میرے ہمراہ نہ جگنو نہ ستارا نہ چراغ

کسی سے شدید محبت کے باوجود اسی کی کسی بُری عادت سے انسان کس قدر چڑ جاتا ہے۔ ٹھیک اسی طرح پاکستان سے عشق ہونے کے باوجود آج ہر پاکستانی بالآخر چڑ کر کہہ اٹھتا ہے کہ کیا مصیبت ہے، ہم یہاں کیوں پیدا ہو گئے ۔ ظاہر ہے گرین پاسپورٹ کو پاکستانی حکومتوں کی نااہلیوں اور کرپشن کی وجہ سے باہر مشکوک نظر سے دیکھا جاتا ہے ۔ اس میں ایک عام پاکستانی کا کیا قصور ہے؟
سب کیا دھرا تو ارباب اختیار کا ہے۔ پاکستان میں آج امن و امان کے نام پر پورا ملک چڑیا گھر بنا دیا گیا ہے۔ جگہ جگہ ناکے اور جگہ جگہ سکیورٹی گیٹ، ہر گھر کی دیوار وں اور دروازوں پر حفاظتی خاردار باڑیں لگا رکھی ہیں، جس کی بساط ہے اس نے گارڈ بھی رکھے ہوئے ہیں، اس سے پہلے کبھی پاکستان اتنا غیر محفوظ تو نہیں تھا۔ اب سابق صدر پرویز مشرف نے بھی اعتراف کر لیا ہے کہ انہوں نے پاکستان پر ڈرون حملوں کی اجازت دی تھی۔ پرویز مشرف سے پہلے بھی جو حکمران گزرے ہیں ان کے بھی سیاہ کارناموں سے تاریخ بھری ہوئی ہے۔ قائداعظم کے بعد لیاقت علی خان اور محمد خان جونیجو کے علاوہ جتنے بھی حکمران گزرے ہیں سبھی نے کہیں نہ کہیں اقتدار کی خاطر پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور اب نگران حکومت سے قبل کی وفاقی و صوبائی حکومتوں نے پاکستان کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ عوام اب ہاتھ جوڑ کر کہہ رہے ہیں کہ خدا کیلئے ہمیں اور ہمارے پاکستان کو معاف کر دو۔ اس وقت پاکستان لوڈشیڈنگ اور پٹرولیم مصنوعات کے بدترین عذاب سے گزر رہا ہے، آنے والے دنوں میں بڑھنے والی گرمی اور لوڈشیڈنگ سے جتنی اموات ہوں گی اس کا اندازہ یہ غاصب، خود غرض اور کرپٹ سیاستدان لگا ہی نہیں سکتے۔ لوگوں کو کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ ملک میں نہ روزگار ہے نہ وسائل نہ وظیفے نہ تنخواہ ہیں، مستزاد یہ مہنگائی نے عوام کو اذیتوں سے دوچار کر دیا ہے۔ اس پر لوڈشیڈنگ نے سارا کاروبار حیات ہی معطل کرکے رکھ دیا ہے۔
بدترین لوڈشیڈنگ کی وجہ سے نہ انسان کام کر سکتا ہے اور نہ ڈھنگ سے آرام کر سکتا ہے۔ سابق حکمران اور سیاستدان کیا جانیںکہ بیروزگاری، مہنگائی اور لوڈشیڈنگ کیا ہوتی ہے وہ تو قومی خزانہ لوٹ کر اپنے ملکی غیر ملکی بنک بھر چکے ہیں، یہ کون سا ان کے ابّا جان کا روپیہ ہے جو انہیں درد ہوگا۔ پاکستانی سیاستدانوں کی دولت کے پیچھے ایسے گھناﺅنے راز ہیں جو لوگ آج اپنی الیکشن مہم چلانے کیلئے غریبوں کی حالت بدلنے اور عوامی خدمت کے دعویدار ہونے کے نعرے لگا رہے ہیں اور اشتہار چلا رہے ہیں، وہ سب جھوٹ کا پلندہ ہیں۔
سابق حکمرانوں کی تاحیات سکیورٹی، پُرتعیش مراعات سے پردہ اٹھا دیا جائے تو ان سب کا انجام فلپائن کے سابق صدر آنجہانی مارکوس جیسا ہو اور عوام ووٹ دینے کے بجائے سب کو ملک بدر کر دیں۔ ایک غریب ترین ملک جو قرضوں میں جکڑا ہوا ہے اس کے سیاستدانوں کے پاس اپنے عہدوں سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی اربوں روپوں کی درجنوں گاڑیاں ہیں، سکیورٹی گارڈز ہیں اور وہ تمام مراعات حاصل ہیں جو وزیراعظم، وزیر اعلیٰ، وزیر، سپیکر، ڈپٹی سپیکر ہونے کے ناطے حاصل تھیں حتیٰ کہ امیروں کے پاس بھی ابھی تک سرکاری گھر، گاڑی اور الاو¿نسز موجود ہیں۔
 پاکستان میں جس جمہوریت کا رونا رویا جاتا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی آئی ہی نہیں، پاکستان میں جمہوریت کا راج ایک دن بھی نہیں رہا۔ جس جمہوریت کے نام پر ہمارے حکمران آمریت کا کھیل کھیلتے ہیں۔ اس سے کہیں بہتر ہوتا ہے کہ فوج ملک کا نظم ونسق سنبھال لے۔ ہم ہر سطح، ہر جگہ، ہر محکمے اور ہر سیاستدان سے مایوس ہیں۔ ہر طرف کرپشن کا راج ہے اور بیچارہ عام پاکستانی پسا ہوا ہے۔ ووٹ دیکر بھی وہ صرف وعدے پر مات کھاتا ہے، ہر مرتبہ دھوکا اسکا مقدر بنتا ہے۔ ہر بار مایوسی اسکا منہ چڑا تی ہے۔ پاکستان کو جمہوریت کبھی راس نہیں آئی ۔ جمہوریت کے نام پر پاکستان کا استحصال کیا گیا اور جمہوریت کی آڑ میں ملک کو بیچا گیا ہے حقائق سے پردہ اٹھایا تو ہر شحض ہراساں ہو جائے گا۔
جمہوریت کیلئے جس رویہ، جس لچک اور جس رواداری کی ضرورت ہوتی ہے ہمارے سیاستدان اس سے بے بہرہ ہیں نہ ان کے اندر جمہوریت ہے نہ ان کی پارٹی میں جمہوریت ہے اور نہ ان کے عمل میں جمہوریت ہے یہ جمہوریت سے عاری سیاستدان ہیں۔ ان کے رویوں میں آمریت گھلی ہوئی ہے۔ یہ اپنے خلاف کیا بات سُنیں گے، یہ تو اپنے حقائق نہیں سُن سکتے، یہ سچ کی آواز کو گولی سے دبا دیتے ہیں۔ کوئی کڑوا سوال کر دے تو منہ بنا لیتے ہیں بلکہ کہلوا دیتے ہیں کہ آئندہ یہ رپورٹر پریس کانفرنس میں نہ بھیجا جائے۔
پیپلز پارٹی نے پانچ سالوں میں کرپشن کے عالمی ریکارڈ قائم کر دئیے ہیں اور دنیا کی عظیم لیڈر بے نظیر بھٹو کی روح کو کچوکے لگائے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کا سفاکا نہ قتل ہی غیر جمہوری رویہ کا عکاس ہے اوراس سے بھی بڑھ کر یہ کہ بی بی کی پارٹی اور شوہر ملک کے سیاہ و سفید کے پانچ سال مالک مختار رہے لیکن کسی نے بے نظیر بھٹو کے قاتل نہیں پکڑے ۔
 اس کی وجہ سب جانتے ہیں لہٰذا اس بار پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں پڑیںگے۔ ق لیگ لنگڑی لولی ہوگئی ہے اس لئے انہیں بھی مانگے تانگے کے ووٹ پڑیں گے۔ دینی جماعتوں نے طالبان کے حوالے سے کچھ نہیں کیا۔ اس لئے وہ بھی آﺅٹ ہیں۔
مسلم لیگ ن 25 سال حکومت میں رہی اور اب پانچ سال بھی انہوں نے منافقت کی سیاست کی۔ پنجاب میں بھی حاکم رہے او وفاقی حکومت میں بھی فرینڈلی اپوزیشن کی جس کی وجہ سے بدنامی حصے میں آئی ہے۔ ویسے بھی پہلے مسلم لیگ ن نے پچھلی حکومتوں میں کون سے شاندار کارنامے سرانجام دئیے ہیں جو لوگ ووٹ دیں گے۔ لوگ مسلم لیگ کی موروثی سیاست ، اقربا پروری اور محض زبانی کلامی دعوﺅں سے عاجز ہیں اس لئیے مسلم لیگ ن بھی نااہل ہے۔
 رہ گئی تحریک انصاف تو تحریک انصاف سے بہت سی امیدیں اور توقعات بندھی تھیں لیکن عمران خان خود اپنی پارٹی میں انصاف نہ کر سکے، وہ چند سو کارکنوں کو انصاف نہ دے سکے، چند درجن ٹکٹوں کو منصفانہ تقسیم نہیں کر سکے اور میرٹ کی دھجیاں، انصاف کا مذاق اڑا کر وہ کیسے پورے ملک میں انصاف مہیا کر سکتے ہیں۔ اب عوام اتنے ناسمجھ بیوقوف نہیں رہے کہ جو لوگ ان کا حق مار کرکھا جائیں وہ انہی کو دوبارہ ووٹ دیں۔ ویسے بھی اس وقت پاکستان میں الیکشن کیلئے حالات سازگار نہیں ہیں اور نہ ہی الیکشن ہونے ہیں۔ اگر ہوئے تو اس قدر خوفناک ہونگے کہ ہمیں سنبھلنے کا موقع نہیں ملے گا۔ بہرحال اس بہانے سیاستدانوں کا کمایا ہوا ناجائز پیسہ ضرور نکل جائے گا اور ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئیگا کیونکہ الیکشن تو ہونے نہیں اسی لئے تو کہتی ہوکہ ....
گرد سی جم گئی ہے لہجوں پر
لفظ خالی ہوئے فصاحت سے