کی اور پاکستان کی ترجمانی کہتی ہے جبکہ جماعت اسلامی ہند کے خیال میں پاکستان میں اس طرح کے اجتماعات وقتی جذبہ پیدا کرتے ہیں، اس لئے اُن کے خیال میں یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ ایسے اجتماعات پورے پاکستان کے ترجمان ہیں۔ بھارت کے اندر جماعت اسلامی ہنداپنے پرچار میںجہاد کا ذکر نہیں کرتی جبکہ جماعت اسلامی پاکستان"ہر مسلمان پر جہادفرض ہے "کی بات بہت زور شور سے کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کشمیر میں جہاد کی سخت حامی ہے مگر جماعت اسلامی ہند کے سربراہ مولانا جلال الدین عمری کشمیر میں جہاد کے بارے میں ردعمل دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ "ہم بہت واضح الفاظ میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کشمیر کے لئے جہاد کریں گے یا کشمیر بنے گا پاکستان، یہ آپ کی خواہش تو ہو سکتی ہے اور جہاد کی بات بھی آپ کریںلیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ جنگ کے ذریعے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگر کسی کے ذہن میں یہ ہے کہ ہم لڑکر کشمیر جیت لیں گے تو پاکستان کے لئے اس کا امکان نہیں ہے۔ پاکستان جنگ کے ذریعے نہیں جیت سکتا۔ آپ جنگ کی بات نہ کیجئے۔ جنگ اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اب تک کئی جنگیں آپ کر چکے ہیں لیکن جہاں تھے وہیں رہے۔ اندرونی طور پر بھی آپ نے کچھ کرکے دیکھ لیا، وہ بھی ٹھنڈا پڑ گیا۔ اگر جنگ ہوئی تو آپ آدھے ہندوستان کو ختم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور وہ پورے پاکستان کو ختم کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ ہندوستان میں لوگ کہتے بھی ہیں کہ دو تین شہر ہیں دو منٹ میں ہم آپ کو ختم کر دیں گے۔ خدانخواستہ ایٹمی جنگ ہو گئی تو آپ کشمیر تو حاصل نہیں کر پائیں گے البتہ پورے پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ یہ جو آپ ہر موقع پر کہتے ہیں کہ لڑکر کشمیر لے لیں گے، یہ اب ممکن نہیں ہے"۔ مولانا جلال الدین عمری نے یہ انٹرویو جماعت اسلامی پاکستان کے ایک ہم خیال پاکستانی ہفت روزہ کو دیا ہے جو بعد میں جماعت اسلامی ہند کے بھارت کے اپنے ترجمان جریدے "دعوت" میں شائع ہوا۔ کیا مولانا عمری کا یہ بیان بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خیالات جیسا نہیں ہے؟ جماعت اسلامی پاکستان کے سربراہ سراج الحق جماعت اسلامی ہند کے سربراہ مولانا عمری کے کشمیر پر جہاد چھوڑ دوجیسے اس بیان کے حوالے سے کیا کہیں گے؟ جماعت اسلامی ہند اور جماعت اسلامی پاکستان کی پالیسیوں میں مذکورہ بالا عملی فرق کو دیکھ کر لگتا ہے کہ دونوں جماعتیں علیحدہ علیحدہ پالیسیاں رکھتی ہیں۔ ہو سکتا ہے جماعت اسلامی پاکستان اسے جماعت اسلامی ہند کی مصلحت پسندی یا مجبوری کہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں بنیادی پالیسیوں پر مصلحت پسندی کی کتنی گنجائش ہے؟ کیا غیرمسلم حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند کرنے کا جہاد نہیں کرنا چاہئے؟ یا صرف پاکستان کے کمزور مسلمان حکمرانوں کے سامنے جماعت اسلامی پاکستان کا کلمہ حق بلند کرنا ہی جہاد کہلاتا ہے؟ اسلام کی تبلیغ کے حوالے سے تو کسی مسلمان کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا مگر اسلامی جماعت کی حیثیت سے معاشرے میں تبلیغ کے علاوہ دوسرے حالات و واقعات پر ردعمل اُس جماعت کے ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔ کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ جماعت اسلامی ہند نے وقت کے ساتھ ساتھ بہت کچھ سیکھا ہے اور جماعت اسلامی پاکستان ابھی وہیں کھڑی ہے؟ یا جماعت اسلامی ہند نے اپنا مختلف راستہ چن لیا ہے؟ کیا مولانا مودودی کی جماعت اسلامی کے نظریات سرحد پار کرنے سے بدل گئے ہیں؟ اصلی جماعت اسلامی کون سی ہے؟