اپنا اپنا خواب

 ہم دوست اکٹھے ہوئے تو ایک دوست نے مشورہ دیا کہ آج ہم کسی پامال اور گھسے پٹے موضوع کو اپنی باتوں کا حصہ نہیں بتائیں گے۔ آج ہر کوئی اپنا اپنا خواب بیان کرے گا۔
ہمارے ایک دوست نے کہاکہ میں نے آج ایک عجیب خواب دیکھا ۔ میں بیدیاں روڈ پر بھٹہ چوک سے آر اے بازار کی طرف سے آرہا تھا۔ آج سڑک پر کسی قسم کا کوئی ناکہ نہیں تھا۔ میں روزانہ جب اپنے پاک فوج کے جوانوں کو بوٹ پٹی‘ کلاشنکوفوں اور بندوقوں کی بھاری ذمہ داریوں میں بندھا ہوا اور صبر و شکر کا پیکر بنا ہوا دیکھتا تھا تو دل کی ہر دھڑکن سے یہ دعا ابھرتی تھی کہ اللہ میاں! وطن کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے ان پرخلوص خاکی پیکروں کی یہ زائد ڈیوٹی‘ جو امریکہ بہادر نے لگوائی ہے‘ ختم فرما دے اور ہمارے ملک کو امن و سکون کا گہوارہ بنا دے اور ان جوانوں کو آسان باش کر دے۔ آج میں فوجی فا¶نڈیشن کے قریب پہنچا تو مجھے وہاں وہ سرخ و سفید رنگ کی آہنی ریلیں بھی نظر نہ آئیں۔ میں مال روڈ پر پہنچ گیا۔ فورٹریس سٹیڈیم کے سامنے والے ناکے بھی دکھائی نہ دئیے۔ وہاں ایک درخت کے تنے سے ایک رسہ لٹک رہا تھا‘ جس کے ساتھ ایک آدمی بھی لٹکا ہوا تھا۔ چند لوگ اس کے اردگرد کھڑے تھے۔ ان لوگوں کے چہرے خوشی سے تمتما رہے تھے۔ میں نے ایک شخص سے پوچھا کیا یہ شخص درخت سے اترنے کا کوئی طریقہ بتا رہا ہے۔ اس شخص نے قہقہ لگایا۔ کہنے لگا۔ تمہیں علم نہیں عمران خان آچکا ہے۔ یہ علاقے کا ایک کرپٹ قصائی تھا۔ یہ گوشت کم تولتا تھا۔ یہ بیمار جانوروں کا گوشت فروخت کرتا تھا۔ ہڈیاں اور چھیچھڑے ہر گاہک کو دینا اپنا فرض عین سمجھتا تھا۔ اس علاقے میں ہیپاٹائٹس سی کا مرض اتنا عام تھا کہ ہر شخص ٹیکے لگوانے کا کورس مکمل کر رہا تھا۔ آج ہم72ٹیکے لگوانے والے اس کرپٹ قصائی کا انجام دیکھنے آئے ہیں۔ آج ہمیں انصاف مل گیا ہے۔ واہ عمران خان! جو کہا‘ سچ کر دکھایا‘
میں اگلے چوک پر پہنچا۔ یہاں پہلے سے زیادہ لوگ جمع تھے یہاں بھی میری آنکھیں پچھلے چوک والا منظر دیکھ رہی تھیں۔ میں نے رسے کے ساتھ لٹکے ہوتے شخص کے گرد کھڑے ایک شخص سے سرگوشی کے انداز میں استفسار کیا کہ یہاں کیا واقعہ ہوا ہے؟ اس نے قہقہ لگایا۔ آج خان نے کلیجے میں ٹھنڈ ڈال دی ہے۔ ہمارے علاقے میں فیکا چنے والا بہت مشہور تھا۔ اس نے اپنے چنوں کا دیگچہ عین اس جگہ نصب کیا ہوا تھا‘ جس کے نیچے سے گندہ نالہ گزرتا تھا‘ وہ اپنی لمبی اور گندی قمیض کے دامن سے پلیٹیں صاف کرتا اور اپنی ناک اور ہاتھ بھی اسی سے صاف کرتا۔ اس کے ہاتھ میں کیا ظالم ذائقہ تھا کہ بڑے بڑے بنگلوں اور کوٹھیوں کے مالک گندے نالے کے اوپر بیٹھ کر ناشتہ کیا کرتے تھے۔ فیکے چنے والے کا جرم یہ تھا کہ اس نے شہر سے باہر بھٹیاں لگائی ہوئی تھیں‘ جو مردہ جانوروں کی چربی اور آنتوں سے گھی تیار کرتی تھیں۔ آج ہم فیکے کا انجام دیکھنے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ اگرچہ ہم بھی معدے اور جگر کے کینسر میں مبتلا ہیں اور ہم بھی مستقبل قریب میں اپنے انجام کو پہنچ چائیں گے۔ جتنا فیکے کے چنوں کا مزہ آتا تھا‘ آج اسے لٹکا ہوا دیکھ کر اتنا ہی مزہ آرہا تھا۔ اللہ بخشے‘ گھریلو خواتین کو خوب آرام دلایا تھا۔ عوام کی بہت خدمت کی اور اپنے کام سے کام رکھا۔
اگلے چوک میں بھی ایک شخص رسے سے لٹکا ہوا تھا۔ ہم نے پوچھا کہ یہ شخص کون تھا۔ لوگوں نے بتایا کہ اس شخص نے اس خوبرو لڑکی کے چہرے پر تیزاب پھینکا تھا‘ جس کے والدین نے اس آوارہ اور بدمعاش شخص کو رشتہ دینے سے انکار کیا تھا۔ ہمارے دوسرے دوست نے خواب سنایا۔ ہر طرف پل ہی پل ہیں۔ کشادہ اور شیشے کی مانند سڑکیں ہی سڑکیں ہیں۔ اوپر بھی سڑکیں‘ نیچے بھی سڑکیں‘ دائیں بھی سڑکیں اور بائیں بھی سڑکیں تھیں۔ حتیٰ کہ خلا میں بھی سڑکیں تھیں۔ جہازوں نے اتنی صاف ستھری اور معیاری سڑکیں دیکھ کر خلا میں اڑنے سے انکار کر دیا ہے اور انہوں شہباز شریف صاحب تعمیر کردہ سڑکوں پر پرواز کرنا شروع کر دیا ہے۔ ویل ڈن شہباز شریف صاحب ویل ڈن میں شہباز شریف زندہ باد شہباز شریف زندہ باد کے نعرے لگا رہا تھا کہ میرے والد صاحب نے میرے چہرے پر پانی کے قطرے گرانا شروع کر دئیے میری آنکھیں کھلیں تو انہوں نے کہا۔ صبح کی اذان ہو چکی ہے۔ نماز ادا کرو۔“