لاہور ہائی کورٹ مضبوط اور موثر عدالتی ماحول

کالم نگار  |  بیدار سرمدی

مرض کے آخری مرحلہ پر علاج شروع ہو تو مریض سے زیادہ ڈاکٹر پریشان ہو جاتا ہے۔ عدالتی نظام کی بہتری کے لئے لا اینڈ جسٹس کمشن کے اجلاس اس سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ سارے پریشان ہیں مگر شکر ہے کہ زیادہ نا امید نہیں۔ عدل و انصاف کے نظام کو مثال بنانا شاید اس لئے بہت زیادہ اہم ہے کہ دہشت گردی سے عوامی خوشحالی کا ایک سرا جڑا ہے۔ اوپر سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے لا اینڈ جسٹس کمشن میں شاید اسی پس منظر میں کہا ہے کہ مضبوط عدالتی نظام ہی عوام کے حقوق کا تحفظ کر سکتا ہے تو نیچے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے عدالتی سسٹم کو موثر بنانے کےلئے متعدد عملی اقدامات کئے۔ ان عملی اقدامات میں دو چار نمایاں کون سے ہیں؟ میں نے میڈیا اور لاہور ہائی کورٹ میں گزشتہ کئی برسوں سے موثر رابطے کے لئے کامیاب سینٹر پی آر او اور اسسٹنٹ رجسٹرار ایم بی شاہد سے سوال کیا تو وہ بولے”موجودہ چیف جسٹس کے دور میں پنجاب کی حد تک عدالتی نظام کو موثر بنانے کےلئے گراس روٹ لیول تک ”کراس دی بورڈ“ نئی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ مقدمات کو جلد نمٹانے اور ہر سطح پر کارکردگی بہتر بنانے کیلئے بار رومز کو اعتماد میں لیا گیا ایک طرف وکلا کی ضروریات کو بار رومز کے پلیٹ فارم سے پورا کرنے کےلئے پہلے بلاامتیاز مالی امداد فراہم کی گئی اس ضمن میں کچھ خدشات سامنے آئے تو نئے مالی سال میں مختلف بار رومز کی خواہش اور طلب کے پیش نظر قانونی کتب بھجوانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ موجودہ چیف جسٹس کی ایک اہم بات یا انفرادیت یہ ہے کہ وہ اپنے نام کی بجائے ”لاہور ہائی کورٹ“ کے ٹائیٹل کو نمایاں دیکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ بار رومز کو کتابوں کے بنڈل بھیA Gift from Lahore High Court کے ٹائیٹل کے تحت بھجوائے گئے۔ ماتحت ججوں کی کارکردگی کی بنیاد پر ان کے لئے لیپ ٹاپ کے تحفے پھر صرف ججوں کو ہی نہیں عام عدالتی معاون عملے میں بھی دیانت داری اور فرض شناسی میں نمایاں ہونے والے نائب قاصد اور اس سطح کے اہلکاروں تک کو تعریفی اسناد اور کیش انعامات سے عدالتی نظام میں مثبت رخ پر ایک تحریک اور جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اسی پالیسی کے تحت 2008ءتک کے مقدمات کے فیصلوں کا ٹارگٹ حاصل کیا گیا اور اب آگے کا سفر جاری ہے میں نے پوچھا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چودھری نے مقدمات میں نمٹانے کے حوالے سے ججوں کی کمی کا ذکر کیا ہے تو پنجاب میں ججوں کی ”مین پاور“ کا معاملہ کیسا ہے۔ کہنے لگے جج تو پنجاب میں بھی کم ہیں مگر انتظامی طور پر بااصول چیف موجودہ مین پاور سے بہترین رزلٹ لینا جانتے ہیں۔ وہ کسی پریشر کے باعث نہ کسی کو تبدیل کرتے ہیں نہ لگاتے ہیں۔ مال معاملات میں خوددار۔ حکومت سے کسی مطالبے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ حکمت و دانائی سے سرگودھا اور فیصل آباد کے مقدمات کو تیزی سے نمٹا کر اور وہاں کی بار کونسلوں کو اعتماد میں لے کر ہڑتالوں کی بدمزگی کو نارمل صورت دینا معمولی بات نہ تھی مگر جناب چیف جسٹس نے ایسا کر دکھایا اور یہ جو عدالتوں میں پودوں، پھولوں اور روشوں کی خوبصورتی نے یکدم منظر بدلے ہیں تو اس کا پس منظر؟ ایم بی شاہد جو اپنے پیارے والد محمد شفیع کی ناگہانی رحلت کے باعث صدمے کی کیفیت میں ہیں چند لمحوں کیلئے چہرے پر تازگی لاتے ہوئے بولے۔ جی ہاں یہ نئی تبدیلی ہے جو پنجاب کی عدالتوں میں لائی گئی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ دکھوں اور اداسیوں کے ماحول سے نکل کر عدالتوں میں امید اور آس لے کر آنے والے چہرے خوشگوار ماحول کو محسوس کریں اگرچہ میں نے ذاتی طور پر بھی یہ سب کچھ محسوس کیا مگر جب چودھری نذیر جاوید، اشتیاق چودھری اور اختر علی ڈوگر جیسے سینئر وکلا نے بھی بدلتے ہوئے عدالتی ماحول کا تذکرہ کیا تو اپنے مشاہدے پر یقین پختہ ہو گیا کہ اب مضبوط عدالتی ماحول کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی خواہش پوری ہونے لگی ہے کم از کم لاہور ہائی کورٹ جو تقریباً نصف پاکستان کا احاطہ کئے ہوئے ہے اس مشن کی تکمیل کےلئے مضبوط اداروں کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے جو خلق خدا کےلئے ایک اچھی اور بڑی خبر ہے۔