بنگلہ دیش میں پاکستان نواز رہنماﺅں کیخلاف نفرت انگیز اقدامات

حالیہ چند ہفتوں میں بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت نے جماعتِ اسلامی سے منسلک چند دینی اور سیاسی رہنماﺅں کے خلاف نفرت انگیز اقدامات کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ یہ عوامی لیگ اور شیخ مجیب الرحمن کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ بزرگ رہنما اپنی سوچ،کردار اور فکر عمل کی بنیاد پر معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ انکے خلاف عدالت کے ذریعے اپنی مرضی کے فیصلے کروا کر بنگلہ دیش کی حکومت نے دراصل اپنی پاکستان دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔ ان رہنماﺅں کے خلاف یہ فیصلے اس لیے کیے گئے ہیں کہ اُنہوں نے 1971 کے واقعات اور سقوطِ ڈھاکہ کے موقعہ پر پاکستان سے محبت اور وفاداری کا اظہار کیا تھا۔ ان مذہبی اور سیاسی رہنماﺅں میں ہندوستان کی سر براہی میں مقامی ملک دشمن عناصر کی معاونت سے لڑی جانے والی جنگ کا نہ صرف بھرپور مقابلہ کیا بلکہ اُس سازش کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان رہنماﺅں کا تعلق سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش سے ہے۔ چالیس سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد اس طرح کے گڑے مردے اُکھاڑ کر دراصل شیخ حسینہ واجد یہ باور کرانا چاہتی ہیں کہ اُنکی رگوں میں ایک پاکستان دشمن اور غدار کا خون آج بھی اُسی طرح رواں دواں ہے اور جو بھی الزامات اُسوقت مسلمان افواج پہ لگائے گئے اُن کا ذمہ دار بھی ایسے ہی غدار لوگ تھے جبکہ سارے مظالم 16 دسمبر کے بعد رونما ہوئے اور ان میں جن کا ہاتھ تھا وہ سب پر اظہرمن الشمس ہے۔
شیخ حسینہ کے تواتر کے ساتھ پاکستان مخالف بیانات اور حال ہی میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی G-8 کانفرنس میں عین موقعہ پر شرکت نہ کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے۔ جماعت اسلامی کے جن رہنماﺅں کو سزائے موت اور عمر قید جیسی سنگین سزائیں سنائی گئی ہیں اُنہوں نے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد ملک کے خلاف عملاً کوئی عملِ بغاوت بلند نہیں کیا، بلکہ 1971 کے واقعات کے دوران کردار کو بنیاد بنا کر سارا کیس کھڑا کیا ہے۔
مشرقی پاکستان ہمارا حصہ تھا اور جب بد قسمتی سے وہ ہم سے علیحدہ ہوا تو بہت سارے محب وطن پاکستانیوں کو مجبوراً بنگلہ دیش میں رہنے پر مجبور ہونا پڑا،بجائے اس کے کہ بنگلہ دیش کی حکومتیں ایسے لوگوں کے دل جیتنے کی کوششیں کرتیں اُن کے خلاف محاذ قائم کر کے انتہائی اقدامات کرتے ہوئے نفرت کے بیج بوئے جا رہے ہیں اور وہ بھی چار دہائیوں کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد۔ یہاں پہ امر قابلِ ذکر ہے کہ عوامی لیگ نے اپنے گزشتہ دورِ حکومت میں یہ قدم نہیں اُٹھایا۔
ان واقعات کے تناظر میں سب سے بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ سوائے جماعت اسلامی کے کسی بھی سیاسی جماعت نے اپنے ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔حکومت،میڈیا،سول سوسائٹی اور دینی و سیاسی جماعتوں کی خاموشی کسی مجرمانہ فعل سے کم نہیں۔ آخر لوگوں کا قصور تو یہی تھا کہ وہ پاکستان سے محبت کرتے تھے اور انتہائی نا مصائب حالات کے باوجود انہوں نے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا اگر ہم اپنے اس طرح کے محسنوں کو بے یارو مدد گار چھوڑ دیں گے تو وطن سے محبت کرنے سے پہلے یقینا سوچنے پہ مجبور ہو جائیں گے۔
ایک قوم کی حیثیت سے چا ہیے تو یہ تھا کہ حکومت کے بشمول پورا معاشرہ یکجا ہو کر بنگلہ دیش حکومت کے ان اقدامات کی بھر پور مذمت کرتا تاکہ دنیا کو ایک پیغام دیا جائے کہ ہم اپنے محسنوں کو نہیں بھولتے۔ سفارتی سطح پر بھی اس چیز کو اُجاگر کرتے ہوئے موثر مذمت کرنے کی ضرورت ہے۔ آخر کار سفارتی آداب اور بین الاقوامی تعلقات کی آڑ میں restrained کا اطلاق ہم پر ہی کیوں ہوتا ہے۔ کم از کم اپنا اصولی موقف تو بیان کرنا چاہیے،یہ اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ ہم اپنی نوجوان نسل کو ایک اچھا پیغام دے سکیں۔ اس سارے معاملے میں معاشرے کی مجموعی خاموشی کسی جُرم سے کم نہیں حالانکہ وہ معاملے جو ہمارے ملک کی تضحیک کا باعث بنتے ہیں اس کے میڈیا سمیت کوئی بھی مہربہ لب نہیں رہتا۔
یہ رہنما اور ان جیسے تمام لوگ قابلِ ستائش ہیں کہ انہوں نے تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہاں یہ امر بھی قابل ِذکر ہے کہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی ایک اہم دینی و سیاسی جماعت ہے جس نے بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سے لے کر آج تک تمام انتخابات میں نہ صرف حصہ لیا ہے بلکہ پارلیمنٹ تک رسائی بھی حاصل کی ہے جو کہ اس بات کا ثبو ت ہے کہ سقوطِ ڈھاکہ کے کربناک المیہ کے بعد اس جماعت اور اس کے رہنماﺅں نے بنگلہ دیش کی ریاست کے اندر رہتے ہوئے اُس کے آئین کی پاسداری کی ہے۔ ان رہنماﺅں کو سنائی جانے والی سزائیں دراصل ایک پاکستان مخالف ذہنیت کی عکاس ہےں جسے ہمارے دشمنوں بالخصوص ہندوستان کی تائید اور حمایت حاصل ہے۔ زندہ قومیں اپنے محسنوں کو کبھی بھولا نہیں کرتیں۔ لہذا معاشرے کے تمام طبقات بالخصوص میڈیا اور سیاسی جماعتوں کو اس سلسلے میں ایک بھر پور اور یکجا موقف اپنانا چاہیے۔ اس کے برعکس وہ مکتی با ہنی اور مجیب با ہنی کی سازشوں اور لوٹ مار کو نظر انداز کرتے رہے۔۔۔آخر یہ کیسی رسم دنیا ہے کہ کرے کوئی اور بھر ے کوئی۔۔۔!
آج پاکستان سے محبت کی سزا کاٹنے والے سراپا سوال ہیں اور ان کی نگاہ اپنے وطن کے غیور عوام کی طرف لگی ہوئی ہیں کیا ہمیں اس انڈین لابی اور بنگلہ دیش کی حسینہ واجد کی نفرت اور تعصبانہ رویے کی کھل کر مذمت نہیں کرنی چاہیے؟کیا اپنے وطن سے محبت جرم ہے؟