کراچی میں قیام امن کی کوششیں.... توقعات و خدشات

کالم نگار  |  مجید غنی

سالہاسال سے بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، لوٹ مار اور دھماکوں کا شکار پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بالآخر ٹارگٹڈ آپریشن کا فیصلہ ہو گیا۔ آپریشن رینجرز کریگی۔ اس حوالے سے رینجرز کے اختیارات میں اضافے کیلئے مرکزی حکومت کی طرف سے صوبائی حکومت کو احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔ کراچی میں امن و سکون قصہ پارینہ بن چکا ہے کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب انسانی خون سے کوئی نہ کوئی سڑک یا سڑکیں سرخ نہ ہوتی ہوں۔ عدم تحفظ کا شکار اس شہر میں گھر سے نکلنے والے کسی فرد کواپنی خیریت سے واپسی کا یقین نہیں ہوتا۔ لوگوں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے۔ تاجروں سے بیانگ دہل بھتہ وصول کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دو کروڑ آبادی پر مشتمل اس شہر میں ایک بھی گھر ایسا نہیں جس کے کسی نہ کسی فرد کو چوری، ڈاکے، موٹر سائیکل، موبائل، نقدی چھیننے جیسی کسی صورتحال سے سابقہ نہ پڑا ہو۔ شہر میں غیر قانونی اسلحے کی بھرمار ہے۔ یہاں قانونی کاروبار اور لین دین کیساتھ تقریباً 82 کروڑ روپے روزانہ پر مشتمل ایک غیر قانونی بلیک اکانومی چل رہی اوراسی اکانومی پر قبضے کی جنگ نے کراچی کو اس صورتحال سے دوچار کیا ہوا ہے۔
گزشتہ دنوں کی طویل مشاورت، سیاسی رہنماﺅں سے ملاقاتوں، قانون نافذ کرنیوالے ادارے کی بریفنگ، تاجر رہنماﺅں سے بات چیت کے بعد وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی میں بحالی امن کیلئے ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائیگا اور یہ آپریشن رینجرز جبکہ پولیس اس کو سپورٹ فراہم کرے گی۔ وفاقی حکومت نے چارکمیٹیاں تشکیل دی ہیں۔ ایک کمیٹی وزیراعلی سندھ کی سربراہی میں کام کریگی جس میں وفاقی وزارت داخلہ، انٹیلی جنس، رینجرز اور صوبائی حکومت کے نمائندے شامل ہونگے جو آپریشن کو کنٹرول کریگی۔ دوسری کمیٹی ڈی جی رینجرز کی سربراہی میں کام کریگی جو آپریشن کی حکمت عملی طے کریگی اور روزانہ کی بنیاد پر اس کمیٹی کا اجلاس ہو گا۔ تیسری کمیٹی پراسیکیوشن میں کمزوریوں کو دور کرنے کیلئے سفارشات پیش کریگی اور اس حوالے سے رینجرز کو رہنمائی فراہم کریگی جبکہ ایک مانیٹرنگ کمیٹی جوسول سوسائٹی کے افراد پر مشتمل ہو گی قائم کی گئی ہے وہ اس بات کا خیال رکھے گی کہ بیگناہ لوگ گرفتار نہ ہوں۔ مختلف کارروائیوں میں ملوث جرائم پیشہ افراد کی فہرست مرتب کر لی گئی ہے۔ رینجرز کو پراسیکیوشن کے اختیارات بھی دئیے گئے ہیں۔موجودہ حکومت اپنے انتخابی وعدوں میں ملک میں امن و امان قائم کرنے کیلئے بھرپور عزم کا اظہار کرتی رہی ہے اور مندرجہ بالا آپریشن کا فیصلہ اسی حوالے سے کیا گیا ہے۔تاہم اس حوالے سے کچھ خدشات بھی ہیں۔
ساری قوم جانتی ہے کہ سندھ کی حکمران پارٹی، لیڈر اور اعلی سطح کے وہی افسران اس آپریشن میں شامل ہیں جو پہلے بری طرح ناکام ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی اتنی بڑی ذمہ داری انکے سپرد دوبارہ کردی گئی ہے۔ وزیراعظم کئی دفعہ پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں لیکن پولیس کے وہی اعلی ترین افسر اس آپریشن ٹیم کا حصہ ہیں۔ کراچی کے تاجروں نے وزیراعظم کے ساتھ اپنی میٹنگ میں کھلے عام یہ کہا کہ موجودہ وزیراعلی اور گورنر کی موجودگی میں کامیاب اور غیر جانبدار آپریشن نہیں ہو سکتا کیونکہ دونوں کا تعلق ان سیاسی پارٹیوں سے ہے جن میں موجود عناصر کراچی کی بدامنی کے ذمہ دار ہیں۔ ایسی صورتحال میں اصل مجرموں کیخلاف کارروائی کیسے ممکن ہو گی؟ مزید براں اگر قتل و غارت کرنیوالے یہ افراد گرفتار کر لئے جاتے ہیں تو کیا کارروائی کائرہ کار انکے سرپرستوں تک بھی بڑھایا جائے گا اور انہیں بھی قرار واقعی سزا ملے گی۔ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔
 ایک اور نہایت اہم سوال یہ ہے کہ آپریشن کے حوالے سے خبریں میڈیا پر کئی دنوں سے چل رہی ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اس دوران وہ جرائم پیشہ عناصر آرام سے اپنی پناہ گاہوں میں بیٹھے رہے ہوں اور کسی دوسرے ملک یا شہر میں نہ جا چھپے ہوں جہاں کچھ عرصہ گزارنے اور ”سب اچھا ہے“ کی آوازیں لگنے کے بعد دوبارہ منظر عام پر آ کر اپنی کارروائیاں نہ شروع کر دینگے۔ بہتر یہ تھا کہ جس وقت کراچی میں آپریشن کا فیصلہ کیا گیا اسی وقت شہر کے داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی کردی جاتی اور مکمل خاموشی اختیار کی جاتی۔
جیسا کہ پوری قوم آگاہ ہے کہ ملک میں اس وقت کراچی کے علاوہ اور بہت سے بڑے مسائل جن میں بلوچستان کی صورتحال، خیبر پی کے میں دہشت گردی اور ملک کے طول و عرض میں بجلی کی لوڈشیڈنگ شامل ہیں موجود ہیں جن کا حل اس حکومت کیلئے ایک چیلنج سے کم نہیں۔ دعا ہے حکومت کراچی کے امن و امان کا مسئلہ حل کرنے میں کامیاب ہو۔