موجودہ الےکشن اور سازشی عناصر

وطنِ عزےز مےں انتخابی سرگرمےاں اپنے عروج پر ہےں۔ ن لےگ پنجاب کے بعد اب سندھ کے نمائند وں پر مشاورت کررہی ہے ۔ سندھ مےں پےرپگاڑا اور ن لےگ کا اتحاد دوسری جماعتوں کے لےے خطرے کی گھنٹی نہےں بلکہ گھڑےال ثابت ہوگا۔لاڑکانہ کا حلقہ انتخاب جو پےپلزپارٹی کا گھر سمجھاجاتا رہا ہے وہاں بھی اب حالات پہلے جےسے دکھائی نہےں دے رہے۔ اس حلقے مےں فرےال تالپور کو ن لےگ کے امےدوار امےربخش بھٹوسے سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غالب امکان ےہی ہے کہ اس دفعہ بازی امےربخش بھٹو کے ہاتھ رہی گی۔ کےونکہ عوام کی عدالت کا احتساب مخصوص حالات مےں سپرےم کورٹ سے بھی کڑا ہوا کرتا ہے۔ عوام اگر احتساب کرنے پر اُتر آئےں تو پھر مخالف اُمےدواروں کی ضمانت بھی ضبط ہوجاےاکرتی ہے۔ اس بار سندھی عوام احتساب کے موڈ مےں نظرآتی ہے کےونکہ انہوں نے گزشتہ پانچ سال مےں سےلاب کی تباہ حالی اور غرےب ہاری کی بدحالی پر وڈےروں کی بے حسی اور نام نہاد لےڈروںکے کاغذی بےانات کے سوا کچھ نہےں دےکھا۔ جعلی امدادی کےمپوں مےں جس طرح ان کی بے بسی کا مذاق اُڑاےا جاتا رہا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہےں ہے۔
قارئےن ! ماضی کے جعل سازوں کو مقافاتِ عمل کی توقع رکھنی چاہےے اور اس کا منظرنامہ کچھ اس طرح سے ہوگا کہ عوام کا ہجوم تو وڈےروں کے انتخابی کےمپوں مےں نظرآئے اور جب ووٹوں کی گنتی کا عمل شروع ہو توپتہ چلے کہ ان کے بےلٹ باکس بالکل اسی طرح خالی پڑے ہےں جس طرح امدادی کےمپ امدادی سامان سے خالی ہوا کرتے تھے۔
قارئےن!موجودہ انتخابی عمل کو وےسے تو بہت سی دشوارےوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے ان مےں سے دو بہت نماےاں ہےں۔ نمبراےک ، دہشت گردی کا خطرہ اور دوسرے نمبر پر خودساختہ قسم کی لوڈشےڈنگ۔ پہلے ہم ذکر کرتے ہےں پشاور کا جہاں سابق وفاقی وزےر غلام احمد بلور کے جلسے مےں خودکش حملہ ہوا ہے۔ اسکے علاوہ بلوچستان کے ضلع چاغی مےں ن لےگ کے صوبائی صدر نواب ثنا اللہ زہری کے قافلے کو بھی رےموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بناےا گےا ہے۔پشاور ہی کے اےک اور علاقے گلبہارنمبر 2 مےں پےپلزپارٹی کے نامزد اُمےدوار ذوالفقار افغانی کے گھر کے قرےب بھی دھماکہ ہوا ہے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت پشاور مےں کوئی جماعت بھی دہشت گردی کے حملوں سے محفوظ نہےں ہے۔اس دوران اے اےن پی کے سربراہ اسفندےارولی خان صاحب نے الےکشن کمےشن پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے ”الےکشن کمےشن کو تو ےہ پڑی ہے کہ کس کی کتنی بےوےاں ہےں اور ان مےں سے کون سی زےادہ خوبصورت ہے؟“
قارےن! ہمارے خےال مےں الےکشن کمےشن پر ےہ الزام بالکل بے بنےاد اورمن گھڑت ہے۔ کےونکہ ہم سمجھتے ہےں کہ دوسروں کی بےوےوں کی خوبصورتی کو جانچنے اور پرکھنے کا کام الےکشن کمےشن کے دائرہ کار مےں نہےں آتا۔ وےسے بھی ہم نے آج تک نہ دےکھا اور نہ ہی کہےں سنا کہ محض خوبصورت بےوی کی بدولت کسی امےدوار کو کامےابی نصےب ہوئی ہو۔ ماضی مےں ذہےن بےوےاں اپنے مردوں کی کامےابی کا باعث ضرور بنتی رہی ہےں۔ لےکن خوبصورتی کا حوالہ ہم پہلی دفعہ سن رہے ہےں۔ اس کے علاوہ بےوروکرےسی مےں خوبصورت بےوی کی وجہ سے کتنی ترقی مل سکتی ہے اس بارے بھی ہمارا علم ناقص ہے اس لےے اس سلسلے مےں ہم کچھ کہنے کی پوزےشن مےں نہےں ہےںجبکہ مخالفےن ےہ کہتے سنے گئے ہےں کہ اے اےن پی نے ماضی مےں جوبوےا تھا آج وہی کاٹ رہی ہے۔
قارئےن! وہ عوام جو جلسوں مےں نہےں جا رہے ان پر لوڈ شےڈنگ کے حملے جاری ہےں گزشتہ دنوں سے ان حملوں مےں کافی تےزی آگئی ہے۔ اس بات کا خدشہ ظاہر کےاجارہا ہے کہ دراصل لوڈشےڈنگ عوام کے جذبات کو مشتعل کرنے کی سازش ہے تاکہ ان کا حوصلہ اور ہمت جواب دے جائے اور اس طرح انہےں پُرتشدد احتجاج کی جانب دھکےلا جا سکے۔ اس صورتحال مےں عوام راتےں سڑکوں پر گزارنے پر مجبور ہےں۔
طوےل اور بدترےن لوڈشےڈنگ کو سازش قرار دےاجارہا ہے اس سازش کے پےچھے ان عناصر کا ہاتھ ہو سکتا ہے جو ملک مےں انتخابی عمل نہےں چاہتے کےونکہ اےسے گروپ ملک مےں ٹےکنوکرےٹ حکومت کے حامی ہوتے ہےں ےہ سازشی عناصر امرےکی اور ےورپی حماےت کے بھی دعواےدار ہوتے ہےں۔ اس کی دلےل وہ ےہ پےش کرتے ہےں کہ امرےکی مالےاتی اداروں کے لےے فردِ واحد سے ڈےل کرنا آسان ہوتا ہے جبکہ جمہورےت مےں منتخب نمائدوں سے معاملات کرنا مشکل ہوتا ہے۔ گزشتہ حکومت کی کارگزاری کو دےکھتے ہوئے ہمےں اس دلےل مےں کوئی وزن معلوم نہےں ہوتا۔ اس وقت تو ہمےں نجم سےٹھی کے بتائے گئے خدشات بھی کافی پرےشانی مےں مبتلا کر رہے ہےں۔
قارئےن! ہمارے ہاں ےہ رواےت عام ہے کہ لوگ اپنی ناکامی اور نااہلی کو دوسروں کے سر پر تھوپ دےتے ہےں۔ اب بھی توانائی کا شعبہ کوئی حل نکالنے کی بجائے اپنی کارگزاری کو حکومت کے سر ڈالنے مےں مصروف ہے۔ بارہا ناکامیوں کا منہ دےکھنے کے باجود ٹےکنوکرےٹ حکومت کے آرزومند سازشی عناصر چاہتے ہےں کہ حالات اس قدر ابتر کر دےئے جائےں کہ الےکشن ہوہی نہ سکےں۔( جس کا کوئی امکان دکھائی نہےں دےتا) اور دوسری جانب تحرےکِ طالبان کی طرف سے اے۔ اےن ۔ پی اور دوسری سےاسی جماعتوں کو الےکشن سے دور رکھنے کیلئے حملے شروع کر دےئے گئے ہےں۔ اگر کسی اےک جلسے پر دھماکہ ہوتا ہے تو اسکے کےا اثرات مرتب ہوں گے؟ کےا موجودہ صورتحال مےں سےاسی جماعتےں کھل کر انتخابی مہم چلا سکےں گی؟ ےہ بہت اہم سوال ہےں۔ کےا الےکشن کمےشن حفاظتی انتظامات کرسکے گا؟    
قارئےن! الےکشن کمےشن پر جتنے بھی سوالات اُٹھائے جائےں اےک بات طے شدہ ہے کہ اب موجودہ الےکشن مےں پٹوارےوں سے ووٹ نہےں ڈلوائے جا سکےں گے۔ 70کی دہائی کے الےکشنوں کے بعد ےعنی 43 سال کے بعد ےہ اےک بڑی کامےابی ہے جس کا ثمر عوام کو عنقرےب ملنے والا ہے۔