نظریہ پاکستان ٹرسٹ کی جنرل کونسل کا چھٹا سالانہ اجلاس

ایک قرارداد میں کہا گیا کہ ہمارا نام نہاد دوست امریکہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کو جنوب مشرقی ایشیاءکا تھانیدار بنانے اور اسے افغانستان میں قدم جمانے کا موقع فراہم کر رہا ہے۔ حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے دیرپا تزویری مفادات کے پیش نظر ان امریکی کوششوں کی بھرپور مزاحمت کرے۔ یہ اجلاس پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سے یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ وہ افغانستان کے حوالے سے بھارتی عزائم پر کڑی نگاہ رکھے اور بالخصوص 2014ءمیں وہاں سے نیٹو افواج کے انخلاءکے بعد پاکستان کے دیرپا تزویری مفادات کے تحفظ کا بندوبست کرنے کی ابھی سے کوششیں شروع کر دے۔ ایک قراردادمیں حکومتِ پاکستان کو باور کرایاگیاکہ امریکہ پاکستان کا دوست نہیں بلکہ دشمن ہے اور اس کیلئے دنیائے اسلام کی اس واحد ایٹمی طاقت کا وجود ناقابلِ برداشت امر ہے۔ لہٰذا وہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کی نہ صرف بھرپور سرپرستی کر رہا ہے بلکہ اس نے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے افغانستان میں بھی بھارت کو اڈے فراہم کر دیے ہیں۔ یہ اجلاس حکومتِ پاکستان سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پاکستانی عوام کی امنگوں اور آرزوﺅں کی ترجمانی کرتے ہوئے امریکہ سے تعلقات پر نظر ثانی کرے اور ملکی دفاع کو مضبوط تر بنانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرے۔ ایک قراردادمیں کہاگیا ہے کہ یہ اجلاس بنگلہ دیش کی بھارت نواز حکومت کے قائم کردہ انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل کی طرف سے 1971ءکے دوران متحدہ پاکستان کے حامیوں کے خلاف مقدمات اور سزاﺅں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے 92سالہ رہنما پروفیسر غلام اعظم ‘ عبدالقادر ملا اور دیگر رہنماﺅں کو قید کرنے پر بھی سخت غم و غصے کا اظہار کرتا ہے اور بنگلہ دیشی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان ضعیف العمر اور متحدہ پاکستان کے حامی افراد کو فوری طور پر رہا کرے اور 42 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد انہیں انتقام کا نشانہ بنانے سے گریز کرے۔ ایک اورقراردادمیں کہا گیا کہ ذرائع ابلاغ کا ایک مخصوص حلقہ ہندووانہ اور یورپی ثقافت کا پرچار کر رہا ہے جس سے ہماری نئی نسل پر تباہ کن اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حکومت سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ میڈیا کے لیے ایک ضابطہ¿ اخلاق مرتب کر کے اس کی سختی سے پابندی کروائے۔ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(PEMRA)سے بھی مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں بھارتی ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات پر پابندی پر سختی سے عمل درآمد کروائے اور جو کیبل آپریٹرز نام بدل کر ہندووانہ ثقافت کے پرچار پر مبنی ڈرامے دکھا رہے ہیں‘ ان کے لائسنس منسوخ کر دے۔ علاوہ ازیں عریانی و فحاشی سے بھرپور بھارتی فلموں کی پاکستانی سینماﺅں اور کیبل پر نمائش اور مقامی مارکیٹس میں فروخت پر بھی پابندی عائد کی جائے۔ ایک قراردادمیں اجلاس کے شرکاءنے اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیبل پر دکھائے جانے والی بھارتی فلموں سے ہمارے بچوں کے ذہنوں اور زبان پر انتہائی مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور وہ محمد بن قاسم اور طارق بن زیاد کی بجائے ہنومان اور دیگر ہندو دیوی دیوتاﺅں کے ناموں سے شناسا ہو رہے ہیں۔ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ حکومتِ پاکستان یہ کارٹون دکھانے والے ٹی وی چینلز کی نشریات پر فی الفور پابندی عائد کرے۔ ایک قراردادکے ذریعے اجلاس کے شرکاءنے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ خودانحصاری اور خود کفالت کو اپنا نشانِ منزل قرار دے اور قدرت کے عطا کردہ مادی و انسانی وسائل کو دیانت داری سے بروئے کار لائے تاکہ پاکستان کو جلد از جلد ترقی یافتہ اور خوشحال ممالک کی صف میں کھڑا کیا جا سکے۔ پُرتعیش سامان کی درآمد اور استعمال کو ممنوع قرار دیا جائے اور اپنی قوتِ بازو اور دستیاب وسائل پر انحصار کر کے قومی معیشت کو مضبوط و مستحکم بنایا جائے۔ ایک اورقراردادمیں کہاگیا ہے کہ یہ اجلاس ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کی طرف بھرپور توجہ دے تاکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باعزت روزگار میسر آ سکے۔ایک قرادادمیں کہا گیا ہے کہ یہ اجلاس حکومت کو یاد دلاتا ہے کہ بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ خواتین کو قومی زندگی میں بھرپور طریقے سے سرگرمِ عمل دیکھنے کے خواہش مند تھے‘ لہٰذا خواتین کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جائے اور ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کو لاحق خطرات کا فوری سدِباب کیا جائے تاکہ وہ ملکی ترقی میں اپنا کردار بلا خوف و خطر ادا کر سکیں۔ اجلاس میں منظورکی جانیوالی ایک قراردادمیں کہا گیا کہ پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی کا امریکی جیل میں قید رہنا پاکستانی قوم کی غیرت و حمیت کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے‘ لہٰذا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی قید سے رہائی اور وطن واپسی کے لیے مو¿ثر اقدامات کرے۔ ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ نصابِ تعلیم کسی بھی قوم میں فکر و عمل کی یکجہتی اور مشترکہ اقدار و روایات کو پروان چڑھانے کا ذریعہ ہوتا ہے تاہم اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے نصاب سازی کا اختیار صوبوں کو تفویض کرنے سے پوری پاکستانی قوم کے لیے یکساں نصابِ تعلیم رائج کرنے اور مذکورہ بالا مقاصد کے حصول کی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ نصاب سازی کا اختیار دوبارہ وفاق کے سپرد کیا جائے۔ ایک قراردادمیں اجلاس کے شرکاءنے ملک میں جاری توانائی کے بحران اور اس کے باعث صنعتی و اقتصادی پہیہ جام ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا فوری آغاز کرے اور امریکی دباﺅ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایران سے گیس اور بجلی درآمد کرنے کے منصوبوں کو تیزی سے عملی جامہ پہنائے۔ ایک قراردادمیں کہا گیا ہے کہ وطنِ عزیز میں اخلاقی برائیوں مثلاً بدعنوانی‘ اقرباءپروری اور خیانت کاری کے مو¿ثر تدارک کیلئے ایک قومی اخلاقی پالیسی وضع کی جائے اور اسے سختی سے نافذ کیا جائے۔ایک قراردادمیں اجلاس کے شرکاءنے حکومتِ پاکستان کو باور کرایا کہ بھارت کی جیلوں میں بہت سے پاکستانی طویل عرصے سے قید ہیں اور ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو اپنی سزا بھگتنے کے باوجود رہا نہ ہو سکے۔ حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ ان پاکستانیوں کی جلد از جلد رہائی اور وطن واپسی کا بندوبست کرے۔
 ایک قراردادکے ذریعے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے اور سابقہ حکومت کی طرف سے اعلیٰ عدلیہ کی کردار کشی اور اسکے فیصلوں کی بے توقیری کا سد باب کرے ۔ایک قراردادمیں کہا گیا ہے کہ بعض غیر سرکاری تنظیمیں (NGOs) بیرونی ممالک سے فنڈز حاصل کر کے پاکستان کے بارے میں ایسی رپورٹیں شائع کر رہی ہیں جن سے عوام میں وطن عزیز کے مستقبل کے بارے میں بے یقینی اور مایوسی پھیل رہی ہے ۔اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ ایسی تنظیموں کو ملنے والی مالی امداد اور اسکے استعمال کا آڈٹ کروایا جائے اور انکی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے۔ (ختم شد)