جیالے، متوالے بمقابلہ سونامی ٹائیگرز

جب پاکستان تحریک انصاف نے پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا تو تحصیل چونیاں ضلع قصور سے تحریک انصاف کے سیاسی پلیٹ فارم سے شہزادہ آغا دارا نے حلقہ پی پی 181 سے الیکشن لڑا تھا، تب میں اور میرا دوست اعجاز ڈوگر میٹرک کے طالب علم تھے۔ ہم شہزادہ آغا دارا کے انتخابی کیمپ میں ہر وقت موجود رہتے جہاں چھوٹے موٹے کام بھی کرتے اور دوستوں کو عمران خان کے حب الوطنی کے عزائم سے آگاہ بھی کرتے تھے۔ ہمارے لئے یہ دور انتہائی کٹھن تھا کیونکہ ہمارے والدین سمیت تمام بزرگ بھٹو کے جیالے تھے ایک طرف سب کی مخالفت کا سامنا تھا تو دوسری طرف والدین کی ڈانٹ ڈپٹ جبکہ سیاسی مخالفین کا وہ گھٹیا رویہ بھی ناقابل برداشت تھا جب انہوں نے شہزادہ آغا دارا کے جلسہ میں پی ٹی آئی کے امیدوار کی تذلیل کیلئے ٹماٹر اکٹھے کئے اور ہم ان سے یہ ٹماٹر چھین کر ضائع کرتے رہے کیونکہ ہمیں پارٹی کا تقدس، شہرت، پیغام اور عمران خان کے مشن کی تقویت ہر لحاظ سے مقدم اور عزیز تھی اس لئے ہماری جدوجہد تھی کہ پی ٹی آئی کو اس سطح تک مضبوط و مقبول بنایا جائے کہ عمران خان پاکستان کو مضبوط اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لانے کا متحمل ہو سکے۔ عمران خان پاکستان کے ان سپوتوں میں سے ہیں جن پر قوم فخر کر سکتی ہے۔ کرپشن سے پاک نئے پاکستان کی تعمیر و تکمیل اور وطن عزیز کی خوشحالی کیلئے عمران خان جس راہ پر گامزن ہے یہ راستہ ہر پاکستانی کیلئے باعث نجات و کامرانی ہے۔ اسی نظریہ کے ملحوظ خاطر اور وقت کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی سے ہماری وابستگی مضبوط ہوتی چلی گئی اور شعور میں سیاسی پختگی جبکہ عمران خان کے مشن کے تکمیل کیلئے مستقل مزاجی میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ میں نے عمران خان کے خیالات سے مترادف کتاب ”جی اُٹھو“ لکھ کر حلقے کے دس ہزار گھروں میں تقسیم کر دی، نتیجے کے طور پر بھٹو کے جیالے اور لیگ کے متوالے عمران خان کے سونامی ٹائیگرز میں شامل ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزرگوں کی کثیر تعداد نے بھی حلقہ این اے 125 اور حلقہ پی پی 155، 156، 159 سے میرے کاغذات نامزدگی اپنے ہاتھوں سے جمع کرائے ہیں۔ یہ لوگ کبھی بھٹو کے جیالے اور لیگ کے متوالے ہُوا کرتے تھے اور آج میرے کاغذات کے تصدیق و تائید کنندہ ہیں۔ یہ ہمارے قائد عمران خان کی صلاحیتیوں اور سونامی ٹائیگرز کی کاوشوں کا ثمر ہے کیونکہ طفل مکتب کی سوچ کو بدلنا آسان مگر پختہ اذہان کی تبدیلی جوئے شیر لانے کے مترادف تھی۔ پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے مجھے ٹکٹ جاری نہ ہونے پر حلقہ میں حیرانی اور مایوسی کی لہر دوڑ گئی جس پر عوام نے مظاہرے کئے اور باقر بلال کیلئے ٹکٹ کا مطالبہ بھی کرتے رہے۔
 پاکستانی قیادت کے فیصلے سر آنکھوں پر لیکن حلقے کے لوگوں کی مایوسی کو دور کرنا موجودہ دور کا کٹھن کام تھا جس کو کامیابی سے سلجھا کر جب میں گھر پہنچا تو والد صاحب نے کہا کہ باقر بلال اگر تمہارے دوست بھی دوسری سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں کی طرح کھمبوں اور درختوں پر چڑھ کر یا مرغے بن کر ٹکٹ مانگتے تو تمہیں بھی طویل عرصے کی محنت کا پھل مل جاتا۔ میں نے اپنے والد صاحب سے کہا کہ اس قسم کی حرکت پڑھے لکھے نوجوانوں کے شایان شان نہیں ہوتی اور دوسری بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی ایک فیملی کا نام ہے مجھے ٹکٹ نہیں ملا تو کوئی بات نہیں جس کو ٹکٹ ملا ہے وہ بھی میرا بھائی ہے، میں ان سب بھائیوں سے مل کر اور انفرادی طور پر اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم سے ملک و ملت کیلئے کام کرتا رہوں گا۔ جیسا کہ پچھلے سال 2012ءمیں پلاننگ کمشن اور LUMS یونیورسٹی کے ساتھ گرین لمز پر کام اور پرائیویٹ سیکٹر سے پلاننگ کر کے ملک کو 23 میگا واٹ بجلی بچا کر دی ہے اور آج ہر پارٹی ملک سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی دعویدار ہے لیکن محض تقرریوں کی حد تک۔ مگر میں ببانگِ دہل اعلان کرتا ہوں کہ میں عملی طور پر ایسے منصوبہ جات کا وہ خزانہ ہوں جو ملک سے اندھیروں کو ایسے بھگانے کی صلاحیت اور تکنیک رکھتا ہے جیسے ٹائیگر گیدڑ کو بھگانے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ نئے پاکستان کی تکمیل کیلئے ہر سونامی ٹائیگر عمران خان کا زورِ بازو ہے اس لئے پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کو چاہئے کہ نووارد نوجوانوں کو خوش آمدید کہنے کے ساتھ ساتھ ماضی کے بنیادی نوجوانوں کو فراموشی سے بھی بچائیں۔ ہم ذہنی، جسمانی اور تحریری طور پر اپنے قائد عمران خان کے مشن کی لمحہ بہ لمحہ تائید کرتے رہیں گے کیونکہ ہم متحد اور مضبوط ہیں اس لئے ہمیں نہ کوئی توڑ سکتا ہے اور نہ کوئی عمران خان کے نیک مشن میں رکاوٹ بن سکتا ہے ۔