پی پی کی چہرہ سرجری اور کھسیانے لطیفے

کالم نگار  |  ظفر علی راجا

تقریباً نصف صدی قبل جب ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی تو ان کی کرشمہ ساز ذہانت نے چمکتے سورج جیسے دو نعرے اس پارٹی کا چہرہ روشن رکھنے کے لئے ایجاد کئے۔ ایک نعرہ تو روٹی کپڑا اور مکان تھا اور دوسرا غریب دوستی تھا۔ ان نعروں کے چمکتے میک اپ نے پی پی کا چہرہ اتنا روشن کر دیا کہ غریب عوام کی آنکھیں چندھیا کر رہ گئیں اور وہ اندھا دھند اسکے عشق میں گرفتار ہوتے چلے گئے۔ شدت عشق میں غریب عوام نے جانوں کے چراغ اپنی ہتھیلیوں پر اس جی داری سے جلائے کہ جیالے کہلانے لگے۔ پھر یوں ہوا کہ وقت کی حقائق بھری دھوپ میں اس روشن چہرے کا میک اپ اترنے لگا اور اسکے رخساروں پر سرمایہ داری‘ زرکاری اور سیاسی اجارہ داری کے پیدائشی داغ نمایاں ہونے لگے لیکن چندھیائی ہوئی آنکھوں والے جیالے اسکے گردا گرد دیوانہ وار رقص کرتے رہے۔ اس رقص کے فیض سے یہ پارٹی پانچ مرتبہ مسند اقتدار پر فائز ہوئی آخری دور اقتدار میں پارٹی کے چہرے سے بھٹو ازم کا میک اپ پوری طرح اتر گیا۔ جیالوں کی چندھیائی ہوئی آنکھیں کُھل گئیں اور پیپلزپارٹی کے چہرے پر پانچ سالوں میں ابھرنے والے نئے داغوں نے اس کا چہرہ اس قدر داغدار کر دیا کہ جیالے اپنا رقص درویش بھول گئے اور روز انتخاب کو پارٹی کا روز حساب بنا کر اس کے چہرے پر ایک تاریخی شکست کا ایک نیا داغ بھی لگا دیا اور اب حال یہ ہے کہ ....
نہیں ہے کوئی پہیلی‘ سبھی کو ہے معلوم
یہ داغ‘ چاند سے چہرے پہ ‘کس نے ڈالے ہیں
پیپلزپارٹی کے روشن چہرے پر داغ ڈالنے والوں کو بھی اپنے داغیہ کارناموں کا بخوبی علم ہے لیکن وہ شکست کا داغ تازہ داغ کھانے کے بعد اپنے داغ جگر کو چھپانے کے لئے فتح یاب جماعتوں کے دامن پر انتخابی بدعنوانیوں کے داغ لگانے کی داغ بیل ڈال رہے ہیں۔ اس داغ نمائی کے لئے ایسے ایسے بیان دئیے جا رہے ہیں جو پیپلزپارٹی کے اپنے چہرے کو مزید داغدار کر رہے ہیں۔ آصف زرداری ایک جہاں دیدہ اور سرد و گرم چشیدہ انسان ہیں۔ انہیں گذشتہ پانچ سال میں خود اپنے دامن‘ساتھیوں کے گریبانوں اور پارٹی کے چہرے پر لگنے والے تمام داغوں کا حساب یادہے لہذا 7 ستمبرکو شائع ہونے والی ایک خبر میں انکشاف کیاگیا ہے کہ انہوں نے ایک بڑی کاسمیٹک سرجری کے بعد پیپلزپارٹی کا ایک نیا اور روشن چہرہ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ زرداری صاحب کی بے مثال فطانت سے ناہید خان‘ بابر اعوان‘ نبیل گبول‘ جہانگیر بدر جیسے چہرے تو پہلے ہی پردہ پوش کر چکی ہے۔ اب شنید ہے کہ یوسف رضا گیلانی پرویز اشرف‘ امین فہیم‘ منظور وٹو۔ فردوش عاشق اعوان‘ قمر زمان کائرہ‘ احمد مختار‘ اور راجہ ریاض کے چہرے پارٹی کی چہرہ سرجری کی فہرست سے نکالے جا رہے ہیں۔ ان کی جگہ جن پرانے چہروں کو سیاسی پلاسٹک سرجری کے ذریعے بے داغ بنانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔ ان میں رضا ربانی اعتزاز احسن‘ آمنہ اور بلاول کے چہرے شامل ہیںایک سیاسی نجومی کے خیربردار طوطے نے یہ فال بھی نکالی ہے کہ ان چہروں میں لطیف کھوسہ کا چہرہ بھی شامل ہے۔ لیکن اس سے قبل ان کے ریکارڈ پر لگے کچھ دوسرے داغوں کا علاج زیر غور ہے۔ کھوسہ صاحب نے خود بھی اپنے چہرے پر ابھری ہوئی چھائیاں اور شکوک کی پرچھائیاں اڑانے کے لئے چہرہ بے داغ بنانے والی سیاسی بیانات کی زود اثر کریم استعمال کرنا شروع کر دی ہے۔ انہوںنے 6 ستمبر کے دن جب پوری قوم کو یکجہتی کے نسخے الاپ رہی تھی‘ جیالوں کی ایک تقریب میں ایک نئی جہت کی شگفتہ بیان کی۔ لطیف کھوسہ کے فرمودات مختصراً یوں ہیں۔ ”آصف زرداری ووٹوں کی طاقت سے منتخب ہوئے تھے لیکن ممنون حسین جعلی صدر ہیں۔ مسلم لیگ کے جعلی مینڈیٹ کے باوجود اسے تسلیم کیا۔ عام انتخابات عوامی نہیں بلکہ ریٹرننگ آفیسرز کے انتخابات تھے۔ مسلم لیگ نون نے انتخابی دھاندلی میں اس مرتبہ پی ایچ ڈی کر لی ہے۔ مسلم لیگ والے معاہدے کر کے مکر جاتے ہیں۔ بی بی شہید کے قتل کیس میں کیوں تاخیر کی جا رہی ہے۔ انصاف میں تاخیر ظلم ہے۔ آصف زرداری نے نہیں مشرف نے بے نظیر کا پوسٹ مارٹم نہیں ہونے دیا۔ “ وغیرہ وغیرہ۔تقریب سے واپسی پر ناہید خانی قبیل کے کچھ جیالوں نے (خبر رساں طوطے کے مطابق) کھوسہ صاحب کے فرمودات کو کھسیانے لطیفوں کا نام دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زرداری ووٹوں کے ذریعے منتخب ہوئے تھے کیا ممنون حسین کو فوج نے صدر بنایا ہے۔ جعلی مینڈیٹ کوتسلیم کرنا اور جعل سازوں کو پانچ سال تک حمایت کی یقین دہانی کروانا کیا شریک جرم ہونے کے مترادف نہیں؟ اگر عام انتخابات ریٹرنگ افسروں کے انتخابات تھے تو کیا چاروں صوبوں کے گورنر اور الیکشن کمشن کے ارکان اور سربراہ پی پی کے نام زد کردہ نہیں تھے۔؟ سب سے بڑا لطیفہ یہ الزام ہے کہ بے نظیرقتل کیس میں موجودہ حکومت تاخیر کر رہی ہے۔ موجودہ حکومت تو چند ماہ قبل آئی ہے اس سے پہلے پورے پانچ سال آپ نے اپنی لیڈر کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کونسی مستعدی کا مظاہرہ کیا؟ آپ نے تو بین الاقوامی تحقیقاتی کمشن کو بھی یہ اختیار نہیں دیا کہ وہ بے نظیر کے قاتلوں کی نشاندھی کرے۔ بے نظیر کا پوسٹ مارٹم کس نے نہیں ہونے دیا اس حقیقت کا پوری قوم کو علم ہے اور اگر بے نظیر قتل میں مشرف شامل تھا اور اس نے پوسٹ مارٹم بھی نہیںہونے دیا تو آپ نے اسے باعزت طورپر گارڈ آف آنر پیش کر کے ملک سے باہر کیوں جانے دیا۔....ع
حیراں نہیں دل کو روئیں کہ پیٹیں جگر کو ہم
زرداری صاحب نے پی پی کی شکست کو طنزیہ لطائف کی نذر کرنے کے بجائے سنجیدگی سے لیا ہے۔ اپنی صدارت کے آخری روز انہوں نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ انہیں انتخابی دنگل میں شکست ہوئی ہے وہ آئندہ پانچ سال موجودہ حکومت کی حمایت کریں گے۔ اور پانچ سال بعد سیاسی دنگل میں اتریں گے۔ ہماری دلی دعا ہے کہ اس دوران پی پی کی چہرہ سرجری کے لئے اچھے سرجن دستیاب ہو جائیں جو اس پارٹی کے چہرے پر لگے تمام داغ اپنی کاسمیٹک مہارت سے مٹا دیں اور اس کا مکھڑا ایسا روشن کر دیں کہ
عارضوں پہ روشنی‘ رنگوں‘ بھری اچھی لگے
جو بھی دیکھے‘ اس کو چہرہ سرجری اچھی لگے