”عوام فےصلہ کر لےں کہ“

کےا اس بات کا تعےن ہم خودکر ےنگے ےا پھر کوئی بے رحم مورخ ہمارے متعلق حقائق بےان کرےگا کہ ہمارا شمار کس قسم کی اقوام مےں ہوتا ہے۔ ہماری خود پرستی ، جاہ طلبی ، صرف اپنے لےے منفعت بخش سےکمےں سوچنے والی اقوام مےں ہوتا ہے ےا پھر بھوکے پےٹ ، کپڑوں سے محروم مگر قومی عزت و غےرت کا تمغہ سےنے پر سجائے اقوام مےں؟؟ ....قول و فعل کے تضاد مےں مبتلا ....مگر دوسروں سے ”پےغمبر “....”ولی اﷲ“ جےسی صفات کی توقع رکھنے والی قوم۔۔ تصوراتی دنےا مےں مگن رہنے والی....ہم نے سانچے تراش رکھے ہےں....خود کے معےار.... اوصاف اور طرح کے۔۔ مگر اپنے ”لےڈروں“ مےں صرف ”اوصاف حمےدہ“ دےکھنے کے متمنی....خود سے فےصلہ کےجئے کہ ہمارے اعمال اور کردار مےں کتنا بُعد ہے....واضح پالےسی اور درست رہنمائی سے محروم قوم .... ” عوام فےصلہ کر لےں“ کہ خو د تو ”65 سال“ بُھگت لےے تو کےا ہم نے اب بچوں کے لےے بھی ”غےر محفوظ پاکستان“ چھوڑنا ہے ےا پھر اپنی تقدےر خود کے ہاتھوں سے سنوارنی ہے؟؟ کےا اب ےہ باور کر لےا جائے کہ ہم دُنےا کی وہ واحد ۔انوکھی قوم ہےں جو ”رےورس گئےر“ پر ہے.... قومی پالےسےوں مےں تسلسل اور عملےت سے محروم قوم .... بچپن سے اب تک ےہی پروپگےنڈا سننے اور پڑھنے کو ملا کہ سےاست ”شرےفوں “ کا کام نہےں....جان بوجھ کر اس شر انگےز بات کو اتنا پھےلادےا گےا کہ ”سےاست “ کا نام آتے ہی لوگ کانوں کو ہاتھ لگا لےتے .... سوال ےہ ہے کہ اگر”سےاست“ ”شرےف آدمی“ کا کام نہےں تو پھر ”شرےف آدمی “ سےاستدانوں کو ووٹ کےوں دےتے ہےں؟؟ شرےف آدمی اگر”سےاست “ نہےں کر سکتا تو پھر وہ ووٹ کےوں دےتا ہے؟؟ وہ ووٹ کےوں دے؟؟....مزےد براں کےا ےہ پروپےگنڈہ اس بات کا تعےن کر رہا ہے کہ جن کو ہم ”ووٹ“ دےتے ہےں وہ ”شرےف آدمی نہےں“۔۔کےا ووٹ کی صورت فےصلہ کُن قوت ہمارے ہاتھ مےں نہےں؟؟
اس وقت ےہ سنگےن اندےشہ بھی سر اُٹھا رہا ہے کہ کےا اےک جانبدار سےٹ اپ کی موجودگی مےں انتخابات کی شفافےت برقرار رہ پائے گی؟؟ اس صورت مےں کہ کلےدی اداروں کے مابےن باہمی تعاون کا فقدان ہے.... اگر پہلے کی طرح کا سےٹ اپ وجود مےں آتا ہے تو لکھ لےجئے کہ ےہ ”دو ماہ“ بھی نہےں چلے گا۔۔ عوام کی سلامتی۔تخفظ کی خواہاں قوتےں اور خواستگار سےاسی و سماجی طبقات ، گروہ متحد ہوکر اےسی ”سٹرےٹ جنگ“ لڑےں گے کہ پھر کسی سے ےہ مطالبہ کرنے کی ضرورت پےش نہےں آئے گی کہ فلاں نے ےہ کےا ، فلاں اپنے پےسے بےرونِ ملک سے اندرون ِملک منتقل کرے۔ اےسا سب کچھ عوامی مطالبے پر ”عوام کی عدالت “ ہی طے کرےگی۔۔سول سوسائٹی کے اےک بڑے طبقے کا خےال ہے کہ ہمےں حکومتوں کا کےا فائدہ اگر ہم نے اپنے مسائل خود ہی حل کرنے ہےں ۔ لوڈ شےڈنگ کا علاج ےو پی اےس۔ جنرےٹرز وغےرہ ۔مہنگائی کا علاج غرےب مڈل کلاس طبقہ کے نزدےک چوری ڈکےتی....مروجہ طوےل طرےقہ علاج کار سے گھبرا کر رشوت ستانی کو فروغ دےنے والے عوامل مےں اپنے کاموں کوسہل اور کم ترےن وقت مےں کروانے والے اکثرےتی تاجر حضرات.... تعلےم و صحت کے شعبہ مےں جو کام ”رےاست“ کی ذمہ داری ہےں وہ کام مخےر حضرات.... نجی ادارے کر رہے ہےں؟ عوام فےصلہ کر لےںکہ جن کو ووٹ دےکر آگے لانا ہے تو پھر اُن سے اپنے مسائل حل بھی کروانے ہےں.... عوام فےصلہ کر لےں معاشرے مےں عوامی نمائندوں کی حےثےت اُن کے اصل کے مطابق ہی ہو گی اور ”جو ےہ“ہےں سوسائٹی مےں اُسی طور سمجھے جائےں گے....فےصلہ کر لےں کہ بچنا ہے ےا پھرگہری ۔اندھی کھائی مےں گرنا ہے۔