پاکستان کو عراق بنانے کی سازش

پاکستان کو عراق بنانے کی سازش

پاکستان دنیا کا خوش نصیب اسلامی ملک ہے جہاں جمہوریت ہے اور منتخب حکومت ہے۔ اسلامی ملکوں کے جو حالات ہیں‘ اس میں پاکستان کا یہ اعزاز بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بھی پیش نظر رہے کہ پاکستان اسلامی دنیا کا واحد ملک ہے جو بفضل تعالیٰ ایٹمی ملک ہے۔ ان حالات پاکستان کی سالمیت‘ طاقت اور برقرار رہنے کی صلاحیت دنیا کے بعض عناصر کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے۔ جمہوریت ہی پاکستان کا مستقبل ہے۔ میاں نوازشریف کی جماعت یقینا فرشتوں کی جماعت نہیں ہے… ان سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ مگر محض ایک برس میں ہی ایک منتخب حکومت کو ہٹا بھی دیاگیا تو یہ پاکستان میں جمہوریت کا خون ِ ناحق ہوگا۔ میاں نواز شریف کی خود اعتمادی قابل تعریف ہے… وہ جمہوریت کا تختہ کرنے والی قوتوں کے مقابل چٹان بن کر کھڑے ہیں۔ عمران خان کیسے سیاستدان ہیں؟ کیا آپ ایسے سیاستدان کی دانش اور تدبر پر بھروسہ کرنے کو تیار ہیں جو اعلانیہ ایک منتخب سیاسی حکومت کو ہٹا کر غیر منتخب حکومت بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ مثل مشہور ہے کہ ’’بدترین جمہوریت‘ خوبصورت آمریت سے بہتر ہے۔‘‘ طاہرالقادری کی سیاسی مقبولیت پنجاب کے سیاسی ماحول میں یکسر محدود ہے۔ وہ شعلہ بیان مذہبی مقرر ہیں مگر سیاستدان نہیں۔ ان کا قیام پاکستان سے زیادہ کینیڈا میں ہوتا ہے۔ ان کی سیاسی جڑیں پاکستان میں ہیں کہاں۔ بے چارے معصوم افراد‘ حضرات و خواتین ایک مذہبی پیشوا کے اسیر ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ چودھری برادران نے طاہرالقادری کے شامیانے تلے پناہ لی ہے۔ نوازشریف سے لاتعلق ہونے کے بعد وہ مارے مارے پھر رہے ہیں۔ پہلے مشرف‘ پھر پی پی‘ اب قادری۔ ان کے اگلے ٹھکانے کی کوئی خبر نہیں…! عمران خان ‘ پاکستان کی سیاست میں ہلچل مچانے میں بڑی حد تک کامیاب ہو گئے ہیں۔ آئین اور قانون کے خلاف وہ جانب اسلام آباد تشریف لے جا رہے ہیں۔ ایک آئینی حکومت کو ہجوم کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کسی صورت میں قابل تعریف نہیں ہے۔ وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو پاکستان کے بڑے صوبے میں جمہوریت اور آئین سے مایوس ہو جانے کے خدشات موجود ہیں۔ یہ بات عمران خان کی زبان پر نہیں آتی مگر ان کی مخاطب ظاہر ہے کہ فوج ہے۔ کیا فوج ’’تشریف آوری‘‘ کیلئے تیار ہے؟ فوج‘ حکومت کرنے میں دلچسپی لے گی تو ملک کی حفاظت کون کرے گا۔ ہم دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ نوازشریف نے محنت اور تدبر سے صوبوں میں یکجہتی کے اثرات پیدا کئے ہیں۔ بلوچستان میں سکون آچلا ہے۔ اینکر پرسنوں کی کیا بات ہے۔ انہوں نے کبھی کونسلر کا الیکشن نہیں لڑا‘ وہ سیاست پر محض شاعری کر رہے ہیں۔ صوبے اور اس کے عوام مایوس ہوئے تو پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ بڑا صوبہ بلوچستان‘ عمران خان کی یلغار سے خوش نہیں ہے۔ بینظیر شہید لاڑکانے کی وزیراعظم کے حوالے سے روتی تھیں‘ اب لاہور کے وزیراعظم کیلئے رونے کا وقت آگیا ہے۔ طاہرالقادری اورخود عمران خان کا ایجنڈا کیا ہے۔ انتشار پیدا کرکے کیا پاکستان کو عراق بنانے کی سازش ہو رہی ہے؟ جنرل راحیل شریف کو صورتحال کا ادراک ہے۔ پہلے کی طرح طاہرالقادری مایوس ہوکر واپس آئیں گے۔عمران خان بھی واپس آئیں گے۔ مارچ کے بعد کے پی کے کی حکومت خطرے میں ہے۔