پرتعیش مراعات اور فوجی بغاوتیں

چیف جسٹس نے سابق حکمرانوں کی سکیورٹی اور پرتعش مراعات کا ازخود نوٹس لے کر عدالتی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ کیسا ستم ہے کہ جس ملک میں غریب آدمی کو بنیادی ضروریات ہی میسر نہیں، حتیٰ کہ دیہات اور قصبوں میں رہنے والوں کو پینے کا صاف پانی تک دستیاب نہیں، اس ملک میں موجودہ تو ایک طرف.... سابق حکمرانوں کی سکیورٹی اور مراعات کے نام پر کروڑوں روپے ماہانہ خرچ کئے جا رہے ہیں۔اول پاکستان جیسا قرض میں بال بال پھنسا ہوا ملک موجودہ حکمرانوں کے پروٹوکول اور بے پناہ دیگر مراعات کے اخراجات سہنے کا متحمل ہی نہیں۔ آئندہ حکمرانوں کو اس بات پر خصوصی توجہ دینا ہو گی اور حکمرانوں‘ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین‘ وزیروں اور مشیروں اور دیگر سرکاری ملازمین کے بیرون ملک علاج معالجے پر مکمل پابندی لگا دینی چاہئے۔ کیونکہ پاکستان میں ایک سے قابل ڈاکٹر اور ایک سے ایک جدید ترین ہسپتال موجود ہے۔
چیف جسٹس نے یہ بھی فرمایا ہے کہ: ”ملک کی تاریخ فوجی بغاوتوں سے داغ دار ہے“ پاکستانی معیشت اور جمہوریت کو سب سے زیادہ نقصان فوجی آمروں نے پہنچایا ہے۔ لیکن آج تک کسی فوجی آمر کو عدالت کی طرف سے سزا نہیں مل سکی۔ جب تک ان فوجی آمروں کو عدالتی طور پر باغی اور غدار قرار نہیں دیا جاتا‘ مارشل لاءکا دروازہ بند نہیں ہو گا۔ آجکل پرویز مشرف کو غداری کے مقدمے کا سامنا ہے مگر صاف نظر آرہا ہے کہ وہ صاف بچ جائیگا کیونکہ ہمارے ہاں فوج کا بہت مقدس مقام حاصل ہے۔ ایک مقدس گائے وہ تھی، جس کا ذکر قرآن پاک میں ہے جس کی قربانی کا حکم اللہ تعالی نے بنی اسرائیل کو دیا تھا۔ دوسری مقدس گائے‘ ہندﺅوں میں ہے۔ ہندو ہر گائے کو مقدس سمجھتے ہیں اسی لئے نہ تو گائے کو قربانی کیلئے استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی اس کا گوشت کھاتے ہیں بلکہ اس کی پوجا کرتے ہیں اور اسے ”گاﺅ ماتا“ کہتے ہیں۔ پاکستان کی مقدس گائے‘ فوج ہے۔ حالانکہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اسلام میں گائے کی قربانی نہ صرف جائز ہے بلکہ فرض ہے لیکن پاکستانیوں نے فوج کو وہی مقام دے رکھا ہے جو ہندوﺅں نے ”گاﺅ ماتا“ کو یعنی ہم ابھی تک اس گائے کی پوجا کرتے ہیں اور اسے قربانی کے لائق نہیں سمجھتے‘ جبکہ بھارت‘ جہاں گائے کی پوجا کی جاتی ہے‘ وہاں فوج مقدس گائے نہیں بلکہ بار برداری کے کسی جانور (گدھے وغیرہ) کا درجہ رکھتی ہے۔ بھارت میں فوجی خوشحال نہیں ہو پاتے،جبکہ پاکستان میں سب سے امیر طبقہ‘ فوج ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھارت میں ایک جنرل‘ کرنل یا میجر کا وہی حال ہوتا ہے جو پاکستان میں ایک ریٹائرڈ پروفیسر یا سکول ٹیچر کا....
سکول ٹیچر سے یاد آیا‘ گاﺅں کے ایک سکول ٹیچر کو چودھری نے بیٹے کے پاس ہو جانے کی خوشی میں ایک گائے تحفہ کے طور پر دے دی۔ ٹیچر کو اس سے پہلے گائے رکھنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور نہ ہی گائے کا پالا اس سے پہلے کسی ٹیچر سے پڑا تھا‘ سو‘ نتیجہ یہ نکلا کہ چند دن بعد گائے بیمار ہو گئی۔ ٹیچر اپنے ایک دیہاتی دوست کے پاس گیا اور بتایا‘ اس نے کوئی دوا بتائی کہ یوں بنا کر گائے کو کھلا دو‘ ٹیچر نے اسکے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق دوا تیار کی اور گائے کو کھلا دی۔ تھوڑی دیر بعد گائے تڑپ تڑپ کر مر گئی‘ وہ روتا پیٹتا اپنے دوست کے پاس گیا اور بتایا‘ دوست نے لاپروائی سے جواب دیا۔ ہاں‘ میری گائے بھی مر گئی تھی۔ مرنا‘ امر ربی ہے۔ موت برحق ہے اور ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا پڑیگا۔ لیکن وزیرستان میں جو لوگ ڈرون حملوں سے مارے گئے اور مارے جا رہے ہیں‘ انکے بارے میں عقل حیران ہے‘ کہ کیا پاکستان اس قدر بے بس اور مجبور ملک ہے جو امریکہ کے ہاتھوں اپنے ہی بے گناہ لوگوں کو مرواتا جا رہا ہے۔ امریکہ کےلئے یہ ”دروازہ“ سابق صدر پرویز مشرف نے کھولا تھا۔ جو ابھی تک بند نہیں ہو سکا۔ یہ سلسلہ کب تک جاری رہتا ہے؟ کچھ خبر نہیں۔ حالانکہ امریکہ اب افغانستان سے رخت سفر باندھ رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ سفر کرنیوالا آدمی کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ سفر میں دنیا زندگی اور جوانی کی نشانی ہے۔ اس میں شک نہیں۔ جیسے گذشتہ پانچ سال سے مسلسل پاکستان میں جمہوریت کی گاڑی (بحمد اللہ) سفر میں ہے۔ امید ہے کہ اب اس گاڑی کے راستے میں کسی مارشل لاءکا پتھر‘ کسی آمریت کی دیوار حائل نہیں ہو گی۔ عام انتخابات کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ ہر سیاسی جماعت اپنے اپنے انداز میں اپنی انتخابی مہم چلا رہی ہے۔خدا کرے یہ انتخابات بخیر ہو جائیں۔