شمالی کوریا اور امریکہ کا میزائل بحران

بوئے گل نالہ¿ دل دود چراغ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
شمالی کوریا کے متوقع میزائل تجربے نے مشرق بعید میں امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک جاپان اور جنوبی کوریا کو شدید ایٹمی خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ شمالی کوریا نے تین ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے ایک بیلسٹک میزائل کو ایندھن سے لیس کر کے تجربے کے لئے تیار کر لیا ہے۔ سوڈان نامی یہ میزائل سن 2000ءکی ملٹری پریڈ میں دکھایا گیا تھا مگر اس کا تجربہ نہیں کیا گیا ہے۔ جنوبی کوریا کے وزیرداخلہ بون بائیونگ نے پارلیمان کو بتایا ہے کہ یہ تجربہ کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ اقوام متحدہ نے 2006ءمیں پیانگ یانگ پر ایٹمی تجربے یا کسی میزائل تجربے پر پابندی عائد کی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر میزائل جاپان، جنوبی کوریا اور کسی ملک میں غلط نشانے پر جا لگے تو پھر یہ ناقابل بیان تباہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ جنوبی کوریا نے اس خطرہ کے حوالے سے سکیورٹی گشت بڑھا دیا ہے جبکہ جاپان نے بھی احتیاطاً ٹوکیو میں اینٹی میزائل دفاعی نظام نصب کر دیا ہے۔
شمالی کوریا سے پیدا شدہ میزائل خطرات سے عہدہ برا ہونے کے لئے امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ جان کیری نے جنوبی کوریا، چین اور جاپان کا ہنگامی دورہ کیا ہے۔ اس نے سیول میں بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے ممکنہ میزائل تجربہ اشتعال انگیز قدم اور بڑی غلطی ہو گا۔ امریکہ کسی بھی صورت شمالی کوریا کو ایٹمی طاقت تسلیم نہیں کرے گا۔ دوسری جانب جی ایٹ ممالک نے بھی لندن میں منعقدہ وزرائے خارجہ سطح اجلاس میں شمالی کوریا کے جوہری اور بیلسٹک پروگرام کی شدید مذمت کی ہے اور اسے کہا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی سے باز رہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے بھی کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ کوریا کا تنازع خطہ میں کوئی مسائل پیدا نہ کرے۔ اس نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اس تنازع کو سفارتی ذرائع سے حل کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے ٹوکیو پہنچ کر کہا ہے کہ شمالی کوریا مذاکرات کی میز پر واپس آ جائے ورنہ واشنگٹن ہر صورت اپنے اتحادیوں کا دفاع کرے گا۔ اس نے اپنے جاپانی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ٹوکیو سے مل کر کوریائی خطے میں کشیدگی کا پرامن حل ڈھونڈ رہے ہیں۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی بحران پر قابو پانے کے لئے جاپان اور جنوبی کوریا کے رہنماﺅں سے تبادلہ خیال کیا ہے مگر شمالی کوریا نے مذاکرات کی پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔ بقول غالب ....
مریض عشق پر رحمت خدا کی
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
امریکہ کے وزیر خارجہ گذشتہ دنوں مریض عشق شمالی کوریا کے مرض کی دوا تلاش کرتے ہوئے چین کے صدر مقام بیجنگ بھی پہنچے اور چینی صدر ژی چن پنگ سے تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو کے دوران جان کیری نے بتایا کہ امریکہ کو جزیرہ نما کوریا، ایران کے ایٹمی ہتھیاروں، شام کی خانہ جنگی اور مشرق وسطیٰ کے سیاسی بحران کے ساتھ عالمی اقتصادی چیلنجوں کا سامنا ہے جن پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور چین نے جزیرہ نما کوریا کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لئے مل جل کر کام کرنے کا عزم کیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ مل کر شمالی کوریا کو اس بات پر رضامند کرنے کے عمل میں شریک ہو گا کہ وہ اپنا جوہری پروگرام ترک کر کے تمام معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔ چینی صدر ژی جن پنگ نے اعلان کیا ہے کہ دنیا اس وقت ایک بہت نازک وقت سے گزر رہی ہے جس میں بہت سے پیچیدہ مسائل درپیش ہیں ان مسائل میں ایران اور ا سکے جوہری ہتھیاروں کا مسئلہ شام کا مسئلہ اور فلسطین کا مسئلہ نمایاں ہیں۔ اس موقع پر چینی وزیر خارجہ نے بھی کہا کہ جزیرہ نما کوریا میں جوہری ہتھیاورں کے مسئلے کو صحیح طور پر حل کرنا تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے لئے امریکہ اور چین نے سائبر سکیورٹی ورکنگ گروپ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے ٹوکیو میں اپنے منصب فومیو کشیدہ سے گفتگو کرنے کے بعد شمالی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز کرے۔ جان کیری نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ امریکہ اپنے اتحادی جاپان کا دفاع کرنے کا پابند ہے۔ تاہم اس نے کہا ہے کہ وہ مناسب وقت پر شمالی کوریا سے براہ راست رابطہ بھی کریں گے کیونکہ اس بحران کو پرامن سے ذریعے سے حل کرنا امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔ شمالی کوریا کے موجودہ میزائل بحران میں امریکہ کے وزیر خارجہ کی موجودہ دوڑ دھوپ اور تشویش کا اظہار کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ سلسلہ اس سے پہلے بھی ایسے ہی چلتا رہا ہے مگر امریکہ بہادر کے سوچنے اور عمل کرنے کی حقیقی بات یہ ہے کہ وہ یہ غور کرے کہ اس وقت شمالی کوریا، کشمیر، ایران، شام، افغانستان اور فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے ان تمام حالات و واقعات کا پس منظر اور وجوہات کیا ہیں۔ کیا ان تمام بحرانوں میں واشنگٹن اپنا درست کردار ادا کر رہا ہے؟ امریکہ کو یہ اچھی طرح سے علم ہونا چاہئے کہ اس وقت دنیا کے مذکورہ خطوں میں پیدا شدہ بحرانوں کی بڑی وجہ خود امریکہ بہادر کی دوغلی سیاست ہے جو کہ اسرائیل کے حوالے سے کچھ اور ہے اور ایران کے حوالے سے کچھ اور ہے۔ جنوبی کوریا اور شام بھی افغانستان اور عراق کی طرح امریکہ کی بے اصول چودھراہٹ کی زد میں ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ امریکہ یہودی لابی کے اثر سے آزاد ہو کر اگر عالمی معاملات میں انصاف سے کام لے تو یہ دنیا رہنے کے لئے ایک پرامن جگہ بن سکتی ہے۔