ایک بار پھر… مذاکرات کا ڈرامہ

کالم نگار  |  آغا امیر حسین
ایک بار پھر… مذاکرات کا ڈرامہ

کہتے ہیں خواب دیکھنا اچھی بات ہے لیکن ہمارے پڑوسی ملک بھارت کے حکمران دن میں بھی خوابوں میں زندگی گزار رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایک دن ہم پاکستان کو بھی اپنی منڈی اور باج گزار ریاست بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے اُن کے 68 سال اسی ادھیڑ پن کی نذر ہوچکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر، جونا گڑھ اور حیدر آباد دکن وغیرہ میں سازشوں کی کامیابی نے ان کے ارادوں کو تقویت بخشی ہے۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کی سازشوں کی کامیابی کے بعد تو ایسا لگتا ہے کہ بھارت کے حکمران نہ صرف پُرامید ہیں بلکہ یقین کئے بیٹھے ہیں کہ پاکستان کو مزید نقصان پہنچانے میں ضرور کامیاب ہوں گے جس کے لیے وہ شب و روز مختلف قسم کی سازشوں، ریشہ دوانیوں اور اربوں کھربوں روپے خرچ کرکے پاکستان میں ایسے حالات پیدا کرنے میں کسی حد تک تو کامیاب ہوچکے ہیں جن سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمیں آپریشن ضرب عضب شروع کرنا پڑا ہے۔ متفقہ اکیس نکاتی پروگرام کے مطابق قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد فوجی عدالتیں بھی قائم کر دی گئی ہیں۔ ہمارے حکمران جب پانی سر تک پہنچ گیا تب ہڑبڑا کر اٹھے شمالی وزیرستان، فاٹا کا علاقہ، بلوچستان اور کراچی ہر جگہ سینکڑوں نہیں ہزاروں دہشت گرد تخریبی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ پورے ملک میں ان دہشت گردوں کے ہاتھوں مساجد، امام بارگاہوں، مدرسوں، بازاروں، دفاتر اور سکولوں وغیرہ حتیٰ کہ فوجی مراکز بھی محفوظ نہیں رہے۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول پشاور حملے کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ واضح رہے کہ اجیت دوول بھارتی انٹیلی جنس کا افسر ہے جو وزیراعظم نریندر مودی کے مشیر برائے قومی سلامتی کے طور پر 30 مئی 2014 سے ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔ اجیت نے دہلی میں تقریر کرتے ہوئے پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ اگر کشمیر کے بارے میں پالیسی تبدیل نہ کی تو بلوچستان سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ ہمارے سول حکمران، پارلیمنٹ اور عدلیہ وغیرہ بھارت کی ان جارحانہ حرکتوں کو نظرانداز کرتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ ایسا تاثر دیتے ہیں جیسے بھارت پاکستان میں جو کچھ کر رہا ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں اس لیے نوٹس لینا بے کار ہے یا ڈر اور خوف نے انہیں خاموش کیا ہوا ہے کہ طبقاتی مفادات خطرہ میں نہ پڑ جائیں۔ چنانچہ کسی بھی فورم پر ہمیں بھارت کی ریشہ دوانیوں کا ذِکر فکر نظر نہیں آتا ۔ اگر پاکستانی افواج آگے بڑھ کر ان معاملات کو اپنے ہاتھ میں نہ لیتیں تو خدانخواستہ بھاری نقصان پہنچ سکتا تھا۔ پاکستان کے مقامی باشندے تحریک پاکستان سے، ہندوئوں کی انتہا پسندی اور تعصب سے بے خبر ہیں انہیں قطعاً ان باتوں کا شعور نہیں کہ برصغیر کی تقسیم کے کیا محرکات تھے یا تقسیم کے بعد بھارت میں رہنے، بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ آزادی کے بعد سے اب تک کیا سلوک رہا ہے۔ اگر سابق چیف منسٹر نریندر مودی کی ریاست گجرات کے واقعات سے ہی آگاہی ہوتی تو کبھی ایسا نہ سوچتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارا نظام تعلیم اور دانشور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں یہ علیحدہ بات ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود پاکستان کی نئی نسل بھاری تعداد میں ہندوستان کی منڈی بننے یا بالاتر حیثیت دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ میں بھارت کی پسند اور ناپسند کے مطابق زندگی گزارنے سے انکاری ہے۔! بھارت نے دشمنی کا جو تباہ کن راستہ اختیار کیا ہوا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ آئینی ذمہ داری کے تحت بھارتی جارحانہ حرکتوں کے جواب میں پاک فوج کے دو ٹوک موقف کے دبائو میں حکمران اب دبے لفظوں میں بھارتی سازشوں کا ذکر کر رہے ہیں۔ جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بھار ت سے واضح انداز میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی جائے۔ بھارتی ہٹ دھرمیوں اور وعدہ خلافیوں کی ایک طویل تاریخ کو دہرانے سے انکار کر دیا جائے۔ اب وزیراعظم نریندرمودی اپنے سیکرٹری خارجہ کو بھیجیں گے چند مہینے بعد وزیر خارجہ کی آمد کا شور مچے گا پھر کسی حیلے بہانے  مذاکرات کا ڈرامہ ختم ہو جائے گا۔ تو پھر کیا ہوگا؟ طویل گفتگو در گفتگو کا انجام ہمارے سامنے ہے جو ممالک مذاکرات کا مشورہ دیتے ہیں اور مذاکرات کو ہی مسئلے کا حل بتاتے ہیں ان سے پوچھنا چاہیے کہ اگر کوئی فریق مسلسل ہٹ دھرمی سے کام لیتا چلا آ رہا ہو۔اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے سے بھی انکاری ہو تب کیا کرنا چاہیے؟ گزشتہ مذاکرات میں جن باتوں پر اتفاق ہوا ہو ان سے بھی آنے والے مذاکرات کے دوران مُکر جائے تو پھر کیا کرنا چاہیے؟ طے شدہ اصول ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو ثالثی کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے، بھارت ثالثی کے راستے کو اپنانے کے لیے بھی تیار نہیں ہے، صاف انکاری ہے۔ ان حالات میں بھارت کے ساتھ تعلقات کو نارمل کیسے رکھا جاسکتا ہے؟ ضروری ہے کہ حکمران ابتدائی طور پر بھارت سے تجارتی تعلقات ختم کریں جب سے مذاکرات کا ڈھونگ شروع ہوا ہے بھارت نے اعتماد کی بحالی کا رونا رو کر پاکستان سے فوائد حاصل کئے ہیں۔ کوئی ایک چھوٹا سا فائدہ بھی بھارت کی طرف سے پاکستان کو نہیں پہنچا پہلے پاکستانی ایک روپے کے عوض بھارت کے ڈیڑھ دو روپے ملا کرتے تھے جب سے تعلقات کی بحالی کا ڈرامہ شروع ہوا ہے پاکستانی کرنسی کا ریٹ 60 ، 70 فیصد کم ہوگیا ہے اگرچہ اس کی وجوہات کچھ اور بھی ہیں لیکن ایک دشمن ملک کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنا قطعاً ضروری نہیں ہیں۔ جہاں تک اندرونی صورت حال کا تعلق ہے دشمن اور دشمن کے ایجنٹ بہت منظم اور آرگنائز اندا زمیں تخریبی کارروائیوں میں مصروف ہیں اس لیے ضروری ہے کہ حکومت شہروں، دیہاتوں، گلیوں، محلوں، مدرسوں اور ان تمام مقامات پر جہاں یہ لوگ چھپے بیٹھے ہیں نکال باہر کرے۔ اس کے لیے پورے ملک کو سکین کرنا ہوگا جو صرف اور صرف محلہ وار امن کمیٹیوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔’’سرچ آپریشن‘‘ زیادہ موثر نہیں ہوں گے۔